لاک ڈاون کے دوران نیند ٹوئٹر پرٹرینڈ کرنے لگی

کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے خدشے کے پیش نظر پاکستان میں جاری لاک ڈاؤن کے دوران جہاں تعلیمی ادارے بند ہیں اور دفتر میں بھی چھٹیاں ہیں، وہاں لوگ گھروں میں رہتے ہوئے جو معمولات میں اپنائے ہوئے ہیں ان میں نیند سب سے محبوب مشغلہ ہے جو کہ ٹوئٹر پر بھی ٹرینڈ کر رہا ہے۔ نیند لینا بھی لوگوں کا ایک پسندیدہ ترین کام ہوتا ہے جبکہ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو نیند کو صرف جسمانی تھکن دور کرنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور اتنی ہی نیند لیتے ہیں جتنی کہ ایک عام انسان کو لینی چاہیے۔ لیکن بہت سارے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی آدھی زندگی تو نیند لیتے ہوئے ہی گزر جاتی ہے۔
کرونا وائرس سے پیدا ہونے والی صورت حال میں لوگ گھروں تک محدود ہوئے تو سوشل میڈیا صارفین اپنی سابقہ و موجودہ مصروفیتوں اور دلچسپیوں کے تذکرے نکال لائے، انہی میں نیند کا ذکر بھی شامل ہے۔ سوشل میڈیا ٹائم لائنز بالخصوص ٹوئٹر پر نیند کو گفتگو کا موضوع بنانے والے کہیں نیند آنے کا ذکر کرتے رہے تو کہیں بار بار سونے کے بعد نیند کے وقت نیند نہ آنے کا شکوہ کرتے دکھائی دئیے جبکہ کرونا وائرس کے بعد کی صورت حال میں معمولات بگڑ جانے سے متعلق تجربات بھی شیئر کیے جاتے رہے۔
محمد یوسف نامی ایک صارف نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ ’کرونا کی وجہ سے میرے معمولات الٹ پلٹ چکے ہیں۔ نیند بھی وقت پر نہیں آ رہی۔کچھ صارف ایسے بھی تھے جو ’نیند‘ کو ٹرینڈ کرتا دیکھ کر قدرے حیران بھی ہوئے۔ ناکٹرنل نامی ایک ہینڈل نے لکھا ’مطلب بھئی نیند ٹوئٹر پر ٹرینڈ کر رہی ہے۔ کچھ دنوں میں پاکستان کی ٹرینڈ لسٹ میں چائے، پان، کیوں، اچھا ٹھیک ہے بھی شامل ہو جائے گا۔‘ٹرینڈز لسٹ میں نیند کے شامل ہونے پر حیران ہوئے بغیر گفتگو کا حصہ بننے والوں کی تعداد بھی اچھی خاصی رہی۔ جولی نامی ایک صارف نے نیند کا ذکر کرتے ہوئے سوال کیا ’ارے نہیں سونا تھا پھر نیند کیوں آگئی ہے۔‘ہر لمحے سوشل میڈیا پر آن لائن رہنے والوں سے سوال کیا گیا کہ آپ لوگ سوتے کب ہیں تو جواب دینے والوں میں سے ایک ثقلین خان نے لکھا ’آج دن میں اتنا سو لیا اب نیند ہی نہیں آ رہی۔ ماہ نور نامی صارف نیند نہ آنے کا شکوہ کرنے والوں میں شامل رہیں۔ انہوں نے لکھا کہ رات کے درمیان سو گئی تھی، تین گھنٹوں بعد ہی جاگ چکی ہوں اور اب واپس نیند نہیں آ رہی۔
ثانیہ سعید نامی ایک صارف نے نیند کے متعلق معمول کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’پہلے رات جلد سوتے تھے کہ صبح وقت پر جاگ کر کام کرنے ہیں اب جلد سوتے ہیں کیونکہ صبح جاگ کر پھر آرام کرنا ہوتا ہے۔‘ سونا چاہیں اور نیند نہ آئے تو اس بے چینی کا اندازہ کرنا کچھ مشکل نہیں، ایسے وقت میں خواہش ہوتی ہے کہ کسی بھی طرح روٹھی نیند کو منا لیا جائے۔ ایشا نامی صارف کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہوا تو انہوں نے لکھا ’نیند بھیج دیں، پلیز میں ادائیگی کر دوں گی۔
اپنے معمولات کو بہتر بنانے اور سوشل میڈیا کو ان معمولات میں مداخلت کی اجازت نہ دینے کے خواہشمند صارفین بھی گفتگو کا حصہ رہے۔ صالحہ سراج نامی صارف نے لکھا ’ جان بوجھ کر آج موبائل فون چارج نہیں کیا تاکہ رات دیر گئے تک استعمال کے قابل ہی نہ رہے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button