لانگ مارچ کے اعلان پر عمران کو نظر بند کرنے کا منصوبہ

وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر عمران خان نے لانگ مارچ کا اعلان کرتے ہوئے فساد پھیلانے کی کوشش کی تو انہیں انکی بنی گالہ رہائش گاہ پر ہی نظر بند کر دیا جائے گا۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ انہیں نقص امن کے قانون کے تحت نظر بند کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا جس میں لانگ مارچ کے منصوبے کو ریاست کے خلاف ’سازش‘ قرار دیا گیا۔ وزیر اعظم ہاؤس سے جاری بیان میں شرکا نے کہا کہ عمران کا یہ مارچ سیاسی نہیں سازشی ہے اور اس سازش سے قانون کے تحت نمٹنے کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف کو مکمل اختیار دے دیا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ وزیراعظم نے وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ خان کو ہدایت کی ہے کہ شرپسندوں کو لانگ مارچ کی آڑ میں اسلام آباد میں فساد پھیلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور جیسے ہی لانگ مارچ کا اعلان ہو تو عمران خان کو ان کی بنی گالہ رہائش گاہ پر ہی نظر بند کردیا جائے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ اگر عمران خان نے ماضی کی طرح خیبر پختونخواہ جاکر لانگ مارچ کا اعلان کیا تو پھر انہیں نظربند کیسے کیا جائے گا؟
یاد رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین پارٹی کارکنوں سے کہہ چکے کہ وہ وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر قیادت موجودہ مخلوط حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے فیصلہ کن لانگ مارچ کے لیے تیار رہیں، حالیہ دنوں میں عمران نے پشاور سے میانوالی تک اپنے جلسوں کے دوران شرکاء سے حلف لیا کہ وہ ان کے حقیقی آزادی مارچ کو جہاد سمجھ کر اس میں شرکت کریں گے اور ہر طرح کی قربانی دیں گے۔ ایسے میں حکومت کا یہ خیال ہے کہ عمران اپنا فوری الیکشن کا مطالبہ منظور نہ ہونے اور جنرل قمر باجوہ کی جانب سے عہدے میں توسیع نہ لینے کے اعلان کے بعد شدید مایوسی کا شکار ہیں اور ان کے پاس واحد راستہ احتجاج کے ذریعے جانی اور مالی نقصان کرنا ہے تاکہ ملک میں فساد پھیلایا جا سکے۔ اس لیے فیصلہ یہی کیا گیا ہے کہ پلان اے کے تحت یا تو عمران کو بنی گالہ رہائش گاہ پر نظربند کر دیا جائے اور اگر وہ کسی اور شہر سے لانگ مارچ شروع کریں تو پلان بی کے تحت انہیں اسلام آباد میں داخل ہونے سے قبل ہی گرفتار کر لیا جائے۔
پلان بی کے مطابق اگر عمران خیبر پختونخوا یا پنجاب سے لانگ مارچ شروع کرتے ہیں اور جنوب سے دارالحکومت میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں روات ٹی کراس پر گرفتار کیا جائے گا۔حکومتی ذرائع نے بتایا کہ اگر عمران خان نے شمال مغرب سے دارالحکومت میں داخل ہونے کی کوشش کی تو پھر انہیں ترنول میں گرفتار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عمران کی اپنی سکیورٹی پر مامور اسلام آباد پولیس ٹیم انکی گرفتاری میں اہم کردار ادا کرے گی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے لانگ مارچ سے نمٹنے کے لیے حفاظتی انتظامات پر کم از کم 50 کروڑ روپے لاگت آنے کا امکان ہے، اس سے پہلے عمران خان کا 25 مئی کا اسلام آباد لانگ مارچ روکنے کے لیے حکومتی اقدامات پر 15 لاکھ روپے لاگت آئی تھی۔
پولیس، سکیورٹی اور انٹیلی جنس اداروں کے حکام کے درمیان ہونے والے اجلاس میں لانگ مارچ کے اعلان کے بعد دارالحکومت کو ایک ہفتے کے لیے مکمل طور پر سیل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے، حکام نے بتایا ہے کہ لانگ مارچ کے دوران تعلیمی ادارے ایک ہفتے کیلئے بند رہیں گے اور امتحانات ملتوی کردیے جائیں گے۔ لانگ مارچ کے شرکا کو روکنے کے سلسلے میں دارالحکومت کو بند کرنے کے لیے انتظامیہ نے کم از کم 1100 کنٹینرز کا انتظام کرلیا ہے، اس کے علاوہ 60 ہزار آنسو گیس کے شیلز بھی اسلام آباد پہنچا دیے گئے ہیں۔ احتجاج کے پیش نظر متعلقہ حکام نے مختلف مقامات کی اہم شاہراہوں پر کنٹینرز لگانے کا فیصلہ کیا ہے، کنٹینرز فیض آباد، جی ٹی روڈ، اولڈ موٹروے ٹول پلازہ، نیو مارگلہ روڈ سنگجانی، فتح جنگ روڈ پر نوگازی مزار، بھڈانہ کلاں، نوگازی فیصل ٹاؤن اور چونگی نمبر 26 پر رکھے جائیں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ آنسو گیس کی شیلنگ کے لیے پہلی بار ہیلی کاپٹر اور ڈرون استعمال کیا جائے گا اور اس سلسلے میں دارالحکومت پولیس کو کم از کم 10 ڈرون فراہم کیے جارہے ہیں۔ اسی طرح لانگ مارچ کا مقابلہ کرنے کے لیے کم از کم 30 ہزار ربڑ کی گولیوں کا بھی انتظام کیا گیا ہے، پولیس حکام نے بتایا کہ امن و امان کی صورتحال کو قابو میں رکھنے کے لیے سندھ پولیس، رینجرز اور ایف سی کے تقریباً 25 ہزار اہلکار اور افسران تعینات کیے جائیں گے۔ حکام نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد پولیس پی ٹی آئی کے ہمدردوں کو بھی گرفتار کرے گی، وفاقی، پنجاب اور کے پی حکومتوں کے ان عہدیداروں اور حکام کی بھی نشاندہی کی جا رہی ہے جو پی ٹی آئی کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں یا لانگ مارچ میں سیاسی جماعت کی مدد کرسکتے ہیں، نشاندہی کے بعد وفاقی افسران کے خلاف سخت تادیبی اور محکمانہ کارروائی شروع کی جائے گی جب کہ اسی طرح کی کارروائی کی سفارشات صوبوں کو بھی بھیجی جائیں گی۔
