لاہور میں قائد اعظم کی ملکیتی زمین پر قبضہ کس نے کیا؟

پاکستان میں عام شہریوں اور سرکاری زمینوں پر قبضے کے قصے تو عام بات ہیں مگر حال ہی میں انکشاف ہوا ہے کہ لاہور کے پوش ترین علاقے گلبرگ مین بلیورڈ پر قائد اعظم محمد علی جناح کی ملکیتی 29 کنال وقف اراضی پر قبضہ کرکے کمرشل عمارت تعمیر کردی گئی ہے لیکن افسوس کی بات یے کہ متعلقہ ادارے یعنی محکمہ ریونیو اور ایل ڈے اے اتنی بڑی قومی ڈکیتی پر خاموش تماشائی بنے رہے اور اب بھی خاموش ہیں۔
یاد رہے کہ محکمہ ریونیو کے ریکارڈ میں قائد اعظم محمد علی جناح، محترمہ فاطمہ جناح اور نواب زادہ لیاقت علی خان کی جانب سے لاہور کے پوش علاقہ گلبرگ کی مرکزی سڑک پر 29 کنال زمین ٹرسٹ کے نام وقف کی گئی تھی۔ یہ قیمتی زمین 1943سے انہی کے نام چلی آرہی ہے لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ اب یہاں ایک شاپنگ مال اور پلازہ بن چکا ہے۔
ماڈل ٹاؤن ریجن میں واقع اس اربوں روپے مالیت کی جائیداد پر لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے جواب طلب کیا گیا تھا لیکن یہ معاملہ فائلوں میں دب کر رہ گیا ہے۔ اسسٹنٹ کمشنر ماڈل ٹاؤن کی جانب سے اس معاملے کا نوٹس لیے جانے پر اینٹی کرپشن حکام نے تحقیقات کا آغاز کیا تھا لیکن ان کا بھی کوئی نتیجہ ابھی تک سامنے نہیں آیا۔ اسسٹنٹ کمشنر ماڈل ٹاؤن کہ کہنا یے کہ گلبرگ مین بلیورڈ پر 29 کنال کمرشل اراضی ابھی تک قائد اعظم محمد علی جناح کے نام چلی آرہی ہے جو انہوں نے خریدنے کے بعد ایک ٹرسٹ بنانے کےلیے وقف کی تھی۔ اس کا مختار نامہ سابق وزیر اعظم لیاقت علی خان اور محترمہ فاطمہ جناح کے نام پر ہے جو کسی اور کو منتقل نہیں ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ ریکارڈ میں یہ زمین انہی کے نام ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اب وہاں پر حیران کن طور پر پلازہ اور شاپنگ سنٹر بن گیا ہے۔ اس سوال پر کہ ریکارڈ کے مطابق اگر اس زمین کو کسی اور کے نام منتقل نہیں کیا گیا تو اس پر قبضہ کیسے ہوگیا؟ اسسٹنٹ کمشنر نے جواب دیا کہ کمرشل زون میں کسی بھی عمارت کی تعمیر کی اجازت ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے پاس ہوتی ہے لہذا اس معاملے میں ایل ڈی اے قصوروار اور ذمہ دار لگتا ہے۔ انکانکہنا تھا کہ محکمہ ریونیو پنجاب کی ہدایت پر محکمہ اینٹی کرپشن نے تحقیقات شروع کر رکھی ہیں اور ایل ڈی اے حکام کو بھی نوٹس بھجوا کر جواب طلب کر لیا گیا تھا تاہم ابھی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ایل ڈی اے حکام کی جانب سے جواب نہ آنے کی صورت میں زمین واگزار کرانے کےلیے قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ اگر ایل ڈی اے کی جانب سے کوئی مؤثر وضاحت پیش کر بھی دی گئی تو زمین کا کسی بھی خریدار کے نام انتقال نہ ہونے پر کارروائی یقینی ہے۔ اسسڑنٹ کمشنر کا کہنا تھا کہ محکمہ ریونیو کے قوانین کے حوالے سے ٹرسٹ کے لیے وقف کی گئی زمین کسی اور مقصد کےلیے استعمال کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ تاہم عدالتوں میں معاملہ لے جانے پر قانون کے مطابق تبدیلی کی گنجائش موجود ہے۔ لیکن اس کےلیے کوئی اہم اور ضروری وجہ ہونا لازم ہے۔
گلبرک میں قائد اعظم کی اس 29 کنال زمین کا نقشوں کی مدد سے احاطہ کرنے کےلیے معائنہ کرنے والی اینٹی کرپشن کی ٹیم کے ایک افسر نے بتایا کہ زمین پرانے نقشوں کے مطابق ٹرسٹ کےلیے موجود ہے لیکن اس پر کمرشل تعمیرات ہوچکی ہیں۔ اس لیے قبضہ کرنے والوں کو بھی نوٹس جاری کیے جائیں گے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جن افسران نے تعمیرات کی اجازت دی ان کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی، جب کہ جنہوں نے قبضہ کیا انہیں بھی مناسب وجہ نہ ہونے پر قانون کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ان کے خیال میں ان قیمتی زمینوں پر تعمیرات ملی بھگت سے ہی ممکن ہیں کیوں کہ ایل ڈی اے حکام کی ذمہ داری تھی کہ وہ تعمیرات کو روکتے اور قبضہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی عمل میں لاتے۔ سورس رپورٹ کی بنیاد پر محکمہ اینٹی کرپشن لاہور ریجن نے پٹوار سرکل اچھرہ میں واقع ریونیو اسٹاف سے ریکارڈ اور موقع کی رپورٹ بھی طلب کرلی۔
اس معاملہ پر ایل ڈی اے حکام سے موقف لینے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کوئی بھی جواب دینے سے اجتناب کیا تاہم ایک افسر نے بتایا کہ اینٹی کرپشن اور محکمہ ریونیو کی جانب سے ایل ڈی اے کو گلبرگ میں 29 کنال قیمتی زمین پر قبضوں کی وضاحت اور ریکارڈ طلب کرنے کا نوٹس مل چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ ریونیو اور ایل ڈی اے کے درمیان ذمہ داری کے معاملہ پر مؤثر رابطہ نہیں۔ جب کہ سینکڑوں شہریوں کی قیمتی زمینوں پر قبضہ ہوچکا ہے اور عام شہری محکموں کے درمیان شٹل کاک بنے ہوئے ہیں۔ زمینوں کی حفاظت سے متعلق سرکاری محکمہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کو تیار نہیں۔ پرانی فائلیں تبدیل اور رجسٹریوں میں ہیرپھیر کا دھندا کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ ان محکموں کے اہلکاروں کی ملی بھگت کے بغیر غیر قانونی قبضوں کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ ان کے خیال میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرایزیشن سے زمینوں کے جعلی انتقال، رجسٹریوں میں ردوبدل اور قبضوں کو روکا جاسکتا ہے لیکن بد قسمتی سے دس سال گزرنے کے باوجود یہ جدید نظام بھی مکمل فعال نہیں ہوسکا۔
