لانگ مارچ سے پہلے کے ڈیڑھ ماہ میں پی ٹی ایم کیا کرنے والی ہے؟

پی ڈی ایم اتحاد کے پلیٹ فارم سے لاہور کے تاریخی جلسے کے بعد لانگ مارچ کا باقاعدہ اعلان تو فروری کے اوائل میں ہو گا لیکن اس لمبے وقفے کے دوران بھی حکومت پر دبائو بڑھانے کے لئے پی ڈی ایم مختلف شہروں میں ریلیاں اور رابطہ عوامی مہم جاری رکھے گی۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت مخالف تحریک کا درجہ حرارت آخری حد تک بڑھا کر اس کے بعد ڈیڑھ مہینے کا بڑا وقفہ ڈال دینا سمجھ سے باہر ہے چونکہ اس سے تحریک کا ٹیمپو ٹوٹنے کا خطرہ ہے۔ تاہم اپوزیشن ذرائع کا کہنا ہے کہ دسمبر اور جنوری کے سرد ترین موسم میں عوام کو جلسوں کے لئے باہر نکالنا اپنے علاوہ عوام کے ساتھ بھی ذیادتی ہے اور ویسے بھی وزیر اعظم کو استعفے پر سوچنے کے لیے ڈیڑھ ماہ کا وقت دیا جانا چاہیے۔
یاد رہے کہ اپوزیشن اتحاد نے عمران حکومت کو 31 جنوری تک مستعفی ہونے کی مہلت دیتے ہوئے فروری میں اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کیا تھا۔ تاہم 13 دسمبر کو لاہور میں ہونے والے آخری جلسے سے لانگ مارچ تک پی ڈی ایم کے پاس تقریباً ڈیڑھ ماہ سے زائد کا وقت موجود ہے۔ ایسے میں سوال کیا جا رہا ہے کہ اس وقفے میں اپوزیشن ایسی کیا حکمت عملی اختیار کرے گی کہ حکومت پر دباؤ برقرار رہے اور اس کی تحریک کا ٹیمپو بھی نہ ٹوٹے؟ اس حوالے سے پی ڈی ایم قیادت کا موقف ہے کہ وہ اس ڈیڑھ ماہ کے وقفے میں ملک کے طول عرض میں عوام کو لانگ مارچ کے لیے تیار کرے گی۔ اس سلسلے میں ملک کے 11 ڈویژنز میں عوامی ریلیاں ہوں گی جن میں پی ڈی ایم کی مرکزی قیادت شریک ہو گی۔
اپوزیشن ذرائع کہتے ہیں کہ اس دوران 27 دسمبر کو سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو شہید کی برسی پر لارکانہ میں ہونے والے جلسے میں پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے مسلم لیگ ن کی سربراہ مریم نواز سمیت پی ڈی ایم کی تمام قیادت کو مدعو کیا ہے۔اس کے علاوہ 23 دسمبر کو مردان میں ریلی ہوگی۔ مردان اور لاڑکانہ کے بعد پی ڈی ایم قیادت 30 دسمبر کو بہاولپور جائے گی جبکہ چھ جنوری کو بنوں، نو جنوری کو سیالکوٹ، 11 جنوری کو مالاکنڈ، 13 جنوری کو لورالائی، 16 جنوری کو تھرپارکر، 18 جنوری کو خضدار، 23 جنوری کو سرگودھا اور 27 جنوری کو فیصل آباد میں ریلیاں ہوں گی۔پی ڈی ایم ذرائع کے مطابق اس عرصے کے دوران پی ڈی ایم کی عوامی ریلیاں لانگ مارچ کی تیاریوں کا موثر ذریعہ ہوں گی اور ڈویژن کی سطح پر عوام کو متحرک کیا جا سکے گا تاکہ اگر ضرورت پڑی تو حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاروں صوبوں کی اہم شاہراؤں کو بلاک کیا جا سکے۔
دوسری جانب سیاسی مبصرین کے نزدیک اپوزیشن کی تحریک کے طویل وقفے کی کئی اہم وجوہات ہیں۔ سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کی تحریک میں وقفے کے تین پہلو ہیں۔ان کے نزدیک پہلی بات تو شدید سرد موسم ہے جس میں عوام کا باہر نکلنا مشکل ہوتا ہے۔ دوسری بات اپوزیشن اس وقفے کے دوران اپنی صفیں درست کرے گی اور اتحاد میں شامل جماعتوں کے درمیان مکمل اتفاق رائے کی کوشش کی جائے گی۔سہیل وڑائچ کا کہنا تھا کہ اس وقفے کا تیسرا پہلو یہ بھی ہے کہ ہو سکتا ہے واقعی اپوزیشن حکومت کو سوچنے اور فیصلہ کرنے کا وقت دینا چاہتی ہو۔سیاسی تجزیہ کار زاہد حسین کا کہنا ہے کہ کسی بھی سیاسی تحریک کو وقفے کے بغیر مسلسل آگے بڑھانا آسان نہیں ہوتا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اکثر سیاسی تحریکوں کو اس دوراہے کا سامنا ہوتا ہے کہ اگر وہ وقفہ لیں تو تحریک کا تسلسل ٹوٹنے کا خطرہ ہوتا ہے جبکہ وقفہ نہ لیں تو لوگوں کو لانگ مارچ جیسے عمل کے لیے تیار کرنے کا وقت نہیں ملتا۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک چیلنج ہے جو عوامی تحریکوں کو بہرحال درپیش ہوتا ہے۔زاہد حسین کے مطابق موسم تو پاکستان میں جنوری اور فروری دونوں ماہ میں ہی شدید ہوتا ہے لیکن اپوزیشن کو سینٹ انتخابات سے پہلے ہی حکومت کو دباؤ میں لانا ہے۔ تاہم ان کا کہنا تھا لانگ مارچ سے حکومت دباؤ میں تو آ سکتی ہے لیکن حکومت کا جانا مشکل نظر آتا ہے۔
