لاک ڈاؤن میں سوات کے خواجہ سرا کن مشکلات کا شکار ہیں؟

شدت پسند طالبان دور میں پاکستانی معاشرے سے کاٹ دیئے جانے والے سوات کے خواجہ سراء آج کل لاک ڈاؤن کی وجہ سے فاقوں کا شکار ہیں اور انہیں روزی روٹی کمانے کا کوئی ذریعہ نظر نہیں آ رہا۔ دوسری طرف صوبائی حکومت نے بھی تیسری جنس والوں کو یکسر نظرانداز کردیا ہے جسکی بنیادی وجہ ان لوگوں کے ساتھ کیا جانے والا امتیازی سلوک ہے حالانکہ کرونا وائرس اور پیٹ کی بھوک کسی قسم کا جنسی امتیاز نہیں برتتی۔ اطلاعات کے مطابق خیبر پختون خواہ کی وادی سوات میں کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے باعث یوں تو ہر ذی روح متاثر ہو رہا ہے تاہم اس سنگین صورتحال میں وادی کی ٹرانس جینڈر یعنی مخنث برادری یا خواجہ سراء شدید کسمپرسی کے عالم میں روز و شب گزارنے پر مجبور ہے۔
لاک ڈاؤن کے دوران شادی بیاہ اور دیگر سماجی و ثقافتی تقریبات پر پابندی کے بعد سے نہ تو کسی منتخب نمائندے نے ان ہیجڑوں کا حال پوچھا اور نا ہی کسی خیراتی تنظیم نے اِن کے ساتھ تعاون کیا۔ اس کی بنیادی وجہ شاید یہ ہے کہ وہ نہ تو مرد ہیں اور نہ ی عورت اور تیسری جنس کی اس ملک میں ویسے ہی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ لہذا اس باعث اس غریب ہیجڑا کمیونٹی کو دو وقت کی روٹی کے لالے پڑ گئے ہیں۔
وادی سوات میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مخنث برادری ایک سو نفوس پر مشتمل ہے جبکہ ان ہیجڑوں کا کہنا ہے کہ ضلع بھر میں اُن کی تعداد ایک سو دس سے تجاوز کر چکی ہیں۔ ماضی میں وادی سوات میں طالبان کے آنے کے بعد مقامی لوگوں نے ہیجڑوں کو اپنی خوشیوں میں شریک کرنا چھوڑ دیا تھا۔ تاہم حالات بہتر ہوئے اور امن قائم ہوا تو اکثر و بیشتر ہیجڑوں کا روزگار بھی بحال ہو گیا تھا لیکن معاشرتی تنگ نظری، امتیازی سلوک اور دیگر لا تعداد مسائل ان کی زندگی کا بدستور حصہ ہیں۔
سوات میں مخنث افراد کی تنظیم کی صدر صبا کہتی ہیں کہ بچپن ہی سے ہمیں کسی نے قبول نہیں کیا، ہم لوگ گھر سے بے دخل ہوئے تو معاشرے نے بھی ہمیں دھتکارا، ہماری زندگی ہمیشہ سے تنہائی میں گزری، صرف چند ساتھیوں کے ساتھ۔ لیکن اب جب پوری دنیا کرونا وائرس کی وجہ سے تنہائی کا شکار ہوئی ہے تو ہمیں اپنی دو وقت کی روٹی کمانے کی فکر ہے۔ کرونا وائرس اور لاک ڈاؤن کے باعث ہمیں اپنے ناچ گانا معطل کرنا پڑا ہے، ہمارے پاس جتنا راشن اور جتنے پیسے تھے، وہ سب ختم ہو چکے ہیں، ہمیں دوپہر کو مشکل سے مانگ تانگ کر کھانا ملتا ہے اور رات کو ہم بھوکے پیٹ سو جاتے ہیں۔ اس نے کہا کہ حکومت اور خیراتی ادارے عام لوگوں کی مدد کے لیے تو پہنچ جاتے ہیں لیکن ابھی تک کسی نے ہمارے بارے میں نہیں پوچھا اور نا ہی کسی نے ہمارے ساتھ تعاون کیا ہے۔
صبا کہتی ہیں کہ لاک ڈاؤن سے ہم معاشی طور پر بدحالی کا شکار ہیں لیکن اس مصیبت کے وقت کسی نے بھی ہمیں یاد نہیں کیا، جس طرح ہمیں پہلے نظر انداز کیا گیا، اُسی طرح آج بھی ہمارے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے۔ ہم نے کئی خیراتی تنظیموں سے بھی رابطہ کیا مگر ابھی تک کسی جانب سے بھی کوئی شنوائی نہیں ہوئی، اگر حالات ایسے رہے تو کرونا سے تو نہیں شائد لیکن ہم بھوک سے ضرور مر جائیں گے۔
یاد رہے کہ خیبر پختونخوا میں خواجہ سرا کمیونٹی کو گوناگوں مسائل کا سامنا ہے۔ یہ صوبہ خواجہ سراوں کے قتل کے واقعات کے لحاظ سے ملک بھر میں پہلے نمبر پر ہے تاہم صوبائی اور وفاقی حکومت یہاں کی ٹرانس جینڈر کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کر سکی۔ واضح رہے کہ پاکستان میں ٹرانس جینڈرز کو حقوق دینے اور اُن کے تحفظ کے لیے 2018ء میں پارلیمنٹ سے ایک قانون پاس کیا گیا تھا، جس کو ٹرانس جینڈر پرسن پروٹیکشن آف رائٹس ایکٹ کا نام دیا گیا تھا۔ ٹرانس جینڈر ایکٹ 2018 کے تحت ان افراد کو روزگار، ووٹ اور انتخابات میں اپنا نمائندہ کھڑا کرنے کا حق دیا گیا ہے لیکن ابھی تک اُس قانون کو عملی شکل نہیں دی گئی ہے۔
