لاک ڈاؤن کے معاملے پر حکومت اور ڈاکٹرز آمنے سامنے

کرونا وائرس کا پھیلاو روکنے کے لیے لاک ڈاؤن کے معاملے پر حکومتی ابہام کی وجہ سے یہ مہلک وبا یر گزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے اور انسانی جانوں کے نقصان کی صورت میں اپنی تباہ کاریوں میں اضافہ کرتی چلی جارہی ہے۔
ایک طرف وزیر اعظم اور انکی حکومت بضد ہیں کہ لاک ڈاؤن میں نرمی کرتے ہوئے لوگوں کو روزگار کمانے کی اجازت نہ دی گئی تو عوام کرونا کی بجائے بھوک سے مر جائیں گے جبکہ دوسری طرف ملک بھر کے ڈاکٹرز کا اتفاق ہے کہ کرونا پر قابو پانے کیلئے سخت لاک ڈاؤن ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا ہے کی اگر مزید چند روز ملک میں سیمی لاک ڈاؤن کی صورتحال رہی تو جلد ہسپتال کرونا کے مریضوں سے بھر جائیں گے اور مریضوں کا علاج سڑکوں پر کرنا پڑے گا۔
پاکستان میں گذشتہ چند روز میں کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد میں تیزی آنے کے بعد اس بیماری کے خلاف ہراول دستہ یعنی معالج بھی بظاہر شدید تشویش اور تحفظات کا شکار ہو چکے ہیں۔24 اپریل کو وفاقی حکومت نے جزوی لاک ڈاؤن میں 9 مئی تک توسیع کر دی ہے جس کے تحت بڑے کاروباری مراکز، ینما ہالز، تفریحی مقامات اور پبلک ٹرانسپورٹ کو تو بند رکھا گیا ہے جبکہ متعدد دیگر کاروبار کرنے کی مشروط اجازت دے دی گئی ہے۔ حکومتی فیصلے نے کرونا وائرس سے فرنٹ لائن پر لڑنے والی میڈیکل کمیونٹی کے خدشات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ان کا ماننا ہے حکومت اس بحران سے نمٹنے کیلئے مشکل فیصلے کرنے میں یکسر ناکام ہو چکی ہے۔ پچھلے چند دنوں میں پاکستان کے مخلتف شہروں خصوصا کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ اور لاہور کے سرکردہ ڈاکٹروں نے بارہا وفاقی حکومت کو کرونا وائرس کے خطرات سے آگاہ کیا ہے اور سخت لاک ڈاؤن کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن سے وابستہ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ موجوفہ حکومت کرونا وائرس سے متعلق غیرسنجیدہ اور مبہم موقف اپنانے کی بجائے لوگوں کو گھروں میں رکھنے پر واضح موقف اپنائے۔ کراچی کی خواتین ڈاکٹرز نے بھی وفاقی حکومت سے التجا کی کہ وہ تاجروں اور علما کو ملا جلا پیغام دینے کی بجائے صورت حال کی سنگینی کو سمجھے ورنہ ملک کا نظام صحت بڑھتے ہوئے کیسز سے نہیں نمٹ سکے گا۔ قبل ازیں لاہور کے سینیئر اور جونیئر ڈاکٹرز نے بھی حکومت سے اپیل کی کہ انہیں ہسپتالوں میں حفاظتی لباس اور سامان مہیا کرتے ہوئے ملک میں کورونا کی ٹیسٹنگ بڑھائی جائے اور کسی کے دباؤ میں آکر جلد بازی میں پابندیاں نرم نہ کی جائیں۔
کراچی کے ڈاکٹروں نے وائرس سے بچنے کی خاطر حکومت کو لاک ڈاؤن سخت کا مطالبہ کیا لیکن حکومتی عہدے داروں نے اس مطالبے کو ‘سیاسی کھیل’ قرار دے کر نظر اندز کر دیا۔ تاہم بعد ازاں پنجاب میں بھی ڈاکٹروں نے حکومت سے لاک ڈاؤن میں مزید سختی کا مطالبہ کر دیا ہے۔ تاہم دوسری طرف حکومتی ذمہ داران طبی عملے کے مطالبات کو ماننے کی بجائے ڈاکٹرز کے مشوروں کو سیاسی بیان بازی قرار دیتے مکمل لاک ڈاؤن کرنے سے انکار کرتے نظر آتے ہیں۔ اس ھوالے سے گفتگو کرتے ہوئے پنجاب حکومت کی ترجمان مسرت چیمہ کا کہنا ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن کسی صورت میں نہیں کیا جائے گا۔ ‘حکومت نے بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے۔ اب تو باقی دنیا بھی سمارٹ لاک ڈاؤن کی جانب جا رہی ہے۔مسرت چیمہ کا کہنا ہے کہ ‘پاکستان کی 70 فیصد آبادی بلواسطہ یا بلاواسطہ زراعت سے تعلق رکھتی ہے اور اگر ہم پورا لاک ڈاؤن کرتے ہیں تو اس آبادی پر برا اثر ہوگا جس سے ملک میں خوراک کا بحران پیدا ہوسکتا ہے اور اس سے لائیو سٹاک سیکٹر بھی متاثرہو گا ۔اسی لیے ہم سمارٹ لاک ڈاؤن کا انتخاب کر رہے ہیں۔
حکومتی ترجمان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘جو کلاس مکمل لاک ڈاؤن کا مطالبہ کر رہی ہے وہ سارا دن سڑکوں پر مٹر گشتی کرتی ہے۔ دفاتر تو بند ہیں لیکن مزدوروں کو روزگار مہیا کرنے کیلئے تعمیراتی پراجیکٹس پر کام کی اجازت دی گئی جبکہ روزمرہ استعمال کی اشیاء کی دستیابی کو یقینی بنانے کیلئے دکانیں کھولی گئیں ہیں۔
دوسری طرف یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسزکے وائس چانسلر اور صدر پاکستان سوسائٹی آف انٹرنل میڈیسن ڈاکٹر جاوید اکرم کہتے ہیں کہ اس وقت ہم نے زندگی اور موت کے بیچ انتخاب کرنا ہے۔ ’آپ کی زندگی ہو گی تو ہم لوگ معاشی و معاشرتی تقاضے پورے کر سکیں گے لیکن اگر لوگ زندہ ہی نہیں رہیں گے تو کہانی ویسے ہی ختم ہو جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ بدقسمتی سے میں دیکھ رہا ہوں کہ پاکستان میں کرونا وائرس عنقریب بہت زیادہ پھیلے گا اور شرح اموات بھی بڑھتی جائے گی اور ہمارا صحت کا نظام بہت نازک ہے، ہم اس سے نمٹنے کی سکت نہیں رکھتے۔انہوں نے اٹلی اور جرمنی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے صحت کے نظام میں جو فرق تھا اس کی وجہ سے اٹلی میں 10 گنا اموات زیادہ ہوئیں۔ ’ہمارے ہیلتھ کیئر سسٹم پر تو عام حالات میں بھی بوجھ بہت زیادہ ہے۔ حکومت کے تحفظات اپنی جگہ مگر وہ یہ بھی تو سوچیں کے کرونا پھیلنے کے بعد دوسری جانب کی انتہا کیا ہوگی؟’
پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور کے صدر ڈاکٹر اشرف نظامی نے بھی حکومتی ترجمان کی نفی کی اور کہا ‘ہم اس وقت ہائی ٹائم پر ہیں کیونکہ عالمی ادارہ صحت کہ چکا ہے کہ اگلے دو سے تین ہفتے ہمارے لیے خوف ناک ہیں لگتا ہے کہ ہم جلد کسی بڑی مصیبت میں پھنسنے والے ہیں۔ اس وقت 80 فیصد لوگ ایسے ہیں جن میں کرونا کی علامات ظاہر ہی نہیں ہوئیں۔ ‘اس پھیلاؤ کو روکنے کی صرف دو صورتیں ہیں ایک تو یہ کہ تیصتوں کی تعداد کو بڑھایا جائے اور دوسری صورت یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کو سخت کیا جائے۔ ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ باقی کی دنیا اس وقت سمارٹ لاک ڈاؤن پر جا رہی ہے جب وہ اس سٹیج سے گزر چکے ہیں۔ ہم تو اس سٹیج پر ابھی آئے ہی نہیں ہیں۔’

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button