قومی اسمبلی: تحریک عدم اعتماد 31 مارچ کو بحث کیلئے منظور

قائدحزب اختلاف شہباز شریف نے قومی اسمبلی اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان کیخلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر دی، جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس تحریک عدم اعتماد پر بحث کیلئے 31 مارچ تک ملتوی کر دیا گیا۔
قومی اسمبلی کا اہنگامہ خیز اجلاس ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی زیر صدارت ایک گھنٹہ تاخیر سے شروع ہوا ۔اسمبلی اجلاس کے ایجنڈے میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک بھی شامل تھی جو ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کی اجازت کے بعد ایوان میں پیش کردی گئی،اپوزیشن لیڈر شہبازشریف نے تحریک عدم اعتماد پیش کی، جس پر 152 ارکان کے دستخط موجود ہیں،شہباز شریف نے تحریک پیش کرتے کہا کہ میں وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کر رہا ہوں۔
جس کے بعد اس کے حامیوں اور مخالفین کی گنتی کی گئی،تحریک عدم اعتماد بحث کے لیے اپوزیشن کے 161 اراکین کی حمایت پر منظور کرلی گئی۔ جبکہ حکومتی اتحادی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے منحرف اراکین ایوان میں موجود نہ تھے جبکہ تحریک پیش کرنے پر ایوان میں اپوزیشن کے ارکان نے ڈیسک بجائے اور نعرے لگائے۔
ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے قومی اسمبلی کا اجلاس ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی کے قاعدہ 37 کے تحت اس پر بحث کی جائے گی، اور قومی اسمبلی کااجلاس 31 مارچ شام 6 بجے تک ملتوی کر دیا۔
قبل ازیں ملتان سے رکن قومی اسمبلی زین قریشی نے جنوبی پنجاب صوبے کی قرارداد پیش کی۔ قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں وزیراعظم عمران خان کے خلاف اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی عدم اعتماد کی قرارداد اور حکومت کا پیش کردہ جنوبی پنجاب صوبے کے قیام سے متعلق آئینی ترمیم بل شامل ہے۔
واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے ایوان میں کل نشستیں 341 ہیں جس میں سے 178 حکومت اور اس کے اتحادیوں کے پاس ہیں جب کہ 163 ارکان اپوزیشن کے ہیں۔ تحریک کو کامیابی کے لیے 172 ارکان کی حمایت درکار ہے، اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ اسے مطلوبہ تعداد سے زائد ارکان کی حمایت حاصل ہے۔حکومتی جماعت تحریک انصاف کے ایوان میں 155ارکان میں جب کہ اتحادیوں میں متحدہ قومی موومنٹ کے 7، بی اے پی کے 5، ق لیگ کے 5، گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے 3، اے پی ایم ایل کا ایک رکن ہے جبکہ دو امیدوار آزاد حیثیت سے رکن اسمبلی بننے کے بعد حکومتی اتحاد میں شامل ہوئے۔اسی طرح اپوزیشن میں مسلم لیگ (ن) کے 84، پیپلز پارٹی کے 56، ایم ایم اے کے 15، بلوچستان نیشنل پارٹی کے 4، اے این پی اور جمہوری وطن پارٹی کا ایک ایک رکن ہے جبکہ دو ارکان اسمبلی آزاد حیثیت سے منتخب ہوئے
دریں اثنا سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے اپوزیشن جماعتوں کے نمائندوں نے ملاقات کی جس میں قومی اسمبلی اجلاس کے قوانین سے متعلق بات چیت ہوئی۔ذرائع کے مطابق اسپیکر نے اپوزیشن کو آئین کے مطابق اجلاس چلانے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ آج عدم اعتماد کی تحریک پیش ہوگی اور ایک ہفتے کے اندر عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوجائے گی۔
