’لاہور میں نشہ آور ’چاکلیٹس‘ بیچنے والا گروہ کیسے پکڑا گیا؟

’کہا جاتا ہے کہ اگر لاہور میں ’جورڈن گینگ‘ کا ’مال‘ بند ہو گیا تو سمجھیں کہ آدھے سے زیادہ شہر کا نشہ بند ہو جائے گا۔‘پولیس حکام کا اندازہ ہے کہ یہ گینگ صرف لاہور شہر میں ایک دن میں ایک سے ڈیڑھ کروڑ روپے کی لاگت کا نشہ آور مواد فروخت کر رہا تھا۔پولیس کا دعویٰ ہے کہ یہ نشہ آور مواد لاہور کے سکولوں، کالجز، یونیورسیٹوں اور پوش علاقوں میں بھی فروخت کیا جاتا تھا۔
خیال رہے کہ یہ کوئی واحد گینگ نہیں جو نشہ آور اشیا کے کاروبار سے وابستہ ہے۔ مگر ’جورڈن گینگ‘ کے نام سے ظاہر ہے کہ اس میں غیر ملکی شہری بھی ملوث ہیں۔’یہ گینگ گذشتہ 12 سال سے انتہائی ہوشیاری اور منظم انداز میں کام کر رہا تھا۔ ان لوگوں کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ بھی نہیں تھا۔‘دلچسپ بات یہ ہے کہ لاہور میں اس گینگ سے نشہ خریدنے والے لوگ انھیں پسند بھی اسی لیے کرتے تھے کیونکہ خریداروں کے مطابق ’ان کا مال اچھے معیار کا مانا جاتا تھا۔‘
کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈی آئی جی عمران کشور کے مطابق ’ہماری انٹیلیجنس ایجنسیاں جب بھی لاہور کے منشیات فروش گینگز کی گفتگو انٹرسیپٹ کرتی تھیں تو اس میں بار بار ایک نام ’جورڈن‘ سامنے آتا تھا۔ اس نام کے سوا ہمارے پاس کوئی معلومات نہیں تھیں۔‘ڈی آئی جی کے مطابق ’چیک کرنے پر یہی پتا چلتا تھا کہ یہ شخص فیک نام سے گینگ چلاتا ہے کیونکہ جو بھی جورڈن سے نشے کا سامان لیتا تھا وہ نہ تو جورڈن کو ملا ہوا تھا اور نہ ہی اسے کبھی کسی نے دیکھا تھا۔عمران کشور نے مزيد بتایا کہ ’یہ لوگ آن لائن کام کرتے تھے اور ان کا زیادہ تر خریدار لاہور کی ایلیٹ سوسائٹی کے بچے، خواتین اور مرد حضرات تھے جن کو پیسوں کے مسائل نہیں ہیں اور وہ باآسانی انھیں آن لائن پیسے ٹراسفر کر کے نشے کے لیے مال خریدتے تھے۔‘ پولیس حکام کے مطابق جورڈن گینگ کے لوگ مختلف چیزوں میں نشہ ملا کر بھی بیچ رہے تھے جیسے چاکلیٹ، ویپس اور جیلی وغیرہ۔‘ ’
دوسری جانب اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور بلال کمیانہ کا کہنا ہے کہ ’افسوس کی بات ہے کہ یہ تمام تر مال ایک، دو انٹرنیشنل ڈیلیوری سرورسز کا استعمال کر کے بھیجا جاتا تھا۔مگر سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پولیس نے ’جورڈن گینگ‘ کو کیسے پکڑا۔سی سی پی او لاہور نے کہا کہ ان لوگوں کو پکڑنے کے لیے پولیس نے پہلے اپنے لوگ ان کے پیچھے لگائے اور انھیں کہا کہ ’ہم آپ سے مال خریدنا چاہتے ہیں۔‘’اس کام کے لیے ہم نے مقامی سطح پر کافی خریداری کی جس کے ذریعے ان کے فون نمبرز اور بینک اکاؤنٹس کی تفصیلات ہم تک آنا شروع ہوگئیں۔‘
پولیس آفیسر کے مطابق جورڈن گینگ کو پکڑنے کے لیے ان سے ’ہم نے 15 لاکھ روپے کا مال خریدا۔ یہی نہیں بلکہ ہم نے سی سی ٹی وی کے ذریعے دیکھا کہ ان کا مال کوریئر کمپنی میں کون بُک کروانے آیا ہے۔ ہم نے انھیں ڈھونڈ کر ان کا پیچھا کیا۔‘’جب ہمارے بندے ان کے مستقل گاہک بن گئے تو پھر ہم نے ان سے انٹرنیشنل سطح پر خریداری کی بات کی۔ ہمیں معلوم ہوا کہ جورڈن گینگ پاکستان کے علاوہ بھی دیگر ملکوں میں کام کرتا ہے جس میں تھائی لینڈ، کینیڈا، دبئی، ویتنام، میکسیکو اور امریکہ جیسے ممالک شامل ہیں۔۔۔ وہاں سے مال پاکستان بھی لایا جاتا تھا۔‘یوں پولیس نے انٹرنیشنل اکاؤنٹس کی معلومات کے ذریعے تحقیقات کا دائرہ کار بڑھایا اور انھیں لاہور میں اس گینگ کے اڈے کا علم ہوگیا۔
سی سی پی او لاہور کے مطابق ’ڈی ایچ اے فیز 6 کے تین گھر ایک ساتھ تھے جن پر ہمیں شک تھا۔ ہم نے وہاں اپنے بندے پہرے پر بٹھا دیے۔‘پولیس نے فیصلہ کیا کہ ’ہم تینوں گھروں پر ایک ساتھ کریک ڈاؤن کریں گے تاکہ اصل ملزمان فرار نہ ہو سکیں۔ جب ہم نے ان گھروں پر چھاپہ مارا تو ہم وہاں سے بڑے پیمانے پر منشیات برآمد کرنے میں کامیاب ہوئے۔‘پولیس کے اندازوں کے مطابق برآمد ہونے والی منشیات کی قیمت 25 کروڑ روپے سے زیادہ ہے۔‘
پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے جورڈن گینگ سے تعلق کے الزام پر چھ افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں سے کچھ لوگ انھی کے خاندان کے فرد ہیں۔پولیس افسران کہتے ہیں کہ چھاپے کے وقت مذکورہ گھر میں ’نو گارڈز تھے۔ گیراج میں بڑی بڑی گاڑیاں کھڑی ہوئی تھیں۔‘پولیس کا دعویٰ ہے کہ جورڈن گینگ چلانے والے فرار ملزم اس وقت تھائی لینڈ میں مقیم ہیں اور وہ آخری بار اگست 2023 میں پاکستان آئے تھے۔ پولیس نے کہا ہے کہ وہ ان کی گرفتاری کے لیے تھائی لینڈ کی حکومت سے رابطہ کر رہے ہیں۔
