قومی اسمبلی :خواجہ آصف کی تقریرپراپوزیشن کی شدید ہنگامہ آرائی

قومی اسمبلی اجلاس میں وفاقی وزیرخواجہ آصف کی تقریر اپوزیشن کی شدید ہنگامی آرائی،ایوان مچھلی منڈی بنا رہا۔
وفاقی وزیر خواجہ آصف کااظہار خیال کرتے ہوئے کہنا تھاکہ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے آرٹیکل چھ کا بہت ذکر کیا۔پی ٹی آئی نے میرے خلاف آرٹیکل چھ لگانے کی کوشش کی۔شفقت محمود نے اس حوالہ سے بات کی تھی۔ایک جعلی فیلڈ مارشل نے ملک میں مارشل لا لگا کر آئین توڑا۔اس جعلی فیلڈ مارشل کی ہڈیوں کو قبر سے نکال کر پھانسی دی جائے۔یہاں آپ کی کرسی پہ بیٹھ کر ایک ڈپٹی اسپیکر نے بھی تحریک عدم اعتماد کے خلا رولنگ دی۔
خواجہ آصف کاکہنا تھاکہ سال1958 سے لے کر آج تک کسی نے بھی آئین توڑا اسے پھانسی دی جائے۔لیکن سب سے پہلے ایوب خان کو سزا دی جائے۔
خواجہ آصف کے ریمارکس پہ اپوزیشن ارکان سیٹوں پرکھڑے ہو گئے۔شدید نعرے بازی کرتے رہے۔
وفاقی وزیر کاکہنا تھاکہ ایوب خان نے جمہوری حکومت کا تختہ الٹا۔نکالیں ایوب کی لاش کو قبر سے باہر اور اسے پھانسی دیں۔
اپوزیشن ارکان پھر نشستوں پہ کھڑے ہو گئے۔
خواجہ آصف نے کہاکہ ابھی تو تھوڑی سی بات ہوئی ہے تو یہ حال ہے۔مشرف سے لے کر ظہیر الاسلام، شجاع پاشا اور پھر باجوہ تک روز ان کی ولدیت بدلتی رہی۔ولدیت اتنی بدلی کہ ولدیت کے خانے میں جگہ ختم ہو گئی۔انہوں نے پانچ مرتبہ ولدیت بدلی مگر ہر بار وردی والے کو باپ بنایا۔
اپوزیشن ارکان نے کہاکہ ضیا الحق کا نام بھی لو۔تمہارے باپ نے کس کی شوری میں حلف اٹھایا؟
خواجہ آصف نے کہا میں مانتا ہوں کہ ہم جنرل ضیا کے ساتھ تھے اس پہ معافی مانگی۔ان کے ساتھ ایسے لوگ ہیں جو شوری میں بھی تھے اور سب کے ساتھ رہے۔اپنے دائیں بائیں نظر دوڑائیں۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت کا فقدان ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کی پریس کانفرنس کو مسترد کرتا ہوں، یہ ایک پولیٹیکل کانفرنس تھی وہ ریاست کے ادارے ہیں لائن کو کراس کرنے پر آرٹیکل سکس لگ سکتا ہے۔ ہر ایک ادارہ اپنی حدود میں رہ کر کام کرے تو ملک ترقی کرے گا۔ ایکس معطل ہے میڈیا کو انٹیلجنس واچ کر رہے ہوتے ہیں۔ نو مئی پر آزادانہ جوڈیشل کمیشن بنانا چاہیے۔
اپوزیشن لیڈر نے صدارتی خطاب پر بحث کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نو مئی پر جوڈیشل کمیشن بننا چاہے،ہم تو چاہتے ہیں۔ حمود رحمان کمیشن، اوجڑی کیمپ ، ایبٹ آباد اور اے پی ایس کی رپورٹس سامنے آنی چائیے۔ جس ملک میں امن و امان نہیں ہوتا وہاں پر باہر سے سرمایہ کاری نہیں آتی۔جب بے نظیر کو شہید کیا گیا تھا اس وقت دو سو ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ صرف کراچی میں ایک ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا۔ کتنے لوگوں کو سزائیں ملیں، نو مئی ایک بہانہ تھا عمران خان نشانہ تھا۔ ثبوت غائب کر دہیے گئے۔
عمر ایوب نے کہاکہ کمشنر راولپنڈی چٹھہ کہاں غائب ہیں چار پانچ میں وہ چلہ کاٹ کر آئے تو ان کا سافٹ ویر اپ ڈیٹ ہو چکا تھا۔ انہیں آزاد جوڈیشل کمشن کے سامنے پیش کیا جائے۔ نو مئی کی سی سی ٹی فٹج سامنے آنی چاہئے ہمارے نوجوان شہید ہوئے، پندرہ نوجوانوں مارے گئے جن کے گھر اجڑ گئے۔ نگران وزیر اعظم نے حنیف عباسی سے مکالمے کہا کہ مجھے مجبور نہ کریں فارم 47 کا کٹھہ چٹھہ کھول دونگا۔ ہمارا ہر روز واسطہ خلائی مخلوق سے پڑتا ہے جو ویگو ڈالے میں آتے ہیں۔ ان حالات کی وجہ معیشت پر برا تاثر پڑے گا۔ ہم جموریت اور آئین کے لے کوشاں رہیں گے۔
