لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد کرونا کی رفتار دگنی

وفاقی حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن میں نرمی کے بعد سے ملک بھر میں کرونا پھیلنے کی رفتار دوگنی ہوگئی ہے اور اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ عید سے پہلے پاکستان میں کرونا کی پہلے سے بڑی لہر آئے گی جس سے ہزاروں ہلاکتیں ہو سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ وفاقی حکومت نے کرونا وائرس کو قابو کرنے کے لیے لگائے گے لاک ڈاؤن میں بڑی حد تک نرمی لاتے ہوئے ملک بھر میں کاروباری سرگرمیاں کھولنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ فیصلہ پاکستان کی حالیہ تاریخ میں کسی بھی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے مشکل ترین اور متنازع فیصلوں میں سے ایک ہے۔ وزیر اعظم کا موقف تھا کہ لاک ڈاؤن ختم کرنا اس لئے ضروری ہے کہ غریب آدمی کے گھر کا پہیہ چلنا بند ہوگیا ہے۔ دوسری طرف کاروباری سرگرمیاں شروع ہونے کے بعد کے چند دنوں میں ہی کرونا سے متاثر ہونے والے افراد دوگنی ہو گئی ہے۔ تاہم ہمیں اب بھی یہ بھی معلوم نہیں ہوپا رہا ہے کہ اس بیماری کی پھیلنے کی حقیقی شرح کیا ہے؟
اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ وبا سے جڑا حساب کتاب اور اسکی ریاضی عام ریاضی سے مختلف ہوتی ہے اور اس سے ہونے والے نقصان کا سلسلہ ایک مساوی رفتارسے جاری نہیں رہتا بلکہ ہر دن کے ساتھ اس میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ اب تک وفاقی حکومت کا پالیسی رسپانس، شواہد سے زیادہ اپنی حقیقی پالیسی کی روشنی میں مرتب کردہ دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان میں وفاقی حکومت نے فروری کے آخری دنوں تک لاک ڈاؤن کے حوالے سے گڈمڈ پیغاماتی سلسلے کو جاری رکھا اور وبا سے نمٹنے کے حوالے سے واضح سوچ یا منصوبہ بندی نظر نہیں آئی جس کا عملی مظاہرہ لاک ڈاؤن اور اس پر غیر مؤثر عمل درآمد کی صورت میں نظر آیا۔
لاک ڈاون سے ہونےوالے اقتصادی نقصان کے پیش نظر حکومت بالآخر تھک ہار کر اب جزوی اور قلیل دورانیے کے لاک ڈاؤن سے متعلق اپنی سوچ کو درست ٹھہرانے کے لیے غیر واضح اندازوں اور حساب کتاب کا سہارا لے رہی ہے۔ قومی سطح پر حکومتی رسپانس کی سربراہی کرنے والے کوآرڈینٹر اسد عمر نے کرونا وبا سے ہونے والی اموات کی موجودہ شرح کا موازنہ سالانہ روڈ حادثات کے نتیجے میں ہونے والی اموات سے کیا ہے اور وہ اس نتیجے پر پہنچے کہ روڈ حادثات کے باعث زیادہ لوگ مارے جاتے ہیں پھر بھی ٹریفک پر پابندیاں عائد نہیں کی جاتی ہیں لہٰذا اسی منطق کا اطلاق کورونا وائرس کے معاملے پر بھی ہونا چاہیے۔
لیکن اس دلیل میں کمزوری یہ ہے کہ کرونا وائرس کی طرح روڈ حادثات وبا کی طرح پھیلتے نہیں اور حادثات کے نتیجے میں حادثات میں اضافہ نہیں ہوتا۔ اس دلیل کا سب سے خطرناک پہلو ہےغلط اندازے اور حساب کتاب۔ وزیر موصوف نے تیزی سے بڑھتے اعداد والی ریاضی کو نظر انداز کرتے ہوئے سیدھا سیدھا وبا پھیلنے کے بعد سے ایک ماہ میں ہونے والی 720 اموات کی مدد سے روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی اموات کی اوسط کا اندازہ اخذ کرلیا۔
تاہم اگر ایک دن میں 24 اموات ہوتی ہیں اور اس دوران case fatality rate یا متاثرہ افراد میں سے مرنے والوں کی شرح 2.3 فیصد رہتی ہے تو مجموعی تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد ایک ہزار 43 بن جاتی ہے، جبکہ Basic reproduction number R-zero یا پھر ‘ایک جگہ پر ایک شخص سے دیگر لوگوں میں وائرس منتقل ہونے کی تعداد’ 2 کے قریب ہے تو 6 دن کے آتے آتے مجموعی تصدیق شدہ کیسوں کی تعداد 10 لاکھ سے بھی تجاوز کرجائے گی۔ اور جب ہم اس نہج تک پہنچ جائیں تو محض اگلے 2 دن کے اندر اندر پاکستان کی پوری آبادی وائرس کی زد میں آچکی ہو گی۔
یاد رہے کہ کرونا کا مرکز سمجھے جانے والے چین نے مارچ میں اپنے ہاں کرونا کے کیسز میں واضح کمی کے بعد لاک ڈاؤن کو نرم کرتے ہوئے معمولات زندگی بحال کی تھی، تاہم اب وہاں کی انتظامیہ کو کورونا کی نئی لہر کا سامنا ہے۔ تاہم عمران خان کا یہ دعوی غلط یے کہ پاکستان میں کرونا کیسز دیگر ممالک سے کم رفتار پر بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان میں کرونا کیسز کا دیگر ممالک کے کیسز کے ساتھ موازنہ کیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ پاکستان میں اوسط کرونا کیسز کی رفتار دیگر ممالک جتنی ہی ہے۔
اگر ہم امریکہ کی مثال سامنے رکھیں تواعدادوشمار کے مطابق وہاں ٹیسٹ کے بعد ہر100 میں 16 افراد میں کرونا کی تصدیق ہوئی ہے جبکہ وہاں پر اموات کی شرح تقریبا چھ فیصد ہے۔اسی طرح بھارت میں ہر 100 میں سے تین افراد میں کرونا کی تصدیق ہوئی ہے اور اموات کی شرح بھی تقریبا تین فیصد ہے۔ اگر بنگلا دیش کے اعداو شمار کو دیکھا جائے تو وہاں ہر 100 میں تقریبا 12 افراد میں کرونا کی تصدیق ہوئی ہے۔ اب پاکستان کے اعداوشمار پر اگر نظر ڈالی جائے تو پاکستان میں ہر 100 میں تقریبا 10 افراد میں کرونا کی تصدیق ہوئی ہے۔ سعودی عرب کی مثال لیں تو وہاں پر ہر 100 میں تقریبا نو افراد میں کرونا کی تصدیق ہوئی ہے اور اموات کی شرح 0.6 فیصد ہے۔ یورپ میں دیکھا جائے تو سپین کے ہر 100 میں 10 افراد میں کرونا کی تصدیق جب کہ اموات کی شرح 10 فیصد ہے، جرمنی کے ہر100 ٹیسٹ میں تقریبا پانچ افراد میں کرونا کی تصدیق ہوئی ہے جب کہ اموات کی شرح 3.4 فیصد ہے۔ ان اعدادوشمار سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ پاکستان میں کرونا کے کیسز اسی رفتار سے آگے جا رہے ہیں جس رفتار سےدنیا کے دیگر ممالک میں جا رہے ہیں تاہم کچھ ممالک میں کم اور کچھ میں زیادہ کیسز ہیں۔ اوسط نکالی جائے تو پاکستان میں کیسز کی شرح ان ممالک جو پاکستان جتنے ٹیسٹ کر رہے ہیں کے برابر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button