قیامت کی ایک نشانی یاجوج ماجوج کا ظہور ہے

حضوراکرم ﷺ کا فرمان ہے کہ قیامت کی بڑی نشانیاں تسبیح کے دانوں کی طرح ہیں۔ جب تسبیح ٹوٹتی ہے تو اسکے دانے بکھر جاتے ہیں۔ یعنی قیامت کی بڑی نشانیاں جب آنا شروع ہوں گی تو ایک کے بعد ایک تواتر کے ساتھ یعنی بہت تیزی کے ساتھ آتی چلی جائیں گی، قیامت کی تین بڑی نشانیوں میں دجال کا خروج ،حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول اور یاجوج ماجوج کا ظہور شامل ہے، آج ہم قیامت کی نشانی یاجوج اور ماجوج کے متعلق تفصیلی روشنی ڈالیں گے۔

یاجوج اور ماجوج حضرت نوح علیہ السلام کے تیسرے بیٹے یافص کی اولاد میں سے ہیں ، یاجوج اور ماجوج انسانی نسل کے دو بڑے وحشی قبیلے رہ چکے ہیں جو اپنے ارد گرد رہنے والوں پر سخت طرح کے ظلم اور زیادتیاں کرتے تھے اور انسانی بستیاں تک تاراج کر دیتے تھے، قرآن مجید کی آیات، تورات اور تاریخی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ شمال مشرقی ایشیاء میں زندگی بسر کرتے تھے اور اپنے وحشیانہ حملوں کے نتیجے میں ایشیاء کے مغربی اور جنوبی علاقوں میں مصیبت برپا کرتے تھے۔

بعض تاریخ دانوں نے ان کے رہائشی علاقے کو ماسکو کے آس پاس بتایا ہے اور بعض کا خیال ہے کہ یاجوج ماجوج کی شہرت تبت سے ترکی تک پھیلی ہوئی تھی۔ حضرت ذوالقرنینؑ کے زمانے میں یاجوج ماجوج کے حملے وبال جان بن گئے تھے جن کی روک کےلیے حضرت ذوالقرنینؑ نے پہاڑیوں کے درمیان ایک اونچی دیوار تعمیر کروائی، حضرت ذوالقرنینؑ اور ان کی دیوار کا ذکر قرآن پاک کی سورۃ ’ق‘ میں بھی موجود ہے، کچھ مورخین ذوالقرنین کے خطاب کو حضرت سلیمان سے منسوب کرتے ہیں تو کچھ اس کو قدیم یونانی بادشاہ سے جوڑتے ہیں لیکن اس حوالے سے کوئی مصدقہ بات موجود نہیں ہے۔

حضرت ذوالقرنینؑ کی تعمیر کردہ دیوار لوہے اور تانبے سے بنائی گئی تھی اور اس قدر مضبوط تھی کہ اس میں سوراخ کرنا اور اس کو پھلانگنا کسی صورت ممکن نہیں تھا۔ اس کے بن جانے کے بعد وہاں کے لوگوں نے سُکھ کا سانس لیا تھا لیکن حضرت ذوالقرنینؑ نے واضح کر دیا تھا کہ یہ دیوار تعمیر تو کر دی گئی لیکن جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا کہ یہ دیوار ختم ہو جائے گی، یہ دیوار دنیا کے کس حصے میں موجود ہے ابھی تک اس کا بھی اندازہ نہیں لگایا جا سکا ہے لیکن غالب امکان یہ ہی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ سرزمین کفکاز میں دریائے خضر اور دریائے سیاہ کے درمیان پہاڑوں کا ایک سلسلہ، جوکہ دو حصوں شمال اور جنوب کو الگ الگ کرتا ہے ، ان دونوں کے درمیان ایک مشہور درہ داریال موجود ہے جہاں ایک قدیم لوہے کی دیوار نظر آتی ہے اور خیال کیا جاتا ہے کہ یہی وہ دیوار ہے جو کہ حضرت ذوالقرنینؑ نے تعمیر کروائی تھی ۔

ایک حدیث مبارکہ ہے کہ یاجوج ماجوج روزانہ اس دیوار کو کھودتے ہیں اور پھر بقیہ کام کل پر چھوڑ دیتے ہیں جس سے ان کو دوبارہ نئے سرے سے کام شروع کرنا پڑتا ہے۔ لیکن قیامت کے قریب وہ کہیں گے کہ ہم ان شاللہ باقی دیوار کل کھودیں گے جس پر یہ دیوار اگلے روز ختم ہو جائے گی اور یاجوج ماجوج آزاد ہو کر زمین پر فتنہ پھیلائیں گے یہاں تک کہ انسانوں کو کھانے لگیں گے۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور ہوگا اور اللہ تعالیٰ آپ کو ان سے بہت دور لوگ جمع کرنے کا حکم دیں گے کیوں کہ ان کو شکست دینا کسی کے بس کی بات نہیں ہوگی، لوگوں کی فریاد پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام یاجوج ماجوج کیلئے بددعا فرمائیں گے پھر اللہ تعالیٰ ان کے کانوں اور گردنوں میں ایک کیڑا پیدا کر دیں گے جو بعد میں پھوڑوں کی صورت اختیار کرکے پھٹ جائیں گے جس سے ان لوگوں کی ہلاکت کا سلسلہ شروع ہوگا اور زمین ان کی لاشوں سے بھر جائے گی یہاں تک کہ ہر طرف تعفن پھیل جائے گا۔

کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا پر اللہ تعالیٰ اونٹ کی گردن کے برابر پرندوں کا جھنڈ بھیجیں گے جو کہ ان لاشوں کو زمین سے اٹھا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیں گے، اس کے بعد بارش ہوگی اور خوشحالی دوبارہ سے دستک دینے لگے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button