لاک ڈاؤن میں شراب نایاب، لوگ سپرٹ پی کر مرنے لگے

پاکستان میں لاک ڈاؤن کے دوران شراب خانے بھی بند کر دیئے گئے ہیں جس کے بعد نشے کے مارے لوگوں نے سپرٹ، نشہ آور گولیوں، اور خواب آور ادویات کو بطور متبادل استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایسا کرنے کے باعث کئی افراد موت کے منہ میں جا چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق لاک ڈاؤن کی وجہ سے شراب کی ایک لیٹر کی بوتل، جو پہلے 1500 سے 1700 روپے میں دستیاب ہوتی تھی، اب سات ہزار روپے تک میں فروخت ہو رہی ہےجبکہ غیر ملکی برانڈ کم از کم 10 ہزار سے 18 ہزار روپے لیٹر تک فروخت ہو رہے ہیں۔ صارفین کے بقول ماضی میں شراب کی قیمتوں میں کبھی اس قدر اضافہ نہیں دیکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ بعض صارفین مہنگی شراب کے سستے ’متبادل‘ استعمال کر رہے ہیں جن میں ادوایات بھی شامل ہیں اور انکی ذیادتی اموات کا باعث بن رہی ہے
سندھ اور پنجاب میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کیے گئے لاک ڈاؤن کے بعد ایک دن کے نوٹس پر شراب خانے بند کر دیے گے تھے۔ بعد ازاں اس بندش میں توسیع ہوتی رہی اور موجودہ حکم نامے کے مطابق یہ بندش 30 اپریل تک جاری رہے گی۔ سندھ کے محکمہ ایکسائیز اینڈ ٹیکسیشن کے مطابق صوبے بھر میں 21 ہول سیلرز ہیں جو شراب خانوں، ہوٹلوں اور تقریبات میں شراب فراہم کرتے ہیں۔ جبکہ 159 لائسنس یافتہ شراب خانے ہیں جن کی اکثریت کراچی میں واقع ہے اور ان شراب خانوں میں غیر مسلمان افراد کو شراب فروخت کی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان میں مری بیوری، کوئٹہ ڈسٹلری اور مہران ڈسٹلری کے نام سے شراب کے کارخانے موجود ہیں۔ مری بیوری کے مالک اسفن یار بھنڈارہ نے بتایا ہے کہ صرف ان کی بیوری کی پیداوار کی 60 فیصد کھپت صوبہ سندھ میں ہوتی ہے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مطابق صوبہ سندھ میں ہندو ووٹرز کی تعداد 30 لاکھ سے زیادہ ہے۔دوسری بڑی اقلیت مسیحی برادری ہے جبکہ اس کے علاوہ پارسی اور سکھ بھی آباد ہیں۔ صوبے میں شراب خانوں کے لائسنس زیادہ تر ہندوؤں کے پاس ہیں جبکہ کراچی میں بعض مسیحی افراد بھی شراب فروخت کرتے ہیں۔
کئی برسوں سے یہ روایت رہی ہے کہ پاکستان میں ماہ رمضان میں تمام شراب خانے بند ہوجاتے ہیں۔ مالکان کے مطابق رمضان کی آمد سے قبل سیل 40 فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔ اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ بندش کے ڈر سے لوگ پہلے ہی شراب سٹاک کر لیتے ہیں۔ رمضان کے دوران ’بوٹ لیگرز‘ یا شراب فروش کے ذریعے بھی فراہمی جاری رہتی ہے لیکن عام قیمتوں سے قیمت زیادہ وصول کی جاتی ہے۔
اس حوالے سے پاکستان کے سب سے بڑے شراب کے کارخانے مری بیوری کے مالک اسفن یار بھنڈارہ کا کہنا ہے کہ جس طرح دیگر دکانیں کھولنے کی اجازت دی جا رہی ہے ویسے ہی وائن شاپس کھولنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔ جو ایس او پیز ہیں ان پر عمل کیا جائے یعنی لوگ سماجی فاصلہ رکھیں۔ چار، پانچ کر کے شراب خانوں میں آئیں۔ ان کا کہنا ہے کہ شراب کی فروخت مکمل طور پر بند نہیں ہونی چاہیے ورنہ لوگ اس کا خطرناک متبادل اختیار کر لیں گے۔۔۔ اس کو اسی بنیاد پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اس سے سندھ اور پنجاب کو کروڑوں روپے کا ٹیکس ملتا ہے۔
تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ شراب خانے کھولنے سے مذہبی جماعتوں کی جانب سے شدید رد عمل آسکتا ہے اس لیے حکومت محتاط ہے۔یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے بانی سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دورِ حکومت میں شراب کے استعمال اور شراب خانوں پر پابندی عائد کی گئی تھی جو اب تک برقرار ہے۔
