قومی کرکٹر صہیب مقصود نے سندھ پولیس کے 4 اہلکار کیسےپکڑواۓ

پاکستان ٹیم کے بلے باز صہیب مقصود نے سندھ پولیس کے ایک تھانے دار سمیت چار اہلکاروں کو رشوت کے الزام میں گرفتار کروا دیا. قومی کرکٹر صہیب مقصود نے سندھ پولیس پر رشوت طلب کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا تھا کہ خوش قسمت ہیں کہ سندھ میں نہیں پنجاب میں رہتے ہیں جب کہ آئی سندھ پولیس نے الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا تھا . سوشل میڈیا پر جاری اپنے ایک بیان میں قومی کرکٹر صہیب مقصود نے کہا کہ ہم بہت خوش قسمت ہیں کہ ہم سندھ میں نہیں پنجاب میں رہتے ہیں ۔ ایس ایس پی حیدر رضا کے مطابق آئی جی سندھ کے احکامات پر پولیس اہکاروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی۔ دوسری جانب قومی کرکٹرز سے پیسے لینے کے معاملے پر ڈی آئی جی شہید بینظیر آباد نے انکوائری رپورٹ مرتب کرلی صہیب مقصود نے اپنے آفیشل سوشل میڈیا اکاونٹ پر کہا کہ میں اپنے ساتھی کرکٹر عامر یامین کے ہمراہ زندگی میں پہلی بار بذریعہ روڈ کراچی سے ملتان سفر کر رہا ہوں اور سندھ پولیس اتنی کرپٹ ہے کہ 50 کلومیٹر کے بعد آپ کو روک کر پیسے مانگتی ہے یا آپ کو بغیر کسی وجہ کے پولیس اسٹیشن لے جانے کی دھمکی دیتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ انہیں رشوت دے دیتے ہیں تو 50 کلومیٹر کے بعد پھر وہ آپ کو روکیں گے اور پھر پیسے مانگیں گے۔ صہیب مقصود نے کہا کہ سندھ پولیس میں کرپشن عروج پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے پولیس والوں سے کہا کہ ہم بین الاقوامی کرکٹرز ہیں، ہم کراچی میں اپنے میچ کے بعد ملتان جا رہے ہیں لیکن انہوں نے پھر بھی 8000 ہزار روپے لیے اور پھر ہمیں جانے دیا۔ بعد ازاں کرکٹر عامر یامین نے کرکٹر صہیب مقصود کے بیان کو پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری، سابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور سندھ پولیس کے سوشل میڈیا پر موجود آفیشل اکاؤنٹ کو ٹیگ کیا۔کرکٹرز کے بیانات سامنےآنے کے بعد آئی جی سندھ پولیس رفعت راجا نے کرکٹر عامر یامین کے ٹوئٹ پر نوٹس لے لیا۔ ترجمان کے مطابق ڈی آئی جی شہید بے نظیرآباد کو فوری تحقیقات کا حکم دیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ آئی جی سندھ نے کہا کہ واقعے میں ملوث اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ جس کے بعد کرکٹرز سے پیسے لینے والے 4 پولیس اہلکاروں کو معطل کر کے گرفتار کرلیا گیا۔ڈی آئی جی شہید بینظیرآباد کے مطابق سکرنڈ تھانے کے 4 پولیس اہلکار ملوث پائے گئے جن کے خلاف قانونی کارروائی کی جارہی ہے۔ سندھ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ تھانہ سکرنڈ کے ایس ایچ او اور بڑے منشی کو غفلت پر معطل کیا گیا ہے اور انکوائری رپورٹ آئی جی سندھ کو ارسال کی جارہی ہے
