قیدیوں کو کرونا سے مرنے دیں یا رہا کر دیں، حکومت تذبذب میں

پاکستانی حکام اس وقت اس مخمصے کا شکار ہیں کہ وہ معمولی نوعیت کے جرائم پر جیلوں میں قید مجرموں کو کرونا وائرس سے مرنے دیں یا انہیں اس وائرس سے بچنے کے لیے رہا کردیا جائے۔
کرونا وائرس جیسی عالمگیر وبا سے نمٹنے کیلئے دنیا بھر کے ممالک مختلف اقدامات کر رہے ہیں جبکہ پاکستان میں بھی اس وبا کی روک تھام کیلئے کئی ہنگامی اقدامات اور فیصلے کیے جا رہے ہیں ۔
پاکستان کی جیلوں میں گنجائش سے کئی زیادہ قیدی ہونے اور حال ہی میں لاہور کے کیمپ جیل میں ایک قیدی میں کرونا وائرس کی موجودگی کی تصدیق ہونے کے بعد کرونا وائرس پھیلنے کے خدشات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت قیدیوں کی رہائی پر غور کر رہی ہے تاکہ اس وبا کو پھیلنے سے روکا جا سکے ۔ تاہم حکومتوں کے سامنے سوال یہ ہے کہ قیدیوں کو رہا کیسے کیا جائے اور کس قسم کے قیدیوں کو رہا کیا جا سکتا ہے؟ کیا آئین و قانون میں ریاست کے پاس اختیارات ہیں کہ وہ قیدیوں کر رہا کرے یا اس کے لیے عدالتوں کے احکامات کی ضرورت ہو گی؟
قانونی ماہرین کے مطابق اگر حکومت چاہے تو موجودہ صورتحال میں کم از کم 40 ہزار سے زائد قیدیوں کو جیل سے آسانی سے رہا کیا جا سکتا ہے۔تاہم صرف ان قیدیوں کو رہا کیا جا سکتا ہے جو معمولی جرائم میں ملوث ہوں۔ چند ماہرین کے خیال میں قتل یا جسمانی ایذا پہنچانے والے مجرمان کو رہا نہیں کیا جا سکتا تاہم کچھ کا خیال ہے کہ ان الزامات میں قید افراد کو بھی ضمانت پر رہائی دی جا سکتی ہے۔
فوجداری قوانین کے ماہر وکیل اعظم نذیر تارڑ کے مطابق قتل کے مقدمات میں معافی مرنے والے کے لواحقین ہی دے سکتے ہیں اس لیے ان کو ریاست قانونی طور پر پیرول پر رہا نہیں کر سکتی۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایسے مقدمات جن میں قتل یا جسمانی ایذا کے جرائم شامل نہ ہوں یا وہ معمولی نوعیت کے جرائم میں قید ہوں تو ریاست ان کو پیرول پر رہائی دے سکتی ہے۔ پیرول پر یہ رہائی قانونِ فوجداری کی دفعہ 401 کے تحت دی جا سکتی ہے۔
سپریم کورٹ کے معروف وکیل اور قانونی ماہر سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ جن افراد کے خلاف مقدمات زیرِ سماعت ہوں ان کو عدالتوں سے ضمانت لینا ہو گی تاہم جن کے خلاف جرم ثابت ہو چکا ہے ان کو ریاست پیرول پر رہا کر سکتی ہے۔
وکیل اسد جمال کا کہنا تھا کہ ریاست کے پاس موجود اختیارات میں آئین کے آرٹیکل 45 کے تحت صدر کو معافی کے لامحدود اختیارات حاصل ہیں۔ اس کے تحت صدر کسی بھی جرم میں سزا پانے والے شخص کو معافی دے سکتے ہیں یا اس کے سزا میں کمی کر سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے ساتھ ہی قانونِ فوجداری کے دفعہ 494 کے تحت سرکاری وکیل مجاز عدالت کے اجازت کے ساتھ استغاثہ کی طرف سے مقدمہ واپس لے سکتا ہے اگر یہ نظر آ رہا ہو کہ مقدمہ ملزم کے بری ہونے کے طرف جا رہا ہے۔
وکیل اعظم نذیر تارڑ کی مطابق ایسے قیدی جن کے خلاف مقدمات زیرِ سماعت ہوں ان کو عدالت ہی سے ضمانت لینا ہو گی۔ یہ ضمانت زیادہ تر مجاز ماتحت عدالت دیتی ہے تاہم اعلی عدالتیں بھی ضمانت دے سکتی ہیں۔
تاہم وکیل اسد جمال کا کہنا تھا کہ ریاست اور عدالتوں کے پاس ایسے اختیارات اور قوانین موجود تھے جن کو استعمال کر کے قیدیوں کے ایک بڑی تعداد کو رہا کیا جا سکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پروبیشن آف آفینڈرز آرڈیننس 1960 کے تحت ٹرائل عدالتوں کے پاس یہ وسیع اختیارات ہیں کہ وہ کسی ایسے قیدی کو مشروط رہائی دے دیں جو گھناؤنے جرائم کے مرتکب نہ ہوں۔
اسد جمال کے مطابق جوونائل جسٹس سسٹم 2018 کے تحت ٹرائل عدالت ایسے ملزمان کی ضمانت پر رہائی کا حکم دے سکتی ہے جویوونائل کے زمرے میں آتے ہوں اور کسی قابلِ ضمانت جرم کے مرتکب ٹھہرے ہوں۔اگر ان کے خلاف مقدمات کا فیصلہ ہونے میں چھ ماہ یا زیادہ کی تاخیر ہوئی ہو تو عدالت کسی بھی جرم میں ان کو ضمانت پر رہا کر سکتی ہے۔
وکیل اسد جمال نے بتایا کہ سزائے موت کے ملزم کا بھی حق ہے کہ اسے ضمانت پر اس صورت میں رہا کر دیا جائے جب اس کی خلاف مقدمہ دو سال یا اس سے زیادہ عرصے سے التوا کا شکار ہو اور اس کا فیصلہ نہ ہو پا رہا ہو۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی جیلوں میں قیدیوں کی ایک اچھی خاصی تعداد اس بحران کا شکار ہے اور ان کا حق ہے کہ انھیں بغیر کسی تاخیر کے ضمانت پر رہا کیا جائے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں جیلوں میں گنجائش سے کہیں زیادہ قیدی موجود ہیں۔ گزشتہ برس پاکستان کی سپریم کورٹ میں وفاقی محتسب کی جانب سے جمع کرائی گئی ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان بھر کی 114 جیلوں میں 77 ہزار سے زائد قیدی موجود تھے اس کے برعکس کہ ان جیلوں کی قیدیوں کی گنجائش 50 ہزار سے کچھ زیادہ ہے۔
