لاک ڈاؤن سے فوڈ ڈلیوری کا کاروبار چمک اٹھا

کرونا لاک ڈاؤن کے باعث ملک بھر میں ہوٹلز اور ریسٹورنٹس تو بند ہیں لیکن فوڈ کی ہوم ڈلیوری کا کاروبار چمک اٹھا ہے۔
پاکستان میں ریستورانوں کی نمائندہ تنظیم ‘آل پاکستان ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن’ کے کنوینر اطہر چاؤلہ کے مطابق لاک ڈاؤن کی وجہ سے پاکستان بھر میں قائم ایک لاکھ سے زائد ریستوران بند ہیں جن میں کام کرنے والے تقریباً 22 لاکھ افراد مشکلات کا شکار ہیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے جہاں ایک طرف ریستوران بند ہیں۔ وہیں گھروں میں کھانا ڈیلیور کرنے کا کام ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے۔ پکا۔پکایا کھانا ڈیلیور کرنے والی ایک معروف آن لائن سروس ‘فوڈ پانڈا’ سے منسلک شہریار نے بتایا کہ عام حالات کی نسبت لاک ڈاؤن میں ان کا کام زیادہ اچھا چل رہا ہے۔ شہریار کا کہنا تھا "ہماری شفٹ چار گھنٹے کی ہوتی ہے۔ عام دنوں میں اس دورانیے میں سات، آٹھ آرڈرز ڈیلیور کرتے تھے۔ لیکن لاک ڈاؤن کی وجہ سے اب کام میں اور بھی تیزی آگئی ہے اور اب ہم 15، 16 آرڈرز ڈیلیور کر رہے ہیں جس کی وجہ سے ہماری آمدنی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔” ایک ڈیلیوری بوائے انیس شکیل کا کہنا تھا کہ لاک ڈاؤن کا انہیں کافی فائدہ ہوا ہے۔ پہلے وہ 10، 12 ہزار روپے کماتے تھے لیکن اب 15، 16 ہزار روپے ماہانہ کما رہے ہیں۔
آل پاکستان ریسٹورنٹس ایسوسی ایشن’ کے کنوینر اطہر چاؤلہ کے مطابق پاکستان میں ریستوران انڈسٹری ملک کی دوسری بڑی صنعت ہے جس کی سالانہ آمدنی ایک سے ڈیڑھ کھرب کے درمیان ہے۔ ان کے بقول لاک ڈاؤن کے باعث اس وقت تقریباً پوری صنعت بند ہے۔اطہر چاؤلہ نے بتایا کہ حکومت کی طرف سے اگرچہ ڈیلیوری کی اجازت دی گئی ہے۔ لیکن ڈیلیوری کے کاروبار کا ریستوران انڈسٹری میں صرف 15 فی صد حصہ ہے جو ڈوبتے کو تنکے کا سہارا کے مصداق ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران پورے پاکستان کے شاپنگ مالز بند ہیں جن میں قائم ریستورانوں سے ڈیلیوری بھی نہیں کی جا رہی۔ اُن کے بقول پاکستان کے 80 سے 90 فی صد بڑے ریستورانوں میں ڈائن اِن کی سہولت ہے اور یہی ان کی کمائی کا بڑا ذریعہ ہے۔ لہٰذا ڈیلیوری کی اجازت ملنے کے باوجود وہ اب بھی بند ہیں۔
اطہر چاؤلہ نے حکومت سے ریستوران انڈسٹری کو صنعت کا درجہ دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ پاکستان کی دوسری بڑی انڈسٹری ہے جس کے ساتھ 30 سے 40 دیگر صنعتیں بھی منسلک ہیں۔اُن کے بقول ریستوران انڈسٹری کا 99 فی صد دار و مدار مقامی طور پر تیار کردہ اشیا پر ہوتا ہے۔ ڈیڑھ کھرب کے حجم کی اس انڈسٹری کا کم از کم 50 فی صد دوسری صنعتوں کو بھی جاتا ہے جن میں مصالحہ جات، دودھ اور متعدد دیگر صنعتیں شامل ہیں۔ جب کہ کرائے، بلز اور دیگر چیزیں علیحدہ ہیں۔ کرونا وائرس کے باعث کیے گئے لاک ڈاؤن سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کے پیشِ نظر اطہر چاؤلہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت ایک آرڈیننس جاری کرے اور ریستوران مالکان کے اگلے تین ماہ کے کرائے معاف کرائے جائیں اور ریستورانوں کا سالانہ انکم ٹیکس صفر کیا جائے۔ موجودہ صورتِ حال میں بجلی اور گیس کے بلوں میں بھی رعایت دی جانی چاہیے۔
