لاک ڈاؤن میں گھر بیٹھے تھکاوٹ کا احساس کیوں؟

کرونا وائرس کے نتیجے میں گھروں میں محدود لوگوں کو ایک عجیب مشکل کا سامنا ہے اور وہ ہے بہت زیادہ تھکاوٹ، سستی اور ہر وقت غنودگی کا احساس۔
روزمرہ کی زندگی اس وبا کے نتیجے میں بری طرح متاثر ہوئی ہے، کچھ افراد اب گھروں سے کام کررہے ہیں جبکہ بیشتر ایسے ہیں جو کچھ بھی نہیں کررہے۔ اس کے نتیجے میں بہت مختصر وقت میں لوگوں کے معمولات زندگی مکمل طور پر بدل کر رہ گئے ہیں اور بیشتر کا اب سونے یا جاگنے کا کوئی وقت مخصوص نہیں رہا کیونکہ دفتر یا تعلیمی ادارے کے لیے وقت کی پابندی ضروری نہیں رہی اور یہی وجہ ہے کہ متعدد افراد کو اس کے نتیجے میں غنودگی اور تھکاوٹ جیسے احساسات کا زیادہ سامنا ہورہا ہے۔ بظاہر تو سارا دن گھر میں بیٹھے رہنا اور کچھ نہ کرنے کی وجہ سے لوگ معمول سے زیادہ تھکاوٹ اور غنودگی کا شکار ہو رہے ہیں کیونکہ نفسیاتی طور پر انسان متحرک رہنے کے لیے بنا ہے۔
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ اگر لوگ لاک ڈاون کے دوران کسی مشغلے یا سرگرمی کو معمولات کا حصہ نہیں بناتے تو وقت گزارنا بہت تکلیف دہ ہوجاتا ہے جس کے نیتجے میں تھکاوٹ، غنودگی یا ڈپریشن جیسے احساسات پیدا ہو سکتے ہیں، یعنی ہم جتنا کم متحرک ہوں گے، اتنا ہی خود کو سست اور شکست خوردہ بھی تصور کریں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ معمولی ذہنی تناؤ کے واقعات ذہنی توانائی کو ختم کرنے کا باعث بن جاتے ہیں اور موجودہ عالمی وبا تو بہت زیادہ ذہنی تناؤ کا سبب بن رہی ہے۔ ان کے مطابق تناو سے ذہنی بے چینی کا باعث بننے والے ہارمونز ایڈرینالائن کے لیول میں اضافہ ہو جاتا ہے، جو کہ مختصر المدت تناؤ کے لیے تو مددگار ہوتا ہے، مگر اس کے نتیجے میں جسمانی توانائی میں کمی آ جاتی ہے، جس سے جسمانی اور ذہنی تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔
اسی طرح سست طرززندگی بھی ذہنی طور پر غنودگی کے احساس کو بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔ ہم جتنا بھی کم وقت ورزش یا جسمانی طور پر کم متحرک رہیں گے، اتنی ہی تھکاوٹ زیادہ محسوس ہوگی، اسی طرح طویل دورانیے تک بیٹھے یا لیٹے رہنے کے نتیجے میں فٹ افراد بھی تھکاوٹ کا شکار ہونے لگتے ہیں، کیونکہ اس سے انسانی مسلز کے افعال میں تبدیلی آتی ہے۔ لیکن اس مسلے کا حل بھی آسان ہے اور وہ ہے اپنا کچھ وقت روزانہ ورزش کے لیے مخصوص کردینا، جو بائیوکیمیکل اور ہارمونل توازن پیدا کرنے میں مدد فراہم کرے گا، جبکہ اس سے ذہنی بے چینی کا باعث بننے والے ہارمونز ک کو جلانے میں بھی مدد ملے گی۔ طبی ماہرین کہتے ہیں کہ صبح اور شام کو زیادہ وقت بستر پر لیٹے رہنے کے باوجود اس وبا کے نتیجے میں نیند بھی متاثر ہوسکتی ہے، جس سے دن میں زیادہ تھکاوٹ کا احساس ہوتا ہے۔ ذہنی تنائو سے نیند پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں یعنی بے خوابی کی شکایت بڑھتی ہے یا اس کا معیار کم ہوجاتا ہے۔
نیند کے امراض کے ماہر کہتے ہیں کہ ناکافی نیند سے جذبات پر کنٹرول متاثر ہوتا ہے، جس کے نتیجے میں چڑچڑے پن، بدمزاجی اور کام کے لیے توجہ مرکوز نہ کرنے جیسی شکایات کا سامنا ہوتا ہے۔ تو سوال یہ ہے کہ اچھی نیند کو کیسے یقینی بنایا جائے؟ جواب یہ ہے کہ سونے سے کچھ دیر پہلے خبروں اور سوشل میڈیا سے دوری اختیار کریں، سونے کا پرسکون ماحول بنائیں اور لاک ڈائون سے پہلے جس وقت سوتے اور جاگتے تھے، اس شیڈول پر عملدرآمد جاری رکھیں۔ کچھ دیر ورزش کرنا، کچھ نیا کام یا مشغلہ اپنانا، اپنے پیاروں سے رابطے میں رہنا یعنی فون یا ویڈیو کال کی مدد سے لوگوں سے رابطہ کرنا، آپ کو تھکاوٹ اور غنودگی سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button