لانگ مارچ ناکام بنانے کیلئے ہر حربہ استعمال کریں گے

وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ لانگ مارچ ناکام بنانے کیلئے ہر حربہ استعمال کریں گے،اسے اس انداز میں روکیں گے کہ ان کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا، عمران خان کی بھول ہے کہ لانگ مارچ اسلام آباد پہنچ جائیگا،جس لیے سکیورٹی اداروں کو ہر طرح کا اختیار دیا جائے گا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر داخلہ کا کہنا تھاعمران خان نے امریکی سازش کے جھوٹے بیانیے سے پوری خارجہ پالیسی اور سفارتی آداب کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے اور ملک کو اتنا نقصان پہنچایا ہے کہ پاکستان کو اس کے اثرات کئی دہائیوں تک برداشت کرنے پڑیں گے،عمران خان کی چیزوں کا ادراک کرنا چاہیے ورنہ یہ قوم کو کسی حادثے سے دوچار پہنچائے گا اور ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کر دے گا۔
انکا کہناتھایہ اس قوم پر اللہ کا رحم ہے کہ یہ فتنہ بے نقاب ہو رہا ہے، قوم کو اس کی شناخت ہو رہی ہے لہٰذا اب قوم کا بھی فرض ہے کہ وہ اللہ طرف سے اس رہنمائی سے فائدہ اٹھائے اور اس کی شناخت کرے، اس کا ادراک کرے،یہ شخص اتنا بڑا فراڈ ہے، کس طرح سے اس نے امریکی لیٹر لہرایا اور یہ بیانیہ بنایا کہ غداری ہو گئی ہے، یہ قوم غلام ہو گئی ہے، اس قوم کی آزادی سلب ہو گئی ہے لیکن ایکسپوز یہ ہوا کہ یہ سب تو فراڈ تھا۔
انہوں نے کہا یہ قوم کے ساتھ کھیل کھیل رہا تھا اور قوم کو کہہ رہا تھا کہ کتنا بڑا حادثہ ہو گیا ہے، امپورٹڈ حکومت باہر سے مسلط کردی گئی ہے، قوم کی حقیقی آزادی کو سلب کر لیا گیا ہے اور اب جس حقیقی آزادی کے معنی نہیں ہیں، اس کے اوپر لوگوں سے حلف لے رہا ہے، جن نوجوانوں کو اس نے گمراہ کیا ہے ان سے حلف لے رہا ہے کہ ہم اس حقیقی آزادی کے لیے کچھ بھی کرنے کو تیار ہیں، اب کوئی پوچھے کہ حقیقی آزادی کیا ہے تو نہ اس کو خود کچھ پتا ہے، نہ ان بچوں کو اس کا علم ہے۔
وزیر داخلہ نے کہا یہ پہلے ایکسپوز ہوا اور آج تو رہی سہی کسر بھی پوری ہو گئی ہے، آج قوم کو اس قدر رہنمائی اور روشنی ملی ہے کہ اس فتنے کا ادراج ہو جانا چاہیے، آج معاشرے کے تمام طبقوں کہ اس فتنے کو اس طرح سے ایکسپوز کیا جائے کہ پوری قوم کو اس کی شناخت ہو جائے۔
پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے مبینہ طور پر عمران خان کی لیک ہونے والی تیسری آڈیو بھی چلائی کہ یہ تحریک عدم اعتماد کے دنوں کی بات ہے، اس نے پوری خارجہ پالیسی اور سفارتی آداب کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے، اس نے جو کھیل کھیلا ہے تو کیا کوئی ڈملومیٹ سائفر بھیجے گا کیونکہ اسے ڈر ہو گا کہ میں انکوائریاں بھگتا پھروں گا، کسی بھی ملک کا سفارتکار آپ سے کوئی بات اعتماد میں لے کر نہیں کر سکے گا۔
رانا ثنا اللہ نےکہا جھوٹا بیانیہ گھڑنے کے لیے اس نے کس طرح کا کھیل قوم کے ساتھ کھیلا اور خارجہ پالیسی اور سفارتی معاملات کو زہر آلود کردیا، اتنا نقصان پہنچایا ہے کہ پاکستان کو اس کے اثرات کئی دہائیوں تک برداشت کرنے پڑیں گے۔
