لاہور میں کرونا کن علاقوں سے اور کیسے پھیلا؟

ریسرچ سے پتہ چلا یے کہ لاہور کے پانچ علاقوں یعنی رائے ونڈ، اسکندریہ کالونی، مکھن پورہ، شاہدرہ اورشالامار کے رہائشیوں نے باغات کے شہر کو کرونا زدہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ‘سپر اسپریڈر’ یعنی تیزی سے پھیلانے کی اصطلاح کے حامل ان علاقوں کے باسیوں نے کرونا سے متاثر ہونے کے باوجود باہمی میل ملاپ جاری رکھا جس سے اس موذی وائرس نے دیکھنتے ہی دیکھتے شہر کے اکثر علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ پنجاب میں رپورٹ شدہ 3300 سے زائد کیسز میں 540 مریضوں کا تعلق لاہور سے ہے جن کی تعداد ہر گزرتے دن کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔
صوبہ پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے بعض علاقوں میں کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کے بعد ان علاقوں کے لیے ‘سپر اسپریڈر’ کی اصطلاح استعمال کی جا رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہاں کے رہائشی اگر احتیاط کرتے تو وبا اتنی تیزی سے نہ پھیلتی۔ محکمہ صحت پنجاب نے اس ضمن میں لاہور کے پانچ علاقوں کی نشاندہی کی ہے۔ جن میں اسکندریہ کالونی، مکھن پورہ، شاہدرہ، شالامار اور رائے ونڈ کے علاقے شامل ہیں۔ لاہور کے میو اسپتال کے چیف ایگزیکٹو آفیسر پروفیسر ڈاکٹر اسد اسلم کے مطابق ‘سپر اسپریڈر’ ایک طبی اصطلاح ہے۔ جس سے مراد وبائی مرض کا شکار ایسا شخص جس نے بہت سے لوگوں میں وائرس منتقل کیا ہو۔ ڈاکٹر اسد اسلم کے مطابق کرونا کی حالیہ وبا کے دوران ‘سپر اسپریڈر’ کی اصطلاح لاہور میں ثمن آباد کے علاقے اسکندریہ کالونی کے لیے استعمال کی گئی ہے۔ جہاں کرونا کا مرض بہت تیزی سے پھیلا۔ اُن کے بقول "سپر اسپریڈر ایسے شخص کو کہتے ہیں کہ جو جگہ جگہ پھرتا رہا۔ وہ گھروں میں بھی گیا اور بازار میں بھی چکر لگاتا رہا ہو۔ اپنے عزیز و اقارب کے ہاں بھی جاتا رہا ہو۔ ایسا شخص کیرئیر یعنی بیماری پھیلانے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ جس کو پتہ نہیں ہوتا کہ وہ کسی وبائی مرض یا کرونا میں مبتلا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اسکندریہ کالونی میں بھی ایسا ہی ہوا۔ ایک مریض معمول کے مطابق علاقے میں پھرتا رہا اور لوگوں میں وائرس منتقل کرتا رہا اور 40 سے زائد افراد کو متائثر کر دیا۔
اسی طرح رائے ونڈ اجتماع میں شریک افراد نے بھی ایک مقام سے وائرس کو لے کر گلی گلی گھومتے ہوئے سینکڑوں افراد میں وائرس کی منتقلی کا سبب بنے۔ ڈاکٹر اسد کا کہنا ہے کہ ایسے مریض جہاں جہاں جاتے ہیں اس بیماری کے جراثیم پھیلاتے جاتے ہیں۔ سائنس کہتی ہے کہ اگر متاثرہ شخص میل جول محدود کر دے تو پھر بھی وہ کم سے کم 10 افراد کو متاثر کر سکتا ہے لیکن اگر وہ آزادانہ گھومتا رہا تو وہ مزید کئی افراد کو متاثر کر سکتا ہے۔ محکمہ پرائمری اینڈ اسکینڈری ہیلتھ پنجاب کے مطابق لاہور کے پانچ علاقوں میں کرونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھی۔ جس کے بعد اِن علاقوں کی جانچ پڑتال اور متاثرہ اشخاص کے ٹیسٹ شروع کیے گئے۔
سیکرٹری صحت پنجاب کیپٹن (ر) محمد عثمان یونس کے مطابق رائے ونڈ کے علاوہ کسی علاقے کے رہائشیوں کی کوئی ٹریول ہسٹری سامنے نہیں آئی ہے۔ لاہور کے علاقوں شاہدرہ، اسکندریہ کالونی، شالامار اور مکھن پورہ میں یہ وائرس مقامی طور پر ہی پھیلا ہے۔
سیکریٹری صحت نے بتایا کہ اِن علاقوں میں بڑی تعداد میں مریض سامنے آنے پر پولیس کی مدد سے اِن علاقوں کو سیل کیا گیا اور کسی بھی شخص کو اِن علاقوں سے باہر جانے اور اندر آنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔ سیکرٹری صحت نے مزید بتایا کہ لاہور کے علاقے اسکندریہ کالونی میں پہلا کیس سامنے آنے کے بعد اُس سے جُڑے 130 مشتبہ افراد کے ٹیسٹ کیے گئے اور انہیں قرنطینہ میں رکھا گیا۔ جس میں سے 42 افراد میں کے کرونا ٹیسٹ مثبت آئے۔اُن کے بقول علاقے کے ایک گھر سے نو مریض، ایک سے سات اور ایک گھر سے پانچ مریض سامنے آئے۔ اسکندریہ کالونی میں ایک شخص تھا جو اس وائرس میں مبتلا تھا، لیکن وہ علاقے میں کھلے عام پھرتا رہا اور وائرس پھیلاتا رہا۔
ڈپٹی کمشنر لاہور دانش افضال کے مطابق رائے ونڈ سٹی میں بھی بہت سے کرونا کے تصدیق شدہ مریضوں کو مقامی طور پر قرنطینہ میں رکھا جا رہا ہے جبکہ جن علاقوں میں کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے انھیں ریڈ زون کا نام دیا گیا ہے اور انھیں مکمل طور پر سیل کر دیا گیا ہے اور سیل کیے جانے والے علاقوں میں جراثیم کش اسپرے بھی کرایا جا رہا ہے۔ حکومت کی طرف سے کرونا وائرس کی وباء کے پھیلاؤ کے دوران رائے ونڈ میں تبلیغی اجتماع کے انعقاد کو روکتے ہوئے کرونا کی روک تھام کیلئے بروقت مؤثر اقدامات کئے جاتے تو اس مہلک وائرس کو پورے شہر میں پھیلنے سے روکا جا سکتا تھا تاہم عمل اقدامات زمین پر کئے جاتے ہیں فضائی معائنے کے دوران نہ تو کرونا وائرس نظر آتا ہے اور نہ ہی اس سے عوام کو کوئی ریلیف مل سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button