لاک ڈاون سے تھیٹرز بند، چھوٹے فنکار فاقوں کا شکار

ملک بھر میں گذشتہ ایک مہینے سے جاری لاک ڈاؤن نے دیگر شعبوں کی طرح پرفارمنگ آرٹس بالخصوص تھیٹر کو بھہ بہت بری طرح متاثر کیا ہے۔ سٹیج فنکارتو جیسے تیسے گزارا کررہے ہیں لیکن سپورٹ سٹاف میں شامل میک اپ آرٹسٹ، پریس مین اور ٹی بوائے وغیرہ سمیت کم آمدنی والے افراد فاقوں سے مر رہے ہیں اور ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔

فلم اور تھیٹر سے وابستہ بڑے فنکار مالی طور پر مستحکم ہونے کی وجہ سے لاک ڈاون اور شوز سرگرمیوں کی بندش کے باوجود اچھا گزر بسر کررہے ہیں۔ مگر انہی شعبوں سے جڑے نسبتاً کم درجے کے آرٹسٹوں اور دیگر اسٹاف کی مالی حالت اس بندش کے باعث دگرگوں ہوتی جارہی ہے۔ اسٹیج پر یا پردے کے پیچھے خدمات انجام دینے والے یہ افراد ہفتہ وار یا روزانہ کی بنیاد پر اجرت حاصل کرتے ہیں جو اب کئی ہفتوں سے بند ہے اور نوبت فاقوں تک پہنچ گئی ہے۔
گزشتہ ایک مہینے سے جاری لاک ڈاؤن کے دوران جہاں سرکاری امدادی اسکیمیں سست روی کا شکار ہیں وہیں حکومت بھی حالات کی سنگینی کا احساس نہیں کررہی ۔ صرف فنکار ہی فنکاروں کے دکھ درد میں شریک دکھائی دیتے ہیں۔ لاہور کے اسٹیج آرٹسٹ عابد علی نے، لوک رس کے نام سے ہم خیال احباب کا ایک گروپ بنا رکھا ہے جو اس کڑے وقت میں اپنے ہم پیشہ افراد کی مدد کے لیے کوشاں ہے۔ عابد علی نے بتایا کہ وہ پچھلے 3 ہفتوں سے اب تک ڈھائی سو کے لگ بھگ بیروزگار آرٹسٹوں اور معاونین کو نقد رقم کی صورت میں اور قریب 70 گھرانوں کو راشن کی شکل میں امداد فراہم کرچکے ہیں۔ اس کارِ خیر میں انہیں اسٹیج اور ٹی وی آرٹسٹ قیصر پیا اور اسٹیج ڈراما پروڈیوسر سخی سرور بٹ نے مالی معاونت فراہم کی جبکہ چند مخیر حضرات نے راشن کی اشیا دیں۔عابد علی کا کہنا تھا کہ وہ اس کوشش میں ہیں کہ زیادہ سے زیادہ متاثرہ خاندانوں تک یہ سلسلہ بڑھایا جائے اور خود فنکار برادری کے بہنوں، بھائیوں تک پہنچ پائیں۔

چونکہ فنکار برادری اپنی حساسیت کی بنا پر دوہری مشکل میں ہے اس لیے اس نے اپنی سفید پوشی کا بھرم بنایا ہوتا ہے، وہ نہ تو کُھل کر اپنی مشکل بتا پاتے ہیں اور نہ سامنے آنا گوارہ کرتے ہیں۔
اسٹیج اور ٹی وی کے منجھے ہوئے کامیڈین واجد خان نے مہلک وبا کے باعث بڑھتے ہوئے معاشی مسائل کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرونا کی وبا تو اب آئی ہے مگر چند بڑے ناموں کو چھوڑ کر باقی آرٹسٹوں کے مسائل تو وہی پرانے ہیں۔ نامناسب تاخیر کے ساتھ انہیں اس قدر کم معاوضے دیے جاتے ہیں کہ جو روزمرہ کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بھی ناکافی ہوتے ہیں۔ اب بھلا ایسے میں بُرے وقت کے لیے کوئی کیا بچا کر رکھے؟ واجد خان کہتے ہیں کہ ہمارے ہاں لوگ فنکاروں کے کام پر داد تو خوب دیتے ہیں، ان کے ساتھ سیلفیاں بھی بنواتے ہیں مگر پیٹھ پیچھےانہیں اکثر بھانڈ، میراثی کہہ کر پکارتے ہیں۔ اب چاہے اس کے پیچھے کارفرما محرکات معاشی ہوں یا معاشرتی مگر یہ ایک کڑوی حقیقت ہے۔ واجد خان کہتے ہیں کہ آج تک فنکاروں کی بہبود کے لیے کوئی نمائندہ تنظیم نہیں بن سکی اور اس کا بڑا سبب سرمایہ کار ہیں، جنہیں ہم پروڈیوسر کہتے ہیں۔ جن کا مقصد فن یا فنکار کی ترویج نہیں بلکہ کچھ اور ہوتا ہے۔

لہذا اس آفت کے دور میں اگر فنکاروں کی کوئی نمائندہ ایسوسی ایشن موجود ہوتی تو آج ہمارے فنکار یوں بے آسرا نہ ہوتے۔ سٹیج سے وابستہ فنکاروں اور سپورٹ سٹاف کا مطالبہ ہے کہ حکومتی اداروں کو مشکل حالات کے شکار آرٹسٹوں اور سپورٹ اسٹاف کی مدد کے لیے آگے آنا چاہیے۔ اس وبائی صورتحال میں اگر حکومت اپنے فنکاروں کا ساتھ نہیں دے گی تو کون دے گا؟ ریاست میں بسنے والے ہر فرد کی ذمہ داری حکومت پر ہوتی ہے اور فنکار تو زیادہ توجہ کے مستحق ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج آپ سب کو تفریح فراہم کرنے والے خود فاقہ کشی پر مجبور ہوگئے ہیں اور اس سے بھی بڑا المیہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کسی تک پہنچ کر اپنا حال بھی نہیں بتا سکتے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button