لاک ڈاؤن میں پاکستانی انٹرنیٹ پر کیا سرچ کر رہے ہیں؟

کرونا وائرس کی وجہ سے پاکستان بھر میں لاک ڈاؤن ہونے کے بعد انٹرنیٹ صارفین یا تو اس وباء کی علامات، علاج اور اس کے خاتمے سے متعلق کچھ نیا جاننے کےلیے بے تاب ہیں اور یا ان کی بڑی تعداد نیٹ فلکس پر فلمیں دیکھ رہی ہے۔ ان میں سے ذیادہ تر افراد ترکی کے مشہور ڈرامے دیریلش ارطغرل کی اردو ڈبنگ دیکھ کر وقت گزاری کر رہے ہیں۔
کرونا وائرس نے دنیا بھر کی طرح پاکستان کو بھی بری طرح متاثر کیا ہے اور روزمرہ کی زندگی مکمل طور پر بدل گئی ہے۔ تاہم اگر گوگل سرچز کا جائزہ لیا جائے تو اندازہ ہوتا ہے کہ ملک کے ہر کونے سے لوگ اس وائرس اور اس سے ہونے والی بیماری کے مختلف پہلوئوں کو جاننا چاہتے ہیں۔ گوگل ٹرینڈز میں پاکستان کے سیکشن پر اگر کورونا وائرس سے جڑے منسلک الفاظ کا ڈیٹا دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان اس وائرس کے حوالے سے سرچ کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے۔ 26 فروری کو کرونا کا اولین کیس سامنے آنے کے بعد گوگل پر اس کے بارے میں پاکستان سے سرچز میں اضافہ ہونا شروع ہوا اور 5 اپریل کو سب سے زیادہ سرچز کی گئیں۔
یہ صرف کورونا وائرس کے الفاظ کی سرچ ہے جس میں سب سے زیادہ لوگ آزاد کشمیر سے گوگل پر جاننے کی کوشش کرتے رہے جس کے بعد فاٹا، پھر سندھ، پنجاب، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کا نمبر آتا ہے۔
کرونا وائرس کے ساتھ جو سب سے زیادہ سرچ کیا جاتا رہا وہ کرونا وائرس پاکستان تھا، جس کے بعد اپ ڈیٹ کرونا وائرس، کرونا وائرس ان پاکستان، کرونا وائرس کیسز، کورونا، کرونا وائرس ورلڈ، کرونا وائرس علامات، کرونا وائرس اپ ڈیٹ پاکستان، کرونا وائرس نیوز اور پاکستان کرونا وائرس کیسز سرفہرست گوگل سرچز ہیں۔

حیران کن طور پر کرونا وائرس کی بجائے پاکستان میں شروع سے اس کی علامات کے بارے میں گوگل سرچز کی تعداد زیادہ ہے اور جنوری کے آغاز سے ہی اس کے بارے میں سرچ کیا جارہا ہے۔ سب سے زیادہ سرچز 23 اور 24 مارچ کو ہوئیں جب کہ کرونا وائرس علامات، کرونا، کرونا علامات، سیمپٹمز آف کرونا وائرس، کرونا وائرس اس سے منسلک سرفہرست سرچز تھیں۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز میں اضافے کے ساتھ اس کے علاج کے حوالے سے بھی لوگوں میں دلچسپی بڑھی۔خصوصاً مارچ سے ہی پاکستان میں کرونا وائرس ٹریٹمنٹ کو گوگل پر کافی سرچ کیا جارہا ہے، خاص طور پر ویکسین کے حوالے سے لوگوں کو زیادہ تجسس ہے۔
جنوری سے اپریل تک اس حوالے سے سرچز کی گئی ہیں اور یہ سلسلہ لگتا ہے کہ ابھی جاری رہے گا جب تک ویکسین تیار ہوکر سامنے نہیں آجاتی۔ خاص طور پر ٹی بی کی روک تھام کےلیے استعمال ہونے والی بی سی جی ویکسین کے بارے میں بہت زیادہ سرچز کی گئی ہیں۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کرونا وائرس سے تحفظ کے لیے فیس ماسک کے استعمال پر گوگل پر کافی کچھ سرچ کیا گیا ہے۔ زیادہ تر لوگ این 95 فیس ماسک کو سرچ کرتے رہے جس کے بعد سرجیکل فیس ماسک ان پاکستان، فیس ماسک دراز اور فیس ماسک ان پاکستان قابل ذکر سرچز ہیں۔ ہاتھ دھونے، سینٹی ٹائزر اور فیس ماسک کے ڈیٹا کو دیکھا جائے تو سب سے زیادہ لوگوں نے سینی ٹائزر کو تلاش کیا۔ اس کے بعد فیس ماسک پر سرچز کی گئیں۔
ملک میں لاک ڈاؤن کے نتیجے میں مختلف شعبوں نے اپنے ورکرز کو گھروں سے کام کی اجازت دی ہے اور اسی وجہ سے گوگل پر اس حوالے سے سرچز میں بھی لاک ڈاؤن کے آغاز سے نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اٹلی، ایران، امریکا، چین اور اسپین عالمی سطح پر کرونا وائرس کے حوالے سے پاکستانی شہریوں کی سرچز کا زیادہ مرکز رہے ہیں۔
کرونا کب ختم ہوگا، یہ وہ سوال ہے جس کو پاکستانی گوگل کی مدد سے جاننے کےلیے بے قرار ہیں، خصوصاً مارچ کے وسط سے اس حوالے سے کافی سرچ کیا جارہا ہے۔
لاک ڈاؤن کے نتیجے میں کروڑوں پاکستانی گھروں تک محدود ہیں تو اب وہ اپنا وقت ٹی وی یا اسکرینز کے سامنے ہی گزار رہے ہیں تو اس لیے یہ حیران کن نہیں کہ نیٹ فلکس کے بارے میں سرچز میں لاک ڈاؤن کے بعد سے نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ترک ڈرامے دیریلیش ارطغرل میں بھی لاک ڈاؤن کے دوران لوگوں نے نمایاں دلچسپی دکھائی ہے اور مارچ کے بعد سے اس کے حوالے سے سرچز میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور اپریل میں یہ رجحان عروج پر نظر آتا ہے، درحقیقت اس کے مختلف سیزنز اور اردو ڈبنگ اقساط کو ڈھونڈنے میں لوگوں نے زیادہ دلچسپی دکھائی ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button