لانگ مارچ میں پرویز الٰہی عمران کی حمایت نہیں کریں گے

معروف صحافی اعزاز سید نے کہا ہے کہ حکومت مخالف لانگ مارچ کے لیے پرویز الٰہی کے لیے اپنے نئے قائد عمران خان کی ویسے حمایت کرنا کافی مشکل ہوگا جیسی کہ عمران خان توقع کر رہے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ پرویز الٰہی سابق وزیر اعظم کی کسی ایسی کارروائی کی حمایت نہیں کریں گے جس میں وہ ٹکراؤ کی طرف جاتے ہوئے نظر آئیں کیونکہ عمران کا لانگ مارچ صرف حکومت کے خلاف نہیں ہے بلکہ انہوں نے پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے خلاف بھی اعلان جنگ کر رکھا ہے۔ اعزاز سید کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے عمران کے ممکنہ لانگ مارچ کو روکنے کے لیے پولیس فورس کے علاوہ فوج کو بھی دارالحکومت اسلام آباد میں تعینات کرنے کا اعلان کر دیا ہے جس کے بعد پرویز الٰہی عمران کا ساتھ دینے سے پہلے سو مرتبہ سوچیں گے۔ انکا کہنا ہے کہ حکومت کا یہ فیصلہ علامتی طور پر بہت اہم ہے۔ آرمی کے تعینات ہونے کے بعد میرا نہیں خیال کہ عمران خان کسی ٹکراؤ کی طرف جائیں گے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے 25 مئی کو بھی عمران کا لانگ مارچ اسی لیے ناکام ہوگیا تھا کہ پولیس کے پیچھے ہٹنے کے بعد رینجرز کے دستوں نے مظاہرین پر شدید آنسو گیس پھینکنا شروع کر دی تھی جس کے بعد مظاہرین کو منتشر ہونا پڑا اور عمران کو راہ فرار اختیار کرنا پڑی۔
نیا دور ٹی وی کے ٹاک شو "خبر سے آگے” میں گفتگو کرتے ہوئے اعزاز سید کا کہنا تھا کہ یہ 2014 نہیں ہے کہ ڈی جی آئی ایس آئی ظہیر السلام خان صاحب کے ساتھ کھڑے ہیں اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے بھی آنکھ ماری ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہ صورتحال تھی جس میں عمران نے فوجی اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور مدد سے اسلام آباد پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور تمام رکاوٹیں توڑتے ہوئے پارلیمنٹ کی بلڈنگ اور پی ٹی وی کی عمارت میں داخل ہوگئے۔ لیکن تب بھی وہ حکومت گرانے میں ناکام رہے تھے اور انہیں 124 روز تک دھرنا دینے کے بعد خالی ہاتھ واپس جانا پڑا تھا۔
اعزاز سید نے کہا کہ یہ 2022 ہے اور فوج حکومت کے ساتھ کھڑی ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ بھی ریٹائرمنٹ کا اعلان کر چکے ہیں اور اسٹیبلشمنٹ یہ سمجھتی ہے کہ اس وقت ملکی معیشت کو سنبھالنے کے لیے سیاسی استحکام ضروری ہے۔ دوسری جانب عمران دو معاملات کے بارے میں سرگرم ہیں؛ پہلا ایشو آرمی چیف کی تعیناتی ہے اور دوسرا الیکشن کمیشن سے اپنی ممکنہ نااہلی رکوانا۔ اعزاز سید کا کہنا تھا کہ عمران خان لانگ مارچ کے ذریعے فوج پر دباؤ ڈال کر اپنی نااہلی رکوانے کا مطالبہ کریں گے۔ اس سے پہلے انہوں نے آرمی چیف کے ساتھ ایوان صدر میں خفیہ ملاقات کرکے جو مطالبات کیے تھے وہ رد کر دیے گئے۔ عمران خان کی جانب سے جنرل باجوہ کے عہدے میں توسیع کی تجویز بھی مسترد کر دی گئی ہے اور اب تو آرمی چیف خود ریٹائرمنٹ کا اعلان کر چکے ہیں۔ لہٰذا اب یہ کہانی ختم ہوتی نظر آتی ہے۔ اب عمران خان نئے چیف کی تعیناتی پر اثرانداز ہونے کی کوشش کریں گے تو سہی مگر وہ ایسا کر نہیں سکیں گے کیونکہ نہ ہی حکومت چاہے گی اور نہ فوج اس کی اجازت دے گی۔
