لاک ڈاؤن کے بعد مہنگی سٹرابری کوڑیوں کے بھاؤ بکنے لگی

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے باعث جہاں کاروبار زندگی معطل ہے وہیں پیداوار کے مقابلے میں طلب میں کمی کی وجہ سے انسانی جسم میں قوت مدافعت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرنے والی وٹامن سی سے بھرپورسٹرابری کی قیمتوں میں ڈرامائی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ چند روز قبل لاہور سمیت مختلف شہروں میں 300 روپے کلو تک فروخت ہونے والی سٹرابری اب مختلف دکانوں اور ریڑھیوں پر 50 سے 80 روپے فی کلو میں دستیاب ہے۔
خوبصورت سرخ رنگت اور سبز پتوں والا پھل سٹرابری ہر علاقے میں دکانوں اور ریڑھیوں پر فروخت ہوتا نظر آتا ہے اس پھل کی چھ سو اقسام دنیا بھر میں پائی جاتی ہیں۔ تاہم پاکستان میں سٹرابری کی ایک ہی قسم چینڈلر ورائٹی کامیاب ہے بعض لوگ اس کو شینڈر یا اس سے ملتے جلتے ناموں سے بھی پکارتے ہیں۔سٹرابری کا روزانہ استعمال انسانی جسم کی قوت مدافعت بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس پھل میں وٹامن سی وافر مقدار میں پائی جاتے ہیں۔
جدید تحقیق کے مطابق سٹرابری ایک ایسا پھل ہے جو بیک وقت کئی موذی بیماریوں سے تحفظ دیتا اور انکا علاج بھی کرتا ہے ـ سٹرا بیری میں ایسے اجزا پاے جاتے ہیں اینٹی آکسیڈینٹس پر مشتمل ہونے کی وجہ سے موٹاپا دور کرنے میں مدد دیتے ہیں ـ یہ خالصتاً فائبر پر مبنی پھل ہے اور فائبر چربی تحلیل کر کے موٹاپا بھگانے کا بہترین زریعہ جس سے انسان موٹاپا دور کرنے کے لیے نقصان دہ ادویات سے بچ جاتا ہے ـ اپنی اس خصوصیت کی وجہ سے سٹرابری ذیابطیس ٹائپ ٹو کے خلاف بہترین جدوجہد کرتی ہے کیونکہ.اس میں پائے جانے والے اجزا خون میں گلوکوز کے جذب ہونےکی رفتار کو سست کر دیتے ہیں جس کی وجہ سے شوگر لیول ٹھیک رہتا ہے ـ اسکا شمار ان پھلوں میں ہوتا پے جن میں گلوکوز موجود نہیں اور اس وجہ سے بھی شوگر کے مریض کے لیے اچھی گردانی جاتی ہے ـاس میں موجود اجزا سرطان سے بچائو کے لئے کام آتے ہیں یہی وجہ ہے کہ سٹرابری کھانے والے کینسر جیسے مہلک مرض سے بچے رہتے ہیں اس میں فائبر سیلی کون، پوٹاشیم، میگنیشم جست آئیوڈین فولک ایسڈ ، وٹامن بی 2 بی 5 ، بی 6 اور میکنز کی خاصی مقدار پائی جاتی ہے۔
سٹرابری میں مختلف اجزاء اینٹی ایجنگ صلاحیت رکھتے ہیں جس کی وجہ سے جھریوں اور بڑھاپے سے بچاکر انسانی جسم کو جوان رکھتی ہے سٹرابری جوڑوں کے درد کے مریضوں کے لئے بھی فائدہ مند ہے۔ آنکھوں کی انفیکشن اور دیگر امراض چشم میں بھی انتہائی مفید تصور کی جاتی ہے۔ سٹرابری میں موجود فائٹو کیمیکلزکولیسٹرول لیول کو نارمل رکھتے ہیں۔ پوٹاشیم اور میگنیشم کی بدولت ہائی بلڈ پریشر میں فائدہ مند ثابت ہوتی ہے اس کو کھانے سے قوت مدافعت بحال رہتی ہے اور نزلہ زکام سمیت بیشتر اقسام کی انفیکشن سے انسان محفوظ رہتا ہے اس میں موجود فائٹونیوٹرنٹن سوجن یعنی ورم کوروکنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اس میں موجود فلیوٹائڈز سرطان قلب امراض اور ہڈیوں کی کمزوری میں بھی فائدہ مند ہیں
سٹرابری قدیم فرانس کا ایک بہت ہی کمیاب قسم کا پھل تھا اور فرانس کے علاوہ امریکہ کی کچھ حصوں میں پایا جاتا تھا مگر اب باقی دنیاکے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی اس کی کاشت کی شرح بہت بڑھ چکی ہے ـ پہلے سٹرابری کم پیدوار کی وجہ سے صرف جیم، جیلی اور دیگر بیکری آئٹمز میں استعمال ہوا کرتی تھی لیکن اب یہ پھل کے طور پر استعمال ہونے کے ساتھ ساتھ آئس کریم، ملک شیک، سلاد اور مشروبات میں استعمال ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button