لاک ڈاؤن کا سب سے زیادہ اثر غریبوں پر ہوا

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے جو کہا تھا دنیا آہستہ آہستہ وہیں پہنچ رہی ہے کہ لاک ڈاؤن کے سب سے زیادہ اثرات غریبوں پر مرتب ہوں گے اور اب دیگر ممالک کو بھی یہ احساس ہورہا ہے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ 3 دن سے ہونے والے اجلاس میں کچھ تقاریر میں سیاسی جگت بازی کے علاوہ کچھ نہیں تھا تاہم کچھ میں سنجیدہ باتیں بھی کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس سے متعلق متضاد رائے بھی پائی جاتی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے ایک رکن نے کہا کہ 6 ہفتے کے لیے سب بند کردیتے تو کورونا ہی ختم ہوجاتا اور دوسری رائے یہ ہے کہ وبا نے پھیلنا ہے اور ڈر کر زندگی گزارنے سے فائدہ نہیں ہے۔
اسد عمر نے کہا کہ 6 ہفتوں کا لاک ڈاؤن اتنا آسان ہوتا اور صرف پاکستان تحریک انصاف کی وجہ سے کورونا پھیلا تو امریکا، بھارت، جرمنی کہیں تو ایسا تجربہ ہوا ہوتا اور ووہان میں بھی دوبارہ کیسز سامنے آنا شروع ہوگیا ہے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کچھ ممالک میں جب سخت لاک ڈاؤن کو کھولا گیا تو کیسز میں دوبارہ تیزی آنا شروع ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ جیساکہ ریاض پیرزادہ کہہ رہے تھے کہ یہ وبا ہوا سے پھیلتی ہے، انفلوئنزا سے کہیں زیادہ پھیلتی ہے اور اس کو پھیلانے والے (vector) انسان ہے تو کورونا وائرس ڈینگی تو ہے نہیں کہ مچھر ماردیں گے تو ختم ہوجائے گا انسان کو تو ہم نہیں مارسکتے اسی وجہ سے یہ وباء پھیل رہی ہے۔
اسد عمر نے کہا کہ جب تک ویکسین دریافت نہیں کی جاتی تب تک ہمیں اس وباء کے ساتھ زندگی گزارنی ہے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے جو کہا تھا دنیا آہستہ آہستہ وہیں پہنچ رہی ہے کہ لاک ڈاؤن کے سب سے زیادہ اثرات غریب افراد پر مرتب ہوں گے اور اب دیگر ممالک کو بھی یہ احساس ہورہا ہے۔ اسد عمر نے کہا کہ پاکستان مغرب کی اندھی تقلید نہیں کرے گا، ملک میں بہترین ڈاکٹرز اور ماہرین ہیں جو حکومت کی مدد کررہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ مہینوں میں ملک کی ٹیسٹنگ کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے اور گزشتہ 24 گھنٹے میں 13 ہزار سے زائد ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ابتدائی طور پر ملک میں صرف 2 لیبارٹریز کورونا وائرس کا ٹیسٹ کرسکتی تھیں لیکن اب 70 ٹیسٹگ لیبز موجود ہیں۔ اسد عمر نے ایک مرتبہ پھر کورونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اپنانے پر زور دیا۔
انہوں نے اس بحران کے وقت میں ڈاکٹروں اور طبی،قانون نافذ کرنے والے اداروں، انتظامیہ اور دیگر فرنٹ لائن ورکرز کا شکریہ ادا کیا، انہوں نے مزید کہا کہ ان تمام افراد نے پچھلے 2 ماہ میں جو محنت کی اس وجہ سے صورتحال بے قابو نہیں ہوئی۔ اسد عمر نے کہا کہ نیشنل ڈزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے)، نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر(این سی او سی) ہفتے کے 7 دن کام کررہے ہیں اور انہیں 31 مارچ سے کوئی چھٹی نہیں ملی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس وقت فوج کے ہزاروں نوجوان ہمیں سپورٹ کررہے ہیں، صوبائی حکومت کے دیگر محکمے جو تعاون پیش کررہے ہیں ہم ان کا مشکور ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ میں پاکستان کے ہر شہری کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، ہمارے فیصلوں پر 100 فیصد عملدرآمد نہیں ہوا لیکن پاکستان کے عوام نے ایک مرتبہ پھر دکھایا کہ جب ملک کا مفاد ہو تو وہ اپنے اوپر کتنی مشکل لینے کےلیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ 7 سے 11 تک کی خبریں دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے گھمسان کی جنگ چل رہی ہے لیکن حقیقت میں جہاں فیصلہ سازی اور کام ہورہا ہے وہاں صوبائی اور وفاقی حکومتیں ایک بن کر کام کررہی ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button