قومی حکومت کے منتظر زرداری نے بلاول کو زیر تربیت کیوں قرار دیا؟

سابق صدر مملکت اور پاکستان پیپلز پارٹی پارلمنٹیرین کے سربراہ آصف علی زرداری نے کہا ہے کہ آئندہ الیکشن میں کوئی بھی پارٹی 172 نشستوں سے اکثریت حاصل نہیں کر سکتی اس لئے مخلوط قومی حکومت بنےگی. انہوں نے اپنے صاحبزادے بلاول بھٹو کے عمر رسیدہ سیاسی قیادت کو گھر بٹھانے کے بیانیے کو مسترد کر دیا اور کہا کہ بلاول بھٹو زرداری سیاست میں ابھی مکمل تربیت یافتہ نہیں ہوا، پڑھا لکھا ہے، اچھا بولتا ہے ، لیکن تجربہ تجربہ ہوتا ہے۔ نجی ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں ،آصف زرداری نے کہا کہ انہیں یقین ہےکہ اگلے الیکشن 8 فروری کو ہوں گے، اسی لیے ان کی جماعت ایکشن میں ہے، ہماری انتخابی مہم شروع ہے، انتخابی مہم سیاسی جماعتوں کے لیے صحت مند ہوتی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ کوئی پارٹی 172 کی اکثریت نہیں لے سکتی، اکثریت ن لیگ، نہ مولانا، نہ کوئی اور نہ پیپلز پارٹی لے سکتی ہے، آئندہ الیکشن کے نتیجےمیں مخلوط قومی حکومت بنےگی، ہم ن لیگ کے ساتھ نہ چل سکے اور ن لیگ ہمارے ساتھ نہ چل سکے، یہ بات وقت سے پہلے ہے۔ انٹرا پارٹی الیکشن پر پوچھے گئے سوال پر انہوں نے کہا کہ ہم اپنی پارٹی کے الیکشن پربات کرسکتے ہیں، دوسری پارٹی کے الیکشن پر نہیں، پارٹی الیکشن پرچی پر نہیں، عوام کی رائے پر ہوتا ہے، فرحت اللہ بابر نے سیکرٹری جنرل کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے، وقت کا تقاضہ ہے، عمر ہے اس لیے استعفیٰ دیا، فرحت اللہ بابر پارٹی میں رہیں گے،کسی اور حیثیت سے کام کریں گے۔ بزرگ سیاستدانوں کو گھر بیٹھ کر آرام کرنے کے بلاول کے بیانات پر حوالے سے آصف زرداری کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری ابھی مکمل ٹرینڈ نہیں ہوا، پڑھا لکھا ہے، اچھا بولتا ہے، لیکن تجربہ تجربہ ہوتا ہے، بلاول تین پی والی پیپلز پارٹی کے چیئرمین ہیں، لیکن وہ چار پی والی جماعت کے سربراہ ہیں ، ٹکٹ دینے کا اختیار ان کے پاس ہے ، بلاول کو بھی وہ ہی ٹکٹ دیں گے، نئی نسل کی اپنی سوچ ہے، وہ کہتی ہے کہ بابا آپ کو کچھ نہیں پتہ، اسے سوچ کے اظہار کا مکمل حق ہے ، سوچ کے اظہار پر تو ٹیکس نہیں ہے ، بلاول کو بیان دینے سے روکوں گا نہیں ،کیوں کہ اگر وہ ناراض ہوگیا اور کہا کہ گھر بیٹھ جاتا ہوں تو میں کیا کروں گا۔ آصف علی زرداری نے انکشاف کیا کہ عمران حکومت مائنس زرداری پیپلز پارٹی چاہتی تھی، انہیں ملک سے باہر جانےکا کہا گیا اور کہا گیا کہ باقی پیپلز پارٹی 6 وزارتوں کے بدلے پی ٹی آئی سے مل کر الیکشن لڑے، میرے ورکر مجھ پربہت اعتماد کرتے ہیں، میں خود بھاگ جاتا تو انہیں کیا کہتا۔ عمران خان حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد درست فیصلہ تھا، عمران خان کی وجہ سے پاکستان دنیا میں تنہا ہوگیا تھا، عمران خان ملکی معیشت کے دشمن تھے، عمران خان کو نہ نکالتے تو وہ ایک فوجی کے ذریعے آر او الیکشن کروا کے 2028 تک حکومت بنالیتے ، پھر ایک کلو دودھ کے لیے ٹرک بھر کر پیسے لے جانے پڑتے، عدم اعتماد واپس لے لیتے توپاکستان کے حالات بہتر نہیں بدتر ہوتے، نہ ایکسپورٹ تھی، نہ زرمبادلہ تھا، نہ دوست تھے جو مدد کرسکتے،ہر چیز میں ڈیفالٹ کرچکے تھے، شہباز شریف کے نمبر بھی زیادہ تھے . آصف زرداری کا کہنا تھا کہ اتحادی حکومت کا تجربہ کافی مشکل تھا، میں شہبازشریف سے کافی متاثر تھا کہ یہ صبح 6 بجے اٹھتے ہیں، رات 8 بجےتک کام کرتے ہیں. ان کو کافی چیزیں کہیں جو انہوں نے نہیں مانیں اور اس وجہ سے ملک کو نقصان ہوا، 2 ارب کی چینی پڑی تھی، ایکسپورٹ کی اجازت نہیں دی، افغانستان اسمگل ہوگئی، ہمیشہ خوردنی تیل درآمد ہوتا ہے، اس پرپابندی لگا دی۔ پاکستان پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر کا کہنا تھا کہ ہم نے اداروں کو پہلے بھی مضبوط کیا ہے،آئندہ بھی کریں گے، ایران، افغانستان، چین سے ہمارے تعلقات اچھے تھے، ایران گیس پائپ کا منصوبہ انڈسٹری کے لیے سستی گیس، بجلی کے لیے لایا تھا، سعودیہ سے تعلقات سب کے اچھے ہیں، تعلقات ملکوں کی سطح پر ہوتے ہیں، فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتا ہوں، جس طرح کمشیر شہ رگ ہے،فلسطین بھی شہ رگ ہے، بطور صدر مجھ پر اسرائیل کو تسلیم کرنےکے لیے کوئی دباؤ نہیں تھا۔ توشہ خانہ کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ توشہ خانہ سے میں نے جو بم پروف گاڑی لی وہ مجھے یو اے ای نےگاڑی دی تھی، کرنل قذافی نے بھی مجھے بم پروف گاڑی دی تھی، میرے14 سال پرانےکیس ختم ہوئے، عمران خان کی مہربانی سے جو کس وہ ختم نہیں ہوئے، مجھ پر نئے کیس نواز شریف نے نہیں عمران خان نے بنائے تھے، آئی جے آئی حمید گل نے ہمارے خلاف بنائی تھی، آئی پی پی جہانگیرترین نے بنائی۔ آصف زرداری نے کہا کہ 18ویں ترمیم ٹارگٹ بنتی ہے، پیپلز پارٹی اس کا دفاع کرے گی، 18ویں ترمیم کے بعد ہم نے تھر کے کوئلے کو ترقی دی، جب سے یہ ترمیم آئی ہے 7 پل بنا چکے، سڑکیں بنا چکے ہیں، ٹیکس سندھ دیتا ہے، ایک روڈ کیلئے بھی وفاق جانا پڑتا تھا، اسلام آباد کی بیوروکریسی پاکستان میں نہیں کسی اور ملک میں رہتی ہے، صبح دفتر جاتے اور شام کو گالف کھیلتے ہیں، انہیں صوبوں کے بنیادی حقوق کا علم نہیں، بلوچستان، خیبر پختونخوا بھی 18ویں ترمیم کا دفاع کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمیشہ حق و سچ کا ساتھ دیا ہے اور قیمت بھی ادا کی ہے، پہلے 14 سال قید کاٹی اور عمران خان کے دور میں 6 ماہ قید کاٹی، ہم پی ٹی آئی کے خلاف نہیں، صرف ایک شخص کےخلاف ہیں، پی ٹی آئی الیکشن لڑے گی، انتخابات میں بھی ہوگی، آصفہ بھٹو جہاں سے الیکشن لڑنا چاہے لڑے، وہ بہت مضبوط امیدوار ہے۔
آصف زرداری کا کہنا تھا کہ لوگ روزگار کے لیے باہر جا رہے ہیں، مٹی سے سب کو پیار ہے، پاکستان سے ماہر لوگ جائیں گے تو ترسیلات زر آئے گی، ملکی معیشت کی بحالی پیپلزپارٹی کے منشور میں شامل ہے، ہم کاروبار کے مواقع بڑھانےکی کوشش کریں گے، اقتدار ملا تو وزیر خزانہ پارٹی کے اندر سے آئےگا۔
