قومی اسمبلی میں شازیہ مری مولانا عبدالاکبر چترالی پر برس پڑیں

وفاقی وزیر تخفیف غربت و سماجی تحفظ  شازیہ مری وزیر مملکت برائے خارجہ امور حنا ربانی کے دورہ افغانستان سے متعلق جماعت اسلامی کے رکن مولانا عبدالاکبر چترالی کے بیان پر برس پڑیں اور کہا کہ یہ تنگ نظری کی سوچ ہے کہ ایک عورت نے افغانستان کا دورہ کیا اور چمن واقعہ ہوگیا۔

قومی اسمبلی میں عبدالاکبر چترالی کی شازیہ مری اور مریم اورنگزیب کے درمیان تلخی اس وقت ہوئی جب جماعت اسلامی کے رہنما مولانا نے کہا کہ میں حنا ربانی کھر کے موجودہ حالات میں افغانستان جانے کو مناسب نہیں سمجھتا، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری، وزیر مملکت حنا ربانی کھر اور علما کے وفد کو افغانستان ایک ساتھ جانا چاہیے تھا۔

جس پر شازیہ مری نے مولانا عبدالاکبر چترالی پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ حنا ربانی کھر ہماری وزیر مملکت ہیں انہوں نے افغانستان جا کر بات چیت کی انہوں نے پوری قوم کی نمائندگی کی، عبدالاکبر چترالی نے ایسا کیوں کہاکہ وہ خاتون ہیں ان کے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑا؟

انہوں نے کہا کہ مولانا عبدالاکبر چترالی کے حنا ربانی کھر کے افغانستان کے دورے کا اچھا تاثر نہیں گیا، بیان انتہائی غلط ہے، بہت ہوگیا ہم اس قسم کی بیان بازی برداشت نہیں کریں گے،شازیہ مری نے مولانا عبدالاکبر چترالی سے اپنے الفاظ واپس لے لیے اور اپنے الفاظ پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔  بعدازاں پی پی پی کی خواتین ارکان نے مولانا چترالی کے ریمارکس پر احتجاج کیا۔ اس پر مولانا عبدلاکبر چترانی نے جواب دیا کہ وہ کسی سے نہیں ڈرتے۔

سابق سپیکر سردار ایاز صادق نے مولانا عبدالاکبر چترالی سے الفاظ واپس کرادیے۔

Back to top button