لاک ڈاؤن سے لوگ بےحد متاثر نظر آرہے ہیں

سابق بالی وڈ حسینہ سونالی باندرے کا کہنا ہے کہ کورونا وائرس کے باعث دنیا بھر میں لگے لاک ڈاؤن سے لوگ بےحد متاثر نظر آرہے ہیں تاہم انہیں اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑ رہا کیوں کہ اپنی بیماری کے دوران بھی وہ گھر میں ہی سارا وقت گزارا کرتی تھیں۔
سونالی باندرے کا مزید کہنا تھا کہ انہیں اس لاک ڈاؤن سے کوئی فرق تو نہیں پڑا البتہ انہیں اس دوران اپنی فیملی اور دوست بہت زیادہ یاد آرہے ہیں، جو کورونا کے پھیلنے سے قبل اکثر و بیشتر ان کے گھر آیا کرتے تھے۔ میری طبیعت اب پہلے سے بہت بہتر ہے، لاک ڈاؤن سے مجھے کوئی خاص فرق نہیں پڑ رہا کیوں کہ اپنی بیماری کے دوران بھی میں ایک طرح سے قرنطینہ میں ہی تھی، بس جو بات بہت زیادہ محسوس ہوتی ہے وہ یہ کہ اس دوران مجھ سے خاندان کے افراد اور دوست ملنے آیا کرتے تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ انہیں کورونا وائرس کے باعث اپنا اور بھی زیادہ خیال رکھنا پڑ رہا ہے، کیوں کہ کینسر میں مبتلا ہونے کے بعد ان کی قوت مدافعت بھی کافی متاثر ہوئی۔ وہ روزانہ پھل اور سبزیوں کا بہت زیادہ استعمال کررہی ہیں تاکہ صحت مند رہ سکیں۔
یاد رہے کہ سونالی باندرے نے 4 جولائی 2018 کو اپنی سوشل میڈیا پوسٹ کے ذریعے انکشاف کیا تھا کہ انہیں ہائی گریڈ کینسر لاحق ہوگیا ہے جس کے بعد علاج کرانے وہ امریکا منتقل ہوگئیں تھی۔ سونالی باندرے نے علاج کی غرض سے اپنے سر کے بال بھی کٹوائے تھے اور بالوں کو کٹوانے کے دوران وہ روتی ہوئی بھی نظر آئی تھیں۔ صحت یاب ہونے کے بعد اس ہی سال دسمبر میں بھارت واپس آئیں اور وہ اس دوران بھی اپنی بیماری کے باعث گھر میں محصور ہوگئیں تھی اور اب کورونا وائرس کے باعث نافذ لاک ڈاؤن کی وجہ سے بھی وہ اپنے گھر میں محصور ہیں۔
صحت یاب ہونے کے بعد سونالی کے شوہر گولڈی بہل نے میڈیا کو بتایا تھا کہ علاج کےلیے سونالی باندرے کی کیموتھراپی کی گئی اور اب انہیں مزید علاج کی ضرورت نہیں تاہم وہ حفاظتی اقدامات کے تحت چیک اپ کرواتی رہیں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button