لانگ مارچ کے دوران فوجی افسران سے استعفے دلوانے کا منصوبہ

سینئر صحافی اور تجزیہ کار اسد علی طور نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان اپنے مجوزہ لانگ مارچ کے دوران فوج کے چند حاضر سروس افسران سے استعفے دلوا کر حکومت کے خلاف بغاوت کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کریں گے اور اس منصوبے پر عمل درآمد کے لئے انہوں نے کچھ سابق فوجیوں کی خدمات حاصل کر لی ہیں۔ اسد طور کا کہنا ہے کہ عمران نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ایوانِ صدر میں جو ملاقات کی تھی، اس کا مقصد یہی تھا کہ وہ آرمی چیف کو مدتِ ملازمت میں توسیع کی آفر کریں تاکہ وہ حکومت کا ساتھ چھوڑ کر دوبارہ ان سے ہاتھ ملا لیں۔ لیکن آرمی چیف نے ان کی یہ پیشکش قبول نہیں کی جس کے بعد عمران کا لہجہ ایک مرتبہ پھر ان کے بارے میں تلخ ہو گیا۔ ایوان صدر میں ہونے والی خفیہ ملاقات کی ناکامی کے بعد عمران خان نے ایک جلسے سے خطاب میں جنرل باجوہ کو بالواسطہ تنقید کا نشانہ بنایا اور ان۔پر ایک بڑا حملہ کرتے ہوئے کہا کہ شیروں کی فوج کا لیڈر اگر ایک گیدڑ ہو تو وہ جنگ ہار جایا کرتی ہے۔
ایک انٹرویو میں اسد علی طور نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر باجوہ کی جانب سے ریٹائرمنٹ کے اعلان کے بعد اب عمران خان کے لئے معاملات اور بھی گھمبیر ہوتے نظر آتے ہیں کیونکہ ان کا آخری جوا بھی ناکام ہو گیا یے۔ انکا کہنا تھا کہ جب کوئی آرمی چیف ریٹائیر ہونے والا ہوتا ہے تو اسکی کمانڈ کافی کمزور ہو جاتی ہے۔ جنرل قمر باجوہ بھی اب جانے والے ہیں لیکن پی ڈی ایم حکومت نے نئے چیف کی تقرری کے حوالے سے مکمل چپ سادھ رکھی ہے جو کہ وقت کا تقاضا بھی ہے چونکہ سیاسی بے یقینی کسی بھی قسم کی صورتحال میں ڈھل سکتی ہے۔ انکا کہنا تھا کہ حکومت اگلے فوجی سربراہ کی تعیناتی تک کا عرصہ بہت محتاط ہو کر گزارنا چاہتی ہے کیونکہ عمران خان نے اس معاملے کو بہت زیادہ متنازعہ بنا دیا ہے۔ یاد رہے کہ جنرل باجوہ کی جانب سے نومبر میں ریٹائر ہو کر گھر جانے کے اعلان کے بعد عمران نے اپنی حکومت مخالف تحریک میں تیزی لاتے ہوئے کسی بھی وقت اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ اس کے علاوہ وہ مختلف شہروں میں جلسے کرتے ہوئے اپنے فالوورز سے حقیقی آزادی کی جنگ کو جہاد سمجھ کر اس میں بھرپور حصہ لینے کا حلف بھی لے رہے ہیں۔
اب اس حوالے سے اسد طور نے انکشاف کیا ہے کہ عمران خان کے مجوزہ لانگ مارچ کے دوران کچھ حاضر سروس فوجی افسران حکومت کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے استعفے دے سکتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران کی جانب سے کچھ ریٹائرڈ افسران کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ ماضی میں اپنی کمانڈ میں کام کرنے والے حاضر سروس افسران کو لانگ مارچ کے دوران حکومت کے خلاف استعفے دئنے پر راضی کریں تاکہ ان کی تحریک کا ٹیمپو بن جائے۔ اسد طور کے مطابق عمران خان سمجھتے ہیں کہ ان کے لانگ مارچ کے دوران اگر چند فوجی افسر استعفے دے کر ان کے ساتھ سٹیج پر حکومت مخالف تقاریر کر ڈالیں تو وہ یہ تاثر دینے میں کامیاب ہو جائیں گے کہ فوج کے ادارے میں بھی حکومت کے خلاف بغاوت ہو رہی ہے۔اسد نے کہا کہ عمران اسی امید پر بھروسہ کیے ہوئے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ لیکن ان کا اصل ہدف اسلام آباد نہیں، راولپنڈی ہے۔ عمران چاہتے ہیں کہ جی ایچ کیو پر مذید دباؤ ڈالا جائے اور اسکی مدد سے اسلام آباد میں براجمان پی ڈی ایم حکومت کو چلتا کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ عمران خان کی خواہش پر کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران کے خاندانوں نے حاضر سروس لوگوں کے خاندانوں سے رابطے شروع کر رکھے ہیں۔
اسد علی طور کے مطابق جی ایچ کیو والوں کو بھی اندازہ ہے کہ عمران یہ سب کچھ کس جنرل کے ایما پر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس ساری گیم میں جو شخص عمران خان کو گائیڈ کر رہا ہے اس نے پچھلے دنوں 20 روز کی چھٹیوں کی درخواست دی تھی جو کہ مسترد کردی گئی۔ سینئیر صحافی نے کہا کہ عمران کے جو مشیر ماضی میں ان کے لانگ مارچ ہینڈل کرتے رہے ہیں وہی اس مرتبہ بھی انہیں احتجاج کی تیاری کروا رہے ہیں۔ عمران خان کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ ہر صورت اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کریں لیکن اگر انہیں وفاقی دارالحکومت میں داخلے کی اجازت نہ ملے تو وہ اپنے ساتھیوں کے ذریعے ملک کی تمام اہم ترین سڑکیں بلاک کروا دیں تاکہ پورا ملک جام کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ وزیر داخلہ رانا ثنااللہ عمران کو چیلنج کر چکے ہیں کہ وہ اسلام آباد آ کر دکھائیں۔ وہ بارہا دعویٰ کر چکے ہیں کہ ان کے پاس عمران کے لئے ‘شافی’ علاج موجود ہے۔ یہ الفاظ انہوں نے گذشتہ ہفتے حامد میر کو انٹرویو کے دوران ادا کیے تھے۔
دوسری جانب وفاقی حکومت لانگ مارچ کنٹرول کرنے کے لئے تیاریاں مکمل کر چکی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد پولیس کو تیار کرنے کے علاوہ سندھ اور بلوچستان سے بھی پولیس فورس منگوا لی گئی ہے۔ رینجرز کی خدمات بھی حاصل کی جا رہی ہیں اور وفاقی دارالحکومت میں اہم عمارات کی سکیورٹی فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 1200 کنٹینرز بھی اسلام آباد منگوا لیے گئے ہیں اور 60000 آنسو گیس شیلز کا بندوبست بھی کر لیا گیا ہے۔ رانا ثناء اللہ خان کا کہنا ہے کہ انہوں نے جتنی نفری کا بندوبست کیا ہے وہ عمران کے لانگ مارچ کو کاؤنٹر کرنے کے لیے کافی ہے۔ اسد طور کا کہنا ہے کہ میری اطلاع کے مطابق اکتوبر کے آخری دس دنوں میں لانگ مارچ ہوگا، لیکن یہ تاریخ اس سے پہلے بھی آ سکتی ہے کیونکہ یہ بھی ممکن ہے کہ عمران لاہور یا پشاور کی بجائے اسلام آباد سے ہی اچانک مارچ کی شروعات کر دیں۔ لیکن وزارت داخلہ کے ذرائع کے مطابق اگر عمران نے ایسا کوئی اعلان کیا تو انہیں انکی بنی گالہ رہائش گاہ میں ہی نظر بند کر دیا جائے گا۔
