لاک ڈاؤن بارے وفاق کے فیصلوں پر100فیصد عمل کریں گے

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن سے متعلق وفاق کے ساتھ چلیں گے، پیر (11 مئی) سے فجر سے شام 5 تک دکانیں کھلیں گی لیکن 9 مئی سے پہلے جو کاروبار اور دفاتر بند تھے وہ بند رہیں گے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ لاک ڈاؤن کا فیصلہ عجلت میں کیا، ایسا بلکل نہیں اگر لاک ڈاؤن نہیں کرتے تو حالات مزید خراب ہوتے، لاک ڈاؤن کھولنے سے کیسزمیں تیزی آئے گی لہذا وزیراعظم کو کل کہا کہ حقائق کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وفاق صوبوں سے مشاورت کے ساتھ فیصلے کرے، اس وقت ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے لہذا جذبات کے بجائے ڈیٹا اور زمینی حقائق کے مطابق فیصلے کیے جائیں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ شہری گھروں پر رہیں، جب بھی باہر جائیں ماسک پہننے کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں اور ذیابیطس سمیت دیگر بیماریوں میں مبتلا افراد باہر جانے سے گریز کریں۔انہوں نے کہا کہ پچھلے 24 گھنٹے میں ہم نے 5 ہزار 532 ٹیسٹ کیے جس کے بعد اب تک مجموعی طور پر 81 ہزار 810 ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا کہ پچھلے 24 گھنٹوں میں 598 افراد کا ٹیسٹ مثبت آیا جس کے بعد صوبے میں وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 9 ہزار 691 ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ 87 افراد صحتیاب ہوئے، جس کے بعد صوبے میں ایک ہزار 940 لوگ وائرس کو شکست دے چکے جبکہ 5 لوگ وفات پاگئے ہیں جس سے اموات کی مجموعی تعداد 176 ہوگئی۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت صوبے میں 7 ہزار 575 ایکٹو مریض ہیں، ان میں 6 ہزار 421 گھروں میں آئسولیشن میں ہیں، 687 حکومت کے آئسولیشن مراکز میں ہیں اور 527 افراد مختلف ہسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ اس وقت 527 افراد ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں جن میں 91 انتہائی نگہداشت میں ہیں ان میں سے 18 وینٹی لیٹرز پر ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ کراچی میں نئے کیسز کی تعداد 413 ہے، اب تک کراچی کے ضلع جنوبی میں 107 نئے کیسز کے ساتھ ایک ہزار 681 کیسز، ضلع شرقی میں ایک ہزار 492، ضلع وسطی میں ایک ہزار 305 کیسز، ضلعی غربی میں 857، ضلع ملیر میں 814 اور ضلع کورنگی میں 670 کیسز کی تصدیق کی جاچکی ہے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ حیدرآباد میں 399، خیرپور میں 254، لاڑکانہ میں 257 اور سکھر میں مجموعی طور پر کورونا کے 518 کیسز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں بیرون ملک پھنسے 2 ہزار 369 پاکستانیوں کو واپس لایا جاچکا ہے جن میں سے 22 فیصد کے قریب، جو تقریباً 516 افراد ہیں، میں کورونا ٹیسٹ کے نتائج مثبت آئے جو ہمارے آئسولیشن مراکز میں موجود ہیں۔
اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2 ہزار 369 میں سے 40 سے 45 فیصد افراد کا تعلق صوبہ سندھ تھا جبکہ 55 سے 60 فیصد دوسرے صوبوں کے تھے جنہیں معیاری طریقہ کار کے تحت گھروں کو روانہ کیا گیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 26 فروری کو کورونا وائرس کا پہلا کیس آتے ہی ہم نے لاک ڈاؤن نافذ کرتے ہوئے 4 دن کے لیے اسکولز کو بند کردیا تھا جس کے بعد اسکولز کی بندش میں یکم مارچ کو توسیع کردی تھی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ 13 مارچ کو ہم نے یکم جون تک اسکولز بند کرنے کا اعلان کیا جس کے بعد 14 مارچ کو عوامی مقامات کی بندش سمیت دیگر اعلانات کیے گئے تھے۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری جانب سے عوامی مقامات کی بندش کے اعلان کے بعد دیگر صوبوں کی جانب سے بھی ایسے ہی اقدامات کیے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ 16 مارچ کو ہم نے ریسٹورنٹ بند رکھنے کے اعلانات کیے جبکہ 17 مارچ سے شاپنگ مالز، ساحل سمندر کی بندش نافذ کی اور 22 مارچ سے لاک ڈاؤن میں بتدریج سختی کی گئی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ وزیراعظم نے صوبوں کو اختیار دیا کہ صورتحال دیکھ کرفیصلہ کرلیں، ہماری کچھ چیزیں وفاق کو پسند نہیں ہم پھر بھی ساتھ کام کررہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز قومی رابطہ کمیٹی (این سی سی ) کے اجلاس میں جب کورونا وائرس سے متعلق فیصلے ہوئے تو میں نے کہا تھا کہ ہمیں جذبات کے بجائے اعداد و شمار کی بنیاد پر فیصلے لینے چاہیئیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جرمنی میں اس وقت لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا جب کیسز کی تعداد یومیہ 3 ہزار تھی، اٹلی نے اس وقت نافذ کیا جبکہ روزانہ 1600 کیسز سامنے آرہے تھے جبکہ امریکا میں یومیہ 18 ہزار کیسز سامنے آنے کے بعد لاک ڈاؤن نافذ ہوا تھا اس لیے وہاں صورتحال خراب ہوئی۔مراد علی شاہ نے کہا کہ جب انسان حالت جنگ میں ہوتا ہے تو باقی چیزیں پیچھے چلی جاتی ہیں۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب پورے ملک میں لاک ڈاؤن ہوا تو بھی کیسز کی تعداد ابھی بھی سست روی سے اوپر جارہی ہے، 14 اپریل کو ہم نےکچھ کاروبار کھولنے کی اجازت دی تھی اور ہم 660 صنعتیں کھول چکے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہم کاروبار بند نہیں کرنا چاہتے اور نہ کسی سے ہماری دشمنی ہے۔انہوں نے کہا کہ وفاق کے ساتھ تعمیراتی صنعت کا فیز ٹو کھولنے، مخصوص او پی ڈیز کھولنے، فجر کے بعد سے شام 5 بجے تک دکانیں کھولنے کا فیصلہ کیا گیا۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ ہم نے ہفتے میں 3 روز 100 فیصد لاک ڈاؤن نافذ کرنے کی تجویز دی تھی لیکن 2 روز کے لیے دکانیں بند کرنے پر اتفاق ہوا اور ہفتی اور اتوار کو 100 فیصد لاک ڈاؤن ہوگا۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دیہی علاقوں اور گلی محلوں کی تمام دکانیں کھلیں گیں جبکہ شاپنگ مالز اور ڈپارٹمنٹل اسٹورز بند رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ تاجر برادری سے رابطے میں ہیں اور میڈیا کے توسط سے کہتے ہیں کہ وفاقی حکومت انہیں قرضے دے۔مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے فیصلہ کیا کہ جو بھی کاروبار اور دفاتر 9 مئی سے پہلے بند تھے وہ بعد میں بھی بند رہیں گے، اجتماعات، سنیما اور عوامی مقامات بند رہیں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ یہ طریقہ کار 31 مئی تک نافذ رہے گا، میں یہ فیصلے قبول کرتے ہوئے ڈر رہا ہوں لیکن قومی سلامتی اور سپریم کورٹ کے فیصلے کے احترام میں ہم وفاق کے فیصلے پر 100 فیصد عمل کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ لوگ کورونا وائرس سے مررہےہیں تو ویسے بھی مرجاتے ہیں لیکن لوگ تو دہشت گردی سے بھی مرتے تھے تو ہم نے نیشنل ایکشن پلان کیوں بنایا،لوگ ٹریفک حادثات میں بھی مرتے ہیں، ہمیں اس سے اسی طرح نمٹنا چاہیے تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button