لاہور انڈر پاس کا منصوبہ بھی پشاور BRT والی نااہل کمپنی کو مل گیا

پنجاب کی بزدار سرکار میں نوازشات کا سلسلہ جاری ہے۔ ماضی کے شرمناک ریکارڈ کو نظر انداز کرتے ہوئے لاہور میں انڈر پاس بنانے کا ایک ارب روپے کا ٹھیکہ پشاور بی آر ٹی میں اپنی نا اہلی ثابت کرنے والی کنسٹرکشن کمپنی مقبول ایسوسی ایٹس کو دے دیا گیا۔
معلوم ہوا یے کہ وزیر اعلی پنجاب کے حکم پر لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے فردوس مارکیٹ لاہور کا انڈر پاس بنانے کا ٹھیکہ پشاور بس رپیڈ ٹرانزٹ منصوبے کو پانچ برس سے لٹکانے والی کمپنی کو دے دیا یے جس کے بعد یہ خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ اس بڑے منصوبے کا حال بھی بی آر ٹی منصوبے سے مختلف نہیں ہوگا۔
فردوس مارکیٹ انڈر پاس منصوبے کی بنیادی لاگت ایک ارب 9 کروڑ رکھی گئی تھی، مقبول ایسوسی ایٹس نے 97 کروڑ ایک لاکھ 31 ہزار 267 کی بڈ دی، این ایل سی نے ایک ارب 2 کروڑ 49 لاکھ 76 ہزار 140 اور حبیب کنسٹرکشن سروسز نے 99 کروڑ 69 لاکھ 70 ہزار 984 کی بڈ دی، سب سے کم بولی مقبول ایسوسی ایٹس نے دی۔ بڈ کی ٹیکنیکل اور فنانشل ایویلیوایشن کے بعد آمادگی کا لیٹر دیا جائے گا۔ فردوس مارکیٹ انڈر پاس کے حوالے سے لگنے والی بولیوں کا فیصلہ کرتے وقت کنسٹرکشن کمپنیوں کی منصوبے کی بروقت تکمیل کی صلاحیت کو یکسرنظر انداز کیا گیا ہے اسی لئے ایسی کمپنی کو ٹھیکہ ایوارڈ کیا گیا ہے جو 8 دفعہ ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود بی آر ٹی پشاور منصوبہ مکمل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
واضح رہے کہ جنوری 2020 میں ایل ڈی اے نے گلبرگ سے ایم ایم عالم روڈ اور کیولری گراؤنڈ کی طرف جانے والی ٹریفک کی سہولت کے لئے فردوس مارکیٹ چوک میں انڈر پاس کی تعمیر کے منصوبے پر کام شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ یہ دورویہ انڈر پاس 540 میٹر طویل اور دونوں طرف سے دو دو لینز پر مشتمل ہوگا۔ فردوس مارکیٹ انڈر پاس کا ڈیزائن نیسپاک نے تیار کیا ہے جس کے مطابق سینٹر پوائنٹ سے کیولری گراونڈ کی جانب دو طرفہ فل ہائٹ انڈر پاس کی تعمیر تجویز کی گئی ہے جبکہ کیولری گراؤنڈ سے سینٹر پوائنٹ کی جانب ساڑھے چھ کنال اراضی ایکوائر کی جائے گی۔
یاد رہے کہ فردوس مارکیٹ انڈر پاس کی تعمیر کے لیے سب سے کم لاگت کی بولی دینے والی کنسٹرکشن کمپنی مقبول ایسوسی ایٹس کو تحریک انصاف کی حکومت نے اکتوبر 2017 میں بی آر ٹی منصوبہ بنانے کا ٹھیکہ دیا تھا جس کو چھ ماہ میں مکمل ہونا تھا۔ تاہم تقریباً 3 سال کا عرصہ گزرنے کے باوجود ابھی تک یہ منصوبہ پایہ تکمیل کو نہیں پہنچ سکا اور اس پر اٹھنے والی لاگت میں بھی اربوں روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس منصوبے کی ابتدائی لاگت 50 ارب روپے تھی تاہم اقتصادی ماہرین کے مطابق اب اس کی لاگت 70 ارب روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔
واضح رہے کہ اکتوبر 2017 میں لگ بھگ 50 ارب روپے کے ابتدائی تخمینے سے شروع کیے گئے اس منصوبے کو سابق وزیر اعلٰی خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے چھ ماہ میں مکمل کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن مبینہ بد انتظامی اور ٹھیکیداروں کی ناکامی کے باعث تاحال اس منصوبے پر کام مکمل نہیں ہو سکا۔ موجودہ وزیراعلیٰ محمود خان نے فروری 2019 میں اعلان کیا تھا کہ وہ 23 مارچ کو ہر صورت اس منصوبے کا افتتاح کریں گے لیکن حکومت اس دعوے کو پورا کرنے میں بھی ناکام رہی۔ اس منصوبے کی تاریخ تکمیل میں چھ مرتبہ تبدیلی کی جا چکی ہے۔ 7ویں دفعہ مارچ 2020 میں اسے مکمل ہونے کی نوید سنائی گئی لیکن اس پر بھی عمل درآمد میں ناکامی کے بعد یہ منصوبہ 31 جولائی 2020 کو مکمل کرنے کی خوشخبری سنائی گئی تاہم اب صوبائی حکومت اس سے بھی پیچھے ہٹ گئی ہے۔
