لاک ڈاؤن، عوام اپنا وقت کہاں گزار رہے ہیں؟ گوگل نے بتا دیا

لاک ڈاؤن کے دوران گوگل نے پاکستان میں عوامی نقل و حرکت پر رپورٹ جاری کردی. گوگل نے لاک ڈاؤن کے بعد اسٹیشنز، کام کی جگہوں، تفریحی مقامات اور دیگر جگہوں پر عوامی نقل و حرکت کا جائزہ لیا ہے۔ عالمی وبا کورونا وائرس نے تیزی سے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے جس کے سبب متعدد ممالک نے وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن اور جزوی کرفیو لگا رکھا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گوگل نے ایک کمیونٹی موبلیٹی رپورٹ جاری کی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ کیسے سماجی دوری اور لاک ڈاؤن نے لوگوں کی نقل و حرکت کو متاثر کیا ہے۔رپورٹ کے مطابق لاک ڈاؤن کے باعث پاکستان میں ریٹیل اور تفریحی مقامات میں عوامی نقل و حرکت میں 70 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے جس میں ریسٹورینٹس، کیفے، شاپنگ سینٹرز، سنیما، لائبریری اور دیگر مقامات شامل ہیں۔
دوسری جانب سپر مارکیٹس اور میڈیکل اسٹورز میں عوام کی نقل و حرکت میں 55 فیصد کمی جب کہ پارکس میں 45 فیصد کمی دیکھنےمیں آئی ہے۔گوگل کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق لوگ پہلے کی نسبت 18 فیصد زیادہ گھروں میں رہ رہے ہیں جب کہ پبلک ٹرانسپورٹ میں بھی عوام کی نقل و حرکت میں 62 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔رپورٹ میں مقامات پر عوام کی بالکل صحیح تعداد نہیں بتائی گئی ہے کیوں کہ موصول ہونے والا ڈیٹا گوگل میپ کے مطابق ہے۔
5e8734b798ad6
اس رپورٹ کے لیے گوگل نے ایسے افراد کا ڈیٹا استعمال کیا جنہوں نے اپنی لوکیشن ہسٹری گوگل میں اسٹور کرنے کے آپشن کو اختیار کررکھا ہے، تاکہ یہ جاننے میں مدد مل سکے کہ لوگ سماجی دوری کی حکومتی ہدایات کی کس حد تک تعمیل کرہے ہیں۔اس کے لیے پاکستان سمیت 131 ممالک کے ڈیٹا کو جاری کیا گیا اور کمپنی کا کہنا تھا ‘ اس وقت جب عالمی برادری کووڈ 19 وبا پر ردعمل ظاہر کررہی ہے، وہیں عوامی طبی حکمت عملیوں جیسے سماجی دوری کے اقدامات پر زور دیا جارہا ہے تاکہ وائرس کے پھیلائو کو سست کیا جاسکے، اس مقصد کے لیے ہم نے ڈیٹا اکٹھا کیا تاکہ بتایا جاسکے کہ مخصوص مقامات پر اب کتنے لوگ ہوتے ہیں، مقامی کاروبار پر کس وقت زیادہ رش ہوتا ہے’۔
5e8734b7a1cb7
گوگل کی جانب سے ہر ملک میں عوامی نقل و حرکت کے مقامات کو 6 کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا۔ریٹیل اینڈ ریکریشن میں ریسٹورنٹس، کیفے، شاپنگ سینٹرز، تھیم پارکس، میوزیم، لائبریریز اور سنیما گھروں کو شامل کیا گیا۔گروسری اینڈ فارمیسی میں سودا سلف کی مارکیٹیں، فوڈ وئیر ہائوس، فارمرز مارکیٹ، کھانے پینے کی دکانیں، میڈیکل اسٹور شامل تھے۔پارکس میں ساحلی مقامات، پلازے اور دیگر عوامی مقامات کو شامل کیا گیا۔ٹرانزٹ اسٹیشنز کی کیٹیگری میں پبلک ٹرانسپورٹ مراکز شامل تھے۔ورک پلیسز دفاتر پر مشتمل کیٹیگری تھی جبکہ ریذیڈنس لوگوں کے گھروں کو کور کرنے والا شعبہ تھا۔
گوگل کے ڈیٹا کے مطابق پاکستان میں 16 فروری سے 29 مارچ تک ان کیٹیگریز میں درج ذیل تبدیلیاں عمل میں آئیں۔
ریٹیل اینڈ ریکریشن یعنی ریسٹورنٹس، ہوٹلوں اور دیگر مقامات پر لوگوں کے جانے کی شرح میں 70 فیصد تک کمی آئی۔گروسری کیٹیگری یعنی اشیائے خورونوش کی خریداری کے لیے گھر سے باہر نکلنے کی شرح 55 فیصد تک کم ہوگئی، پارکس یعنی تفریحی مقامات پر جانے کی شرح 45 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی۔پبلک ٹرانسپورٹ کے مراکز پر جانے کی شرح میں 62 فیصد کمی آئی، جبکہ دفاتر جانے والے افراد کی تعداد 41 فیصد کم ہوگئی۔اس کے مقابلے میں گھروں پر لوگوں کی مجودگی میں 18 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ویسے تو یہ 16 فروری سے 29 مارچ تک ہونے والی تبدیلیاں ہیں مگر ڈیٹا سے اندازہ ہوتا ہے بنیادی طور پر کمی یا اضافے کا سلسلہ 10 سے 29 مارچ کے درمیان دیکھنے میں آیا، خصوصاً ملک بھر میں لاک ڈائون کے بعد۔گوگل ڈیٹا میں کسی فرد کی معلومات کی شناخت نہیں کی جاسکتی اور نہ ہی کسی مخصوص کیٹیگری والے مقام پر جانے کے اعدادوشمار دیئے گئے۔گوگل کا کہنا ہے کہ مستقبل قریب میں وہ ڈیٹا کو اپ ڈیت کرنے کا ارادہ رکھتا ہے مگر اس پر عملدرآمد کے دورانیے کا فیصلہ ابھی نہیں ہوا۔
ملک میں کورونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 40 تک جاپہنچی ہے جب کہ مزید کیسز سامنے آنے کے بعد متاثرہ مریضوں کی مجموعی تعداد 2700 سے تجاوز کرگئی ہے۔پاکستان میں اب تک کورونا سے ہونے والی ہلاکتوں میں سب سے زیادہ 14 ہلاکتیں سندھ میں ہوئی ہیں جب کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 11،11، گلگت میں 3 اور بلوچستان میں ایک ہلاکت ہوئی ہے۔
دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 10 لاکھ 99 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جب کہ وائرس سے 59 ہزار سے زائد افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button