وفاقی حکومت کاسی پیک منصوبوں پر کام کھولنے کا فیصلہ

وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت ہونے والے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پاک چین اقتصادی راہداری (سی پیک) منصوبوں پر کام کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں کورونا وائرس کی پاکستان میں مجموعی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم کو تفتان سے آئے زائرین سے متعلق تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ تمام افراد مکمل صحت مند ہیں۔ جو زائرین کورونا سے متاثر ہوئے ان کی اکثریت صحتیاب ہو چکی ہے۔
قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں حکومت نے سی پیک منصوبوں پر کام کھولنے کا فیصلہ کیا۔ اس کیساتھ ساتھ تعمیراتی انڈسٹری بھی جمعہ 3 اپریل سے کھول دی جائے گی۔ وزیراعظم عمران خان انڈسٹری سے متعلق پیکج کا اعلان کریں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی معاشی ٹیم کے ساتھ ریلیف پیکج کے خدوخال پر مشاورت مکمل ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں انڈسٹری سے متعلق مزدوروں کی آمدورفت کے لیے صوبوں کو ایڈوائزری جاری کر دی گئی ہے۔
وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت اجلاس میں تعمیراتی انڈسٹری بھی کھولنے کا فیصلہ کیا گیا.وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کا اجلاس ہوا، اجلامیں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ اور عسکری حکام شریک ہوئے جبکہ وفاقی وزرا اورچیئرمین این ڈی ایم اے بھی اجلاس میں موجود تھے۔اجلاس میں کوروناوائرس کی صورتحال سےمتعلق اقدامات کاجائزہ لیا گیا جبکہ ظفرمرزانےملک میں کوروناوائرس کی تازہ صورتحال سےآگاہ کیا اور اسدعمر نے موجودہ تناظرمیں معاشی وانتظامی اقدامات پربریفنگ دی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی رابطہ کمیٹی اجلاس میں سی پیک منصوبوں پرکام کھولنےکافیصلہ کرتے ہوئے کہا تعمیراتی انڈسٹری 3 اپریل سےکھول دی جائےگی اور وزیراعظم 3 اپریل کو انڈسٹری سےمتعلق پیکج کااعلان کریں گے۔
ذرائع کے مطابق وزیر اعظم نے معاشی ٹیم کیساتھ ریلیف پیکج کے خدوخال پرمشاورت مکمل کرلی ہے ، انڈسٹری سے متعلق مزدوروں کی آمدورفت سے متعلق اور نمازجمعہ اورتراویح سےمتعلق صوبوں کوایڈوائزی جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جمعہ،تراویح سےمتعلق مقامی انتظامیہ صورتحال کےپیش نظرفیصلہ کریں گے۔وزیراعظم عمران خان نے کہا غریب کےگھرکاچولہاجلےاس لیےکل تعمیراتی انڈسٹری کھول رہےہیں، مزدوروں کا روزگار انڈسٹری سے وابستہ ہے، مزدورطبقہ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں سندھ سے بلوچستان اورپنجاب کو گندم کی بلاتعطل ترسیل کابھی جائزہ لیا گیااور صنعتی یونٹس کی روانی،سی پیک منصوبوں پرعملدرآمد سےآگاہ کیا گیا۔
وفاق اورصوبوں کےدرمیان کوآرڈی نیشن کی بہتری اورمصدقہ ڈیٹاجمع کرنےسےمتعلق اقدامات پر پربریفنگ دی گئی۔آئندہ اجلاس کےپیش نظرکثیرالضابطہ ریسرچ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، کمیٹی مختلف شعبوں سےسفارشات مرتب کرکےاجلاس میں پیش کرے گی اور سفارشات کی روشنی میں مستقبل کےلائحہ عمل کاتعین کیاجاسکے گا۔وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں درست،حقائق پرمبنی ڈیٹاکی دستیابی اہم ہے، درست ڈیٹاکی فراہمی میں کوئی غفلت برداشت نہیں کی جائےگی، مختلف ملکوں میں کیےگئےاقدامات کامسلسل جائزہ لیاجارہاہے، ملکی حالات وواقعات کےمطابق بہترین اقدامات اٹھائےجائیں گے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں حالات دنیاسےمختلف ہیں، ہمارامقابلہ کوروناکیساتھ ساتھ غربت وبےروزگاری سےبھی ہے، ہر فیصلہ زمینی حقائق کومدنظر رکھتےہوئےکیاجائےگا۔وزیراعظم نے اسلام آباد میں ڈاکٹرزاورطبی عملےکیلئےایک ماہ کی اضافی تنخواہ کی اصولی منظوری دیتے ہوئے کہا انسانیت کی خدمت سےسرشار ڈاکٹرزاورطبی عملےکاجذبہ لائق تحسین ہے، صحت شعبےسےوابستہ لوگوں کی ضروریات ترجیحی بنیادوں پرپوراکریں گے۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے کوروناکی تشخیص کیلئے میڈیکل سہولت پربریفنگ دی اور میڈیکل کٹس،وینٹی لیٹرز ودیگر آلات کی دستیابی سےمتعلق بھی آگاہ کرتے ہوئے بتایا ابتدائی طورپرنجی شعبےکی2لیبارٹریوں کوٹیسٹ آلات دیئے جارہے ہیں۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے کہا چاہتےہیں کہ ٹیسٹ کےاخراجات میں خاطرخواہ کمی لائی جاسکے، ٹیسٹ سہولتیں مزید14لیبارٹریزمیں فراہم کی جائیں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button