قومی اسمبلی اجلاس کے دوران شدید ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی

شاہ محمود قریشی کی تقریر کے دوران قومی اسمبلی میں بار بار ہنگامہ ہوا۔ اپوزیشن کے شور شرابے پر حکومتی ارکان نے بھی نعرے بازی کی۔ وزیر خارجہ نے کہا اگر میں نہیں بولوں گا تو کوئی نہیں بولے گا، مراد سعید کھڑا ہوتا ہے تو سب بھاگ جاتے ہیں۔
قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں شروع ہوا، جس میں وزیر خارجہ کی گزشتہ روز کی طویل تقریر کے جواب میں خواجہ آصف نے تقریر کی اور ان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سخت ریمارکس دیے۔ان کی تقریر کے بعد متعدد مرتبہ شاہ محمود قریشی نے ذاتی وضاحت دینے کی کوشش کی لیکن اپوزیشن نے انہیں بولنے کا موقع نہیں دیا۔ اس دوران ایوان میں سخت شور شرابہ دیکھنے میں آیا اور ایوان کی کارروائی 3 مرتبہ ملتوی ہوئی۔
وزیر خارجہ کو مائیک دینے پر بھی شور شرابہ نہ تھم سکا۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ارکان نے شاہ محمود قریشی کے سامنے آ کر شدید احتجاج شروع کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری خیر ہے، آپ کو نہیں بولنے دیا جائیگا۔ اس موقع پر ایوان چور چور اور ڈیزل ڈیزل کے نعروں سے ایوان گونجتا رہا۔
وفاقی وزیر مواصلات نے خطاب شروع کیا تو اپوزیشن ارکان نے نعرے بازی شروع کر دی۔ قومی اسمبلی اجلاس کے دوران اپوزیشن اور حکومتی بنچز کی جانب سے سخت شور شرابے کے باوجود حکومت فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) سے متعلق 2 بلز ایوان سے منظور کروانے میں کامیاب ہو گئی۔دہشتگردی ایکٹ ترمیمی بل مشیر پارلیمانی امور بابر اعوان نے پیش کیا، اپوزیشن نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑ دیں۔ اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان لفظی جنگ کے باوجود سپیکر نے ایف اے ٹی ایف سے متعلق 2 بلز انسداد دہشتگردی (ترمیمی) بل 2020ء اور اقوامِ متحدہ (سیکیورٹی کونسل (ترمیمی) بل 2020ء پر ووٹنگ کروائی جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button