لاک ڈاؤن کے باعث حجاموں نے ہوم سروس شروع کردی

کرونا وائرس کی عفریت کے آگے بند باندھنے کی غرض سے دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی سوشل ڈسٹنسنگ یعنی سماجی دوری کو یقینی بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس مقصد کے لیے جزوی لاک ڈاؤن کے نفاذ کے تحت متعدد کاروباری سرگرمیوں کو معطل کیا گیا ہے۔ جزوی لاک ڈاؤن کے باعث دوسرے کئی کاروباروں کی طرح ہیئر ڈریسرزاور بیوٹی پارلرز بھی بند پڑے ہیں۔ حجام کی دکانیں اور بیوٹی پارلرز بند ہونے کی وجہ سے کسی کو داڑھی نہ بناسکنے کا دکھ ہےتو کوئی لمبے ہوتے بالوں سے تنگ آچکا ہے۔ اسی طرح خواتین کو بھی ویکسنگ، تھریڈنگ اور آرائش گیسو کی فکر اندر ہی اندر کھائے جا رہی ہے۔ ایسی صورتحال اورطلب میں اضافے کو دیکھتے ہوئے ہئیر ڈریسرز اور بیوٹیشنز نے آن لائن اور ہوم سروس کا آغاز کر دیا ہے جس کو مختلف شہروں میں پذیرائی مل رہی ہے۔

حالات جیسے بھی ہوں زندگی چلتی رہتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ انسان مخصوص حالات میں زندہ رہنے کے طور طریقے سیکھ ہی جاتا ہے۔ ایسا ہی کچھ حالیہ لاک ڈاؤن کے دوران ہو رہا ہے جب کاروبار زندگی بند ہے اور انسانوں نے روز مرہ کے امور نمٹانے کے لیے مختلف طریقے ڈھونڈ لیے ہیں۔دفاتر کے لوگ گھروں میں بیٹھ کر دفتروں کا کام کر رہے ہیں، سکولوں کے بچے آن لائن کلاسیں لے رہے ہیں اور تاجر گھرسے ہی فون پر دکانوں کا سامان فروخت کر رہے ہیں، اور تو اور سبزی، پھل اور گھر کا سارا راشن بھی ایک فون کال پر ہی دروازوں پر پہنچ رہا ہے۔ ان حالات میں ان زندگی کے باقی شعبوں کے افراد کی طرح حجام اور بیوٹیشنزنے بھی ایک ٹیلی فون پر ہوم سروس کا آغاز کر دیا ہے۔ درحققیت حجام کی ہوم سروس کسی بھی ہوم ڈیلیوری سے زیادہ قدیم ہے۔

یاد رہے کہ پچھلی صدی تک گاؤں دیہاتوں میں یہ رواج رہا ہے کہ حجام گھروں میں جا کر لوگوں کے بال کاٹتے اور داڑھیاں مونڈھتے تھے لیکن کمرشلائزیشن کے بعد نہ صرف جگہ جگہ حجام کی دکانیں کھل گئیں بلکہ اب تو جدید ایئر کنڈیشنڈ سیلون اور پارلرز میں ہی بال کٹوانے کو ترجیح دی جاتی ہے۔ تاہم جب حکومت کی طرف سے لاک ڈاؤن کے دوران سیلونزاور حجام کی دکانیں بند کرنا شروع کیا تو حجاموں نے بھی بے روزگاری سے بچنے اور عوام کے پرزور مطالبے پر اپنا یہ قدیم کام دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا جس کے بعد حجام حضرات کی یہ ’ہوم سروس‘ اب مستقل گاہکوں سے ہوتی ہوئی ان کے دوستوں اور پھر ان کے دوستوں سے آگے وسعت اختیار کرتی جا رہی ہے۔

اسلام آباد کی ایک رہائشی سوسائٹی پی ڈبلیوڈی میں کراچی سے آئے حجام شبیرعلی نے اس سروس کا آغاز کرتے ہوئے پہلے پہل اپنے مستقل گاہکوں کے ذریعے اپنا نمبر واٹس ایپ کے مختلف گروپوں میں بھجوایا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے انہیں درجنوں کالز موصول ہونا شروع ہو گئیں جن میں لوگ ان سے گھر آ کر بال کاٹنے کی فرمائش کر رہے تھے۔شبیر کے مطابق ‘کاروبار بند ہونے کی وجہ سے وہ پریشان تھے کیونکہ ان کی دکان تو بند تھی لیکن گھر کے خرچے مسلسل چل رہے تھے، پھر انہیں خیال آیا کہ کیوں نہ وہ اپنے فون نمبر کی تشہیر کر کے لوگوں کے گھروں میں جا کر بال کاٹنا شروع کر دیا۔ہوم سروس سے نہ صرف گاہکوں کا کام ہو گیا بلکہ انہیں بھی مناسب آمدنی سروع ہو گئی۔تاہم شبیر کا کہنا ہے کہ ‘گھر پر گاہکوں کا کام تو ہو گیا لیکن کام کی کوالٹی ضرور متاثر ہوئی کیونکہ دکان یا سیلون پر پروفیشنل کرسی اور شیشے کے سامنے کام کرنے اور گھر پر گھریلو حالات میں کام کرنے میں بہت فرق ہے۔’

ماڈل ٹاون لاہور میں "شیخ ہیئرڈریسنگ شاپ‘ چلانے والے حاجی اسلم بھی ہوم سروس فراہم کر رہے ہیں لیکن ان کا بھی یہی کہنا ہے کہ ہوم سروس کے دوران انکا کام ایسا اچھا نہیں جا رہا جیسا کہ دکان پر چلتا تھا۔ وہ سمجھتے ہیں کہ حجام پر پابندی لگانے کا سرے سے کوئی جواز ہی نہیں کیونکہ حجام کرونا وائرس کے آنے سے پہلے بھی ہیئر کٹنگ کے تمام آلات باقاعدہ سینیٹائزیشن کے بعد استعمال کرتے تھے۔ حاجی اسلم کے مطابق ان کےایک گاہک نے ان کی خدمات لینے سے پہلے اپنی حجامت خود کرنے کی کوشش کی جس سے ان کے بال خراب ہو گئے اور مونچھ بھی ٹیڑھی ہو گئی جس کے بعد انہیں مونچھیں صاف اور گنج کروانا پڑ گئی۔

تاہم حاجی اسلم گاہک کے گھر جا کر کیے گیے کام سے مطمئن نہیں ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ گھر پر عام کرسی پر بٹھا کر بال کاٹنے اور کٹنگ کے دوران مناسب فاصلہ رکھنے کی وجہ سے کٹنگ کا وہ معیار برقرار نہیں رہتا جو سیلون میں مہیا کیا جاتا ہے۔

تاہم دوسری طرف ہوم سروس لینے والے افراد کا کہنا ہے کہ اگرچہ حجام کی طرف سے ہوم سروس پر چارجز سیلون کی نسبت زیادہ ادا کرنے پڑتے ہیں اور کٹنگ کی کوالٹی بھی معیاری نہیں ہوتی تاہم لاک ڈاؤن کے دوران بالوں کا کٹ جانا بھی غنیمت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button