لاک ڈاؤن ختم ہونے سے قبل ہی بازاروں میں کاروبار زوروں پر

پاکستان بھر میں بظاہر لاک ڈاؤن ہے مگر انتظامیہ کی نااہلی کی وجہ سے رمضان کے آغاز سے ہی بازاروں میں عام دنوں کی طرح گہما گہمی نظر آتی ہے۔ سوشل ڈسٹنسنگ اب صرف برائے نام ہی رہ گئی ہے جس کی وجہ سے لاک ڈائون کا مقصد فوت ہو کر رہ گیا ہے۔ اور یہ سب ایک ایسے وقت ہورہا ہے جب ملک میں کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلنے کے شواہد سامنے آرہے ہیں۔
حالانکہ سندھ میں لاک ڈاؤن دیگر صوبوں کی نسبت زیادہ سخت ہے، پھر بھی کراچی کی خواتین عید کی تیاری پر بضد نظر آتی ہیں اور تمام پابندیوں کے باوجود کپڑوں کی مارکیٹ کا رخ کر رہی ہیں۔ شہر کے متوسط علاقوں میں قائم شاپنگ سینٹرز میں دکانیں تو بند ہیں مگر گاہکوں کے لیے مال دکان کے باہر ٹھیہ لگا کر، یا سڑک کنارے سیلز مین کھڑے کر کے بیچا جا رہا ہے۔ واٹر پمپ، ڈاکخانہ، لیاقت آباد اور کریم آباد کی مارکیٹ میں پانچ بجے سے پہلے لوگوں کا بے پناہ رش دیکھنے میں آتا ہے، اور اشیائے ضرورت کی دکانوں کی آڑ میں کپڑے کے بیوپاری اور درزی بھی اپنا کاروبار چلا رہے ہیں۔ درزیوں نے کاریگروں کو بلا کر بند دکانوں کے اندر کام شروع کر دیا ہے، اور گاہکوں کو فون کر کے بلا کر ان سے باہر کھڑے ایجنٹ کے ذریعے آرڈر وصول کر رہے ہیں۔
اسلام آباد اور راولپنڈی میں صورتِ حال کسی حد تک ایک جیسی ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں بظاہر تو لاک ڈاؤن ہے اور بہت ساری دکانیں بند ہیں تاہم کچھ دکانوں کے مالکان نے شٹر نیچے کر کے خرید وفروخت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اسی طرح صدر بازار سمیت راوالپنڈی کے کچھ علاقوں اور مارکیٹوں میں خفیہ خرید و فروخت ہورہی ہے۔گاہک آنے پر اُس کو دکان کے اندر بھیج دیا جاتا ہے اور شٹر گرا دیا جاتا ہے اور وہ اپنی پسند کی شاپنگ کر کے باہر نکل آتا ہے۔ راولپنڈی میں چند تاجروں نے دکانوں کے باہر ٹھیلوں پر اپنی چیزیں فروخت کرنا شروع کر دی ہیں۔
سڑک کنارے ایجنٹ کے ذریعے مال کی فروخت کا سلسلہ شہر کی موبائل اور الیکٹرانک مارکیٹ میں بھی جاری ہے۔ ان مارکیٹوں میں سامنے کی دکانیں اور مارکیٹ میں داخلی دروازے بند ہوتے ہیں مگر اندر کی دکانوں اور گودام کے ذریعے مال بیچا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مارکیٹیں تو ظاہری طور پر بند ہیں مگر لوگوں کا رش ہے۔
لاہور میں بھی اب خواتین کو خریداری کے لیے کچھ زیادہ دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑ رہا۔اگرچہ تمام بازار اور مارکیٹیں بند ہیں پھر بھی بازاروں میں خریدوفروخت جاری ہے۔ کچھ دکاندار اپنی دکانوں کے شٹر گرا کر اپنی چیزیں فروخت کر رہے ہیں تو کچھ دکاندار اپنی اشیاء ہتھ ریڑھیوں پر رکگ کر بیچ رہے ہیں جس میں کپڑے، جوتیاں اور دیگر سامان شامل ہے۔ واضح رہے کہ پنجاب حکومت کے ایک حکم نامے میں صوبہ بھر میں ریڑھیوں پر سامان بیچنے کی اجازت دے گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جیسے جیسے عید کے دن قریب آ رہے ہیں۔ بازاروں میں رش بڑھ رہا ہے۔ اور تقریباً ہر طرح کی چیزیں جو پہلے دکانوں سے دستیاب تھیں اب دکانوں کے آگے ریڑھیوں پر بیچی جا رہی ہیں۔
اسی طرح خیبرپختونخوا میں سرکاری طور پر لاک ڈاؤن کے تحت مخصوص دکانوں کے علاوہ سب کچھ بند ہے۔ شام چار بجے کے بعد میڈیکل سٹور اور دودھ دہی کی دکانوں کے علاوہ دیگر دکانیں کھولنے کی اجازت نہیں ہے لیکن بازاروں میں شٹر گرا کر کاروبار جاری ہے۔ بازار پہنچنے والے افراد کو اردگرد موجود دکانوں کے ملازمین پہچان کر شٹر کھول دیتے ہیں اور خریداری کے بعد عقبی راستوں سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔ ڈیپارٹمنٹل سٹورز اور متعدد کاروبار جنہیں مخصوص اوقات میں کام کی اجازت ہے وہ مرکزی داخلی و خارجی راستے بند کر لیتے ہیں تاہم سائیڈ یا عقب میں موجود راستوں سے صارفین کو خدمات فراہم رکھے ہوئے ہیں۔
بلوچستان کا سب سے بڑا شہر ہونے کی وجہ سے صوبے بھر سے لوگ عید کی خریداری کے لیے کوئٹہ کا رخ کرتے ہیں۔کوئٹہ کے بازاروں میں گزشتہ سال کی نسبت خریدار کم ہیں لیکن پھر بھی شہر کے بازاروں اور مارکیٹوں میں رش ہے۔ ان دنوں زیادہ لوگ عید کے لیے کپڑوں کی خریداری کررہے ہیں ۔ شہر کے بڑے شاپنگ مالز بند ہیں تاہم حکومتی پابندی کے باوجود کپڑوں، جیولری، کاسمیٹیکس اور جوتوں کی چھوٹی مارکیٹیں اور دکانیں جزوی طور پر کھلی ہیں۔
