قندیل قتل کیس میں ناقص تفتیش ہوئی

ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ قندیل بلوچ قتل کیس میں پولیس کی ناقص تفتیش اور ملزمان سے ملی بھگت کی وجہ سے مرکزی ملزم وسیم کو سزائے موت کی بجائے عمر قید کی سزا اور باقی ملزمان بری ہوئے۔
ماہرین سمجھتے ہیں کہ ناقص پولیس تفتیش، ثبوتوں کی عدم دستیابی اور گواہوں کے ناکافی بیانات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات کے قوی امکانات ہیں کہ مرکزی ملزم کو ٹرائل کورٹ کی جانب سے دی جانے والی سزا اپیل کورٹ میں جا کر ختم ہو جائے گی۔
مفتی عبدالقوی کے وکیل حاجی محمد اسلم کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے تیار کردہ کیس میں بہت خامیاں تھیں۔ مفتی قوی شروع میں پولیس کی ایک ہائی لیول ٹیم جس میں ریجنل پولیس افسر، سٹی پولیس افسر اور دیگر افسران شامل تھے، کے سامنے پیش ہوئے اور ٹیم نے انہیں بے قصور ٹھہرایا مگر تقریباً ڈیڑھ سال بعد تفتیشی افسر نے صرف ایک فقرہ لکھ دیا کہ ’مفتی قوی کی گرفتاری باقی ہے۔‘
l 109632 125150 updatesان کا کہنا تھا کہ قریبی عزیزوں پر تو غیرت کے نام پر قتل کرنے کا الزام لگایا جا سکتا ہے لیکن باقی تین ملزمان پر یہ الزام کس طرح لگایا جا سکتا ہے اور وہ بھی اس صورت میں جب مدعی عدالت کو بتا رہا ہو کہ ان کی بیٹی پاک دامن تھی۔
مفتی قوی کے بینک اکاونٹس کا ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے سے عدالت کو قائل نہیں کیا جا سکتا کہ انہوں نے قندیل کے قتل کے لیے کسی کو اکسایا۔ حاجی اسلم کا کہنا تھا اگرچہ وہ صرف مفتی قوی کے وکیل تھے مگر باقی ملزمان کی حد تک بھی کیس نہایت کمزور تھا اور مرکزی ملزم بھی اپیل میں رہا ہو جائے گا۔
فوجداری مقدمات کے ماہر سینیر وکیل نعیم خان ایڈووکیٹ کاکہنا تھا کہ عدالت نے اپنے فیصلے میں متعدد مقامات پر پراسیکیوشن کی جانب سے تفتیش اور کیس کی تیاری کے حوالے سے خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پولیس نے مرکزی ملزم وسیم کو دفعہ 164 کا بیان قلم بند کرنے کے لیے مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنے میں عجلت کی۔ مجسٹریٹ کے سامنے ملزم نے اگرچہ خود قتل کا اعتراف کیا جبکہ دوسرے مرکزی ملزم حق نواز، جس نے بقول وسیم کے قندیل کا گلا دبایا، اس کا ذکر وسیم نے بعد میں پولیس کے سامنے کیا تاہم جب وسیم نے پولیس کو دوسرے ملزم کے بارے میں بتایا تو اسے پولیس تفتیش کا حصہ تو بنایا گیا مگر اس کا دوبارہ 164 کا بیان ریکارڈ نہیں کروایا گیا۔
Waseem Azeemاسی طرح جب پولیس نے حق نواز کو گرفتار کیا تو اس نے پولیس کے سامنے تو قندیل کو گلا گھونٹ کر قتل کرنے کا اعتراف کیا لیکن اس کو بھی مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ کرانے کے لیے پیش نہیں کیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ مجسٹریٹ کے سامنے دیا جانے والا بیان رضاکارانہ ہوتا ہے لیکن پولیس کو چاہیے تھا کہ دونوں ملزمان کو مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرتی، جس سے اس نے گریز کیا جس کا عدالت نے بھی اپنے فیصلے میں ذکر کیا کہ دونوں بیانات کو مجسٹریٹ کے سامنے قلمبند نہیں کرایا گیا، اس لیے ان کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مجموعی طور پر پراسیکیوشن نے ایک کمزور کیس عدالت کے سامنے رکھا اور بہت سے ضروری گواہ پیش کرنے میں ناکام رہی، جیسے اگر قاتلوں کو کسی نے قتل کرتے ہوئے نہیں دیکھا تو ایسا گواہ بھی نہیں تھا جس نے ملزموں کو قتل کے بعد گھر سے نکلتے دیکھا ہو یا قتل کے لیے باہم صلاح مشورہ کرتے دیکھا اور سنا ہو۔
فوجداری امور کے ایک اور وکیل فہیم اختر گل ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ پولیس کے پہلے دن کے رویے سے یہ اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ ملزمان سزا سے بچ جائیں گے۔ ایف آئی آر کے اندراج میں عجلت برتی گئی۔ عمومی طور پر فوجداری مقدمات کا اندراج پوسٹ مارٹم رپورٹ وصول ہونے کے بعد کیا جاتا ہے تاکہ صحیح دفعات کا اندراج کیا جاسکے مگر پولیس نے مدعی کے بیان اور حالات و واقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے مقدمے کا اندراج پوسٹ مارٹم رپورٹ کے وصول ہونے کا انتظار کیے بغیر کردیا۔
ان کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں درج ہے کہ قتل کے محرکات غیرت اور پیسے کا لالچ ہیں، جس سے ذہن میں فوراً سوال اٹھتا ہے کہ اگر پیسے کے لالچ میں قتل کیا گیا تو وہ کسی صورت غیرت کے نام پر قتل نہیں ہو سکتا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ ایف آئی آر نامزد ملزمان کے خلاف کاٹی گئی لیکن قتل کے وقوعہ کا کوئی ذکر نہیں ہے، یعنی قتل تو ہوا ہے لیکن اسے کسی نے ہوتے ہوئے نہیں دیکھا ہے۔ نہ تو مدعی قتل کا عینی شاہد ہے اور نہ کسی گواہ نے قتل ہوتے ہوئے دیکھا۔
انہیں کمزوریوں کے باعث مقدمہ براہ راست شہادتوں کی بجائے قرائینی شہادتوں میں تبدیل ہوگیا، جس کا فائدہ عمومی طور پر ملزمان کو ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ عدالت میں وکلا صفائی نے اسے ایک اندھا قتل قرار دیا اور کہا کہ یہ پولیس تھی جس نے اسے غیرت کے نام پر قتل کا رنگ دیا۔
509609 qandeel balochایڈووکیٹ گل کا کہنا تھا کہ مقدمے کا اندراج کرتے وقت پولیس اس بات کا اندازہ لگانے میں یا تو ناکام رہی یا پھر جان بوجھ کر نظرانداز کیا کہ مقدمے کا مدعی کسی بھی وقت اپنے بیٹوں کے خلاف لگائے جانے والے الزامات سے دستبردار ہو سکتا ہے یا پھر قندیل کا قانونی اور شرعی وارث ہونے کی بنا پر اپنے سزا یافتہ بیٹوں کو معاف کرسکتا ہے اور جب پولیس کو اس بات کا احساس ہوا تو اس نے کیس کی دفعات میں پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 311 کا اضافہ کردیا، جس کے تحت اگر ورثا مجرمان کو معاف بھی کردیں تو حکومت کیس کی مدعی بن جاتی ہے اور عدالت انہیں سزا سنا سکتی ہے۔
اس کے باوجود کہ قندیل کے والد محمد عظیم اور والدہ انور بی بی 22 اگست کو عدالت کے سامنے پیش ہوئے اور کہا کہ انہوں نے اپنے بیٹوں وسیم اور اسلم شاہین کو اللہ کے نام پر معاف کر دیا ہے تاہم عدالت نے معافی کی درخواست مسترد کردی۔
دوسری مرتبہ 30 اگست کو جب دونوں میاں بیوی بطور گواہ عدالت میں پیش ہوئے تو انہوں نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے مقدمے میں کسی کو نامزد نہیں کیا ہے اور انہیں ان کے بیٹوں کا نام لینے کے لیے پولیس نے کہا تھا، یعنی پولیس کے دباؤ پر انہوں نے اپنے بیٹوں کا نام مقدمے میں درج کرایا تھا۔
یاد رہے کہ جنوری 2017 میں مظفرآباد پولیس نے قندیل کے والدین کے خلاف مجسٹریٹ کے سامنے اپنے بیٹے اسلم شاہین کے خلاف دیے جانے والے بیانات سے منحرف ہونے پر ایک مقدمے کا اندراج کیا تھا، انہیں گرفتار بھی کرلیا گیا تھا، تاہم وہ بعد میں ضمانت پر رہا کر دیے گئے تھے۔
تاہم تفتیشی افسرعطیہ جعفری کا کہنا تھا کہ پولیس نے کیس پر بہت محنت کی اور 35 کے قریب گواہ پیش کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ پولیس کی اعلیٰ معیار کی تفتیش کا نتیجہ ہے کہ مرکزی ملزم کو عمر قید کی سزا ہوئی جبکہ مقتولہ کے والدین اپنے بیانات سے منحرف ہو چکے تھے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حق نواز کے حوالے سے وسیم نے مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ کرانے سے انکار کر دیا تھا اور حق نواز، جس نے پولیس کو اعترافی بیان ریکارڈ کرایا تھا، مجسٹریٹ کے سامنے بیان ریکارڈ کرانے سے انکاری تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاثر غلط ہے کہ پولیس نے کیس کی تفتیش کے حوالے سے کسی قسم کی کوتاہی برتی۔
یاد رہے کہ سوشل میڈیا سٹار اور ماڈل فوزیہ عظیم العروف قندیل بلوچ 16 جولائی 2016 کی صبح جب ملتان میں اپنے گھر میں مردہ پائی گئیں تو پاکستانی میڈیا کے ساتھ ساتھ عالمی میڈیا نے بھی ان کی قتل کی خبر نمایاں طور پر شائع اور نشر کی، جس کی بنیادی وجہ ان کے والد محمد عظیم کا پولیس کو مقدمے کے اندراج کے لیے دیا جانے والا یہ بیان تھا کہ ان کی بیٹی جو اپنی ویڈیوز اور متنازع بیانات کی وجہ سے مشہور تھیں، کو ان کے بڑے بیٹے اسلم شاہین، جو فوج میں ملازم ہے، کے غیرت کے نام پر اکسانے کے بعد ان کے چھوٹے بیٹے محمد وسیم نے قتل کر دیا ہے۔
پولیس نے 16 جولائی کو ایف آئی آر کا اندراج کیا اور اسی دن مدعی کی درخواست پر ایک ضمیمے کے ذریعے پانچ دیگر لوگوں کو جن میں مفتی عبدالقوی، قندیل کا چچازاد بھائی حق نواز، محمد ظفر، ٹیکسی ڈرائیور عبدالباسط اور قندیل کے سعودی عرب میں مقیم بھائی محمد عارف شامل ہیں، کو ملزم نامزد کر دیا گیا۔
واضح رہے کہ27 ستمبر کو ماڈل کورٹ ملتان کے جج عمران شفیع نے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مرکزی ملزم محمد وسیم کو عمرقید کی سزا سنائی۔ عدالت نے کیس کے دیگر پانچوں ملزمان کو شواہد کی عدم موجودگی کی بنیاد پر شک کا فائدہ دیتے ہوئے بری کر دیا جبکہ قندیل کے تیسرے بھائی محمد عارف کو اشتہاری قراردے دیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button