قومی خزانے کونقصان: شاہد خاقان و دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد

احتساب عدالت نے قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے کے الزام میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی۔
کراچی کی احتساب عدالت میں قومی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچانے سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی و دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔نیب حکام کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان نے وزیر پیٹرولیم کی حیثیت سے ایم ڈی پی ایس او عمران الحق تقرر غیر قانونی طور پر کیا۔نیب حکام نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان پر قومی خزانے کو 138 ملین سے زائد کا نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔
عدالت نے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی و دیگر ملزمان پر فرد جرم عائد کر دی تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کر دیا۔ ملزمان کے انکار پر تفتیشی افسر اور گواہوں کو نوٹس جاری کرتے ہوئے سماعت 27 اگست تک ملتوی کردی۔جن افراد پر فرد جرم عائد کی گئی ان میں سابق وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی، سابق ایم ڈی پی ایس او عمران الحق، یعقوب ستار اور ارشد مرزا شامل ہیں۔ خیال رہے کہ شاہد خاقان عباسی و دیگر ملزمان نے سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت حاصل کر رکھی ہے۔
عدالت پیشی کے موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ نیب کا شکر گزار ہوں کہ مجھ پر اربوں کی کرپشن کا الزام نہیں لگایا بلکہ اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام لگایا۔ یہ تو بتا دیں ہمارے اختیارات ہیں کیا؟ سپریم کورٹ بھی کہہ چکی کہ نیب صرف سیاسی انجنیرنگ کرتا ہے، لوگوں کو تنگ کرنے کیلئے سیاسی طور پر استعمال ہوتا ہے۔
سابق وزیر اعظم نے کہا کہ آج کشمیریوں سے یکجہتی کا دن ہے اور سارا پاکستان متحد ہونا چاہئے۔ عوام تو متحد ہیں مگر بدقسمتی سے حکومت یکجہتی کا ہاتھ اپوزیشن کی طرف نہیں بڑھا سکی۔ انہوں نے کہا کہ کشمیر پاکستان کے عوام کے دلوں میں رہے گا۔اس ایشو پر پاکستان میں کوئی دو رائے نہیں ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کراچی پاکستان کا دل ہے۔ مسائل کو حل کیا جاۓ ایک دوسرے پر نمبر بنانے سے معاملات حل نہیں ہوں گے۔ وفاقی اور صوبائی حکومت کو مل کر کام کرنے سے مسائل حل ہونگے۔ وفاقی حکومت کے اراکین نالوں کی نگرانی کررہے ہیں۔ عوامی مسائل جوں کے توں ہیں۔ جن سے اپنے محکمے نہیں چلتے وہ صوبہ کیسے چلائیں گے۔ نمبرز بنانے کے بجاۓ کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جن سے وفاقی حکومت نہیں چلتی وہ سندھ کو کیا چلائیں گے۔ جن سے اپنی وزارت نہیں چلتی وہ صوبائی حکومت کیا چلائیں گے۔ ن لیگ کا گرین لائن کا منصوبہ صرف چند ہفتوں کا کام باقی تھا۔ نیب کا حال یہ ہے کہ 2 سال کے بعد صرف اختیارات کا ناجائز استعمال کا الزام لگایا ہے۔ سیاست میں کبھی باتوں کے دروازے بند نہیں ہونگے۔ لیکن میرا اعتماد اور اعتبار اب وزراء پر نہیں ہے۔ہمارا بیانیہ یہ ہے کہ ملک آئین اور قانون کے تحت چلے۔ بجلی کا کوئی مسلہ نہیں ہے یہ سوچا سمجھا منصوبہ ہے جس کے تحت قلت پیدا کی گئی۔ مکمل تحقئقات کی جاۓ، کراچی کو بجلی نہیں مل رہی تو وجہ صرف حکومت کی کرپشن ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button