لاء افسران کی تقرری، اٹارنی جنرل کی فروغ نسیم سے وضاحت طلبی

وفاقی حکومت کی جانب سے مقرر کیے گئے نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کو خط کے ذریعے لا افسران کی تعیناتی کے حوالے سے شائع خبر کو ابہام کا باعث قرار دیتے ہوئے مناسب وضاحت جاری کرنے کا مطالبہ کردیا ہے۔
اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کی جانب سے جاری خط میں نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کے عہدہ سنبھالنے سے قبل ملک کے مختلف شہروں میں ڈپٹی اٹارنی جنرلز اور اسٹینڈنگ کونسل کی خالی آسامیاں پُر کرنے کی کوششیں انتہائی تیز کرنے سے متعلق شائع ہونے والی خبر کے حوالے سے وضاحت جاری کرنے کو کہا گیا ہے۔
یاد رہے کہ حکومت عام طور پر یہ تعیناتیاں اٹارنی جنرل کی مشاورت سے کرتی ہے جو اعلیٰ عدلیہ میں وفاقی حکومت کی نمائندگی کرتا ہے۔
نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عہدہ سنبھالنے کے بعد وفاقی وزیر قانون کو اس حوالے سے لکھا کہ ‘آپ نے ملاقات میں واضح کیا تھا کہ کسی لا افسر کو تعینات یا ہٹایا نہیں جا رہا’۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہمارےدرمیان اتفاق ہوا تھا کہ ہم آئین کی حدود میں رہتے ہوئے کام کریں گے اور قانون اور انصاف ڈویژن کوئی تعنیاتی، تبادلہ یا لاافسران سے متعلق دیگر معاملات کو اٹارنی جنرل آف پاکستان کی رضامندی کے بغیر نہیں کرے گا’۔ خالد جاوید خان نے اپنے خط میں کہا کہ ‘خبرنے قانون و انصاف ڈویژن اور اٹارنی جنرل کے دفتر کے درمیان تعلقات کے حوالے سے ابہام پیدا کر دیا ہے، آپ سے درخواست ہے کہ اخبارات میں اشاعت کے لیے قانون اور انصاف ڈویژن کی جانب سے باقاعدہ طور پر مناسب وضاحت جاری کی جائے’۔
اٹارنی جنرل نے آخر میں کہا کہ ‘مستقبل میں وزارت قانون، اٹارنی جنرل آفس کے درمیان اپنے حدود کے اندر ایک اچھے تعلق کے لیے پرامید ہوں’۔
خیال رہے کہ سابق اٹارنی جنرل انور منصور خان نے 18 جنوری کو جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس میں فل کورٹ کے سامنے متنازع بیان کے بعد پاکستان بار کونسل کے مطالبے پر استعفیٰ دے دیاتھا۔ وفاقی حکومت نے انور منصور خان کی جگہ خالد جاوید خان کو نیا اٹارنی جنرل مقرر کردیا اور انہوں نے باقاعدہ طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں تاہم فل کورٹ کے سامنے حکومت کی پیروی کرنے سے معذرت کرلی۔
یاد رہے کہ اس حوالے سے شائع ہونے والی ایک خبر میں کہا گیا تھا کہ نئے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان کے عہدہ سنبھالنے سے قبل ملک کے مختلف شہروں میں ڈپٹی اٹارنی جنرلز (ڈی اے جیز) اور اسٹینڈنگ کونسل کی خالی آسامیاں پُر کرنے کی کوششیں انتہائی تیز کردی گئی ہیں۔ باخبر ذرائع نے بتایا تھا کہ مختلف شہروں سے بڑی تعداد میں وکلا نے محکمہ قانون پہنچ کر فوری طور پر اپنی سی وی جمع کروائی تاکہ ان میں سے جو موزوں امیدوار ہوں انہیں خالی آسامیوں پر تعینات کیا جاسکے۔ عمومی طور پر حکومت یہ تعیناتیاں اٹارنی جنرل کی مشاورت سے کرتی ہے جو اعلیٰ عدلیہ میں وفاقی حکومت کی نمائندگی کرتا ہے۔ ملک کے مختلف شہروں میں ڈپٹی اٹارنی جنرلز اور اسٹینڈنگ کونسل کی متعدد آسامیاں خالی ہیں مثلاً کراچی میں 2 اور پشاور میں ایک اور کچھ آسامیاں لاہور اور کوئٹہ میں ہیں، یہ لا آفیسرز صوبائی ہائی کورٹس میں وفاقی حکومت کی نمائندگی کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button