لاہور کی لالی وڈ فلم نگری کیوں اور کیسے ویران ہوئی؟


کمزور سکرپٹنگ، ناقص پروڈکشن، حقیقت سے دور کہانی، بیہودہ گانوں اور عامیانہ ڈائیلاگز، تکنیکی خرابیوں، جدید ٹیکنالوجی کے عدم استعمال اور غیر معیاری ہدایتکاری کی وجہ سے پاکستان کی فلم انڈسٹری تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ چنانچہ جہاں فلم بینوں نے لالی ووڈ کی فلمیں دیکھنے کیلئے سینما ہالز کا رخ کرنا چھوڑ دیا ہے وہیں فلم انڈسٹری سے منسلک افراد کے گھروں پر فاقوں اور بھوک نے ڈیرے ڈال لئے ہیں۔ گولیوں کی بوچھاڑ، چیخ و پکار، ہر طرف اڑتا خون ہی خون، یہ پاکستان میں بننے والی ہر فلم کا خاصہ تصور کیا جاتا ہے۔ اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ ہم میں سے اکثر لوگ ایسی ہی فلموں کا مذاق اُڑاتے ہوئے بڑے ہوئے ہیں۔ وہ فلمیں جن میں اکیلا ہیرو درجنوں مخالفین کی ٹھکائی لگا کر اپنی محبوبہ تک پہنچ جاتا ہے۔ ایسی فلمیں جن میں ہیروئین کھیتوں کے بیچوں بیچ رقص کر کے ایک ایسے ہیرو کا دل جیتنے کی کوشش کرتی ہے جو خود اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرتا۔ یا پھر ایسی فلمیں جن میں ولن پے در پے گولیاں کھا کر بھی مرنے کا نام نہیں لیتا۔
پچھلے کچھ برسوں میں چند پاکستانی فلمسازوں نے ڈگر سے ہٹ کر اچھوتے موضوعات پر کامیاب فلمیں پیش کیں تو بہت سوں کو گمان ہوا کہ شاید اب پہلے والی فلمیں بننا بند ہو گئی ہیں اور لالی وڈ انڈسٹری ایک نئے راستے پر چل پڑی ہے لیکن ایسا نہیں ہے۔ لاہور کی فلم نگری لالی ووڈ میں آج بھی ایسی فلمیں تیار ہو رہی ہیں جنھیں حقیقت سے دور کہانیوں، کمزور کردار نگاری اور غیر معیاری پروڈکشن کی وجہ سے دل بھر کر بُرا بھلا کہا جاتا ہے۔ پچھلی چار دہائیوں سے فلم کے کام سے منسلک پرویز کلیم مانتے ہیں کہ موجودہ دور حقیقت سے قریب فلموں کا دور ہے۔ اب فلم بین سطحی فلموں کو پسند نہیں کرتے۔ جب کوئی عہد کروٹ لیتا ہے تو بہت کچھ تبدیل ہو جاتا ہے۔ لوگوں کا مزاج تو بہت پہلے ہی بدل گیا تھا لیکن ہم ہی نہیں مان رہے تھے۔ جب نئی نسل نے بیہودہ، لچر اور کمزور فلموں کو مسترد کیا تو ہمیں عقل آئی۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ماضی میں جو ہم رنگ برنگے سیٹ لگایا کرتے تھے، اب فلم اُس سے فرار حاصل کر چکی ہے۔ اب فلم انڈسٹری بہت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ ہر ایک سال بعد ایک نیا کیمرا مارکیٹ ہو جاتا ہے۔ یعنی فلم بنانے کا طریقہ نہیں بدلتا لیکن تکنیک بدل جاتی ہے۔’
دوسری طرف فلمی نقادوں کا دعویٰ ہے کہ لالی وڈ بطور انڈسٹری اب تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ پاکستان میں بننے والی فلمیں نہ ہونے کے برابر ہیں۔ جو اکا دکا فلمیں بن بھی رہی ہیں اُنھیں فلم انڈسٹری کا حصہ تصور نہیں کیا جا سکتا۔ گذشتہ دو دہائیوں میں لالی وڈ کی فلموں کا معیار انتہائی کمتر رہا۔ ہدایتکاری، تحریر اور ٹیکنیکل اعتبار سے یہ فلمیں مکمل طور پر ناکام تھیں اور یہی اِس انڈسٹری کی تباہی کی وجہ بنی۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ لاہور کے پرانے فلمسازوں کو جدید ٹیکنالوجی اور تربیت یافتہ ٹیکنیکل عملے کی کمی کا بھی سامنا ہے۔ اب نئے تقاضوں کے مطابق اپ ڈیٹ ہونا فلمی دنیا کے لوگ اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ جو جہاں کھڑا ہے وہ سمجھتا ہے کہ میں یہاں بالکل ٹھیک ہوں۔ تاہم بعض ناقدین کا اس رائے سے اختلاف کرتے ہوئے کہنا ہے کہ جدید کیمرے اور لائٹس یا دیگر ساز و سامان حاصل کرنا اب کوئی مسئلہ نہیں رہا۔ لاہور میں بننے والی اکثر فلمیں جدید ترین کیمروں پر فلمبند ہو رہی ہیں۔ ہمارے پاس وہی کیمرے ہیں جو ہالی وڈ اور بالی وڈ میں استعمال ہو رہے ہیں۔ تاہم وہ اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہیں کہ پھر پاکستانی فلمیں عالمی سطح پر مقام بنانے میں ناکام کیوں ہیں؟‘
لاہور کی فلمی صنعت کی زبوں حالی کا ایک نتیجہ فلم سٹوڈیوز کے ختم ہونے کی صورت میں بھی نکلا۔ اِس کی بری وجہ پرویز کلیم سٹوڈیو مالکان کے غلط فیصلوں کو بھی قرار دیتے ہیں۔ سٹوڈیوز کی اہمیت اِس لیے ختم ہوئی کیونکہ نہ تو انھوں نے جدید ٹیکنالوجی کو اپنایا اور نہ ہی اپنے کام کا دائرہ کار وسیع کیا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم لوگ تبدیلی کو ذہنی طور پر قبول کرنے کو تیار نہیں تھے۔ لیکن آج سب کو ماننا پڑا ہے۔ موجودہ دور میں اکثر فلمیں حقیقی لوکیشنز پر فلمائی جاتی ہیں لہذا اب بڑے سٹوڈیوز کی ضرورت نہیں رہی۔ ایک دہائی قبل فلم نیگیٹو پر عکسبند کی جاتی تھی جسے سٹوڈیوز میں قائم لیب میں ڈیویلپ کیا جاتا تھا۔ فلم کے ڈیجیٹل پر چلے جانے کے بعد یہ سلسلہ بھی ختم ہوگیا۔’
ناقدین کے مطابق ایک زمانے میں لاہور کو پاکستانی فلم انڈسٹری کا گڑھ مانا جاتا تھا لیکن اب اکثر مقامی فلمیں کراچی میں تیار ہو رہی ہیں۔ اِس تبدیلی نے دونوں شہروں میں کام کرنے والے فلمسازوں کے درمیان مقابلے کو بھی فروغ دیا ہے تاہم پرویز کلیم نے شکوہ کیا کہ کراچی کے فلمساز لاہور کی فلم انڈسٹری کو ’انڈسٹری ہی نہیں مانتے۔کراچی کے نوجوان فلمساز ہمارے جونیئر ہیں اور بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ یہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ اب پڑھے لکھے لوگ بھی فلم انڈسٹری میں آ رہے ہیں لیکن کراچی میں جو فلم بنائی جا رہی ہے وہ ٹی وی ڈرامے سے متاثر ہے۔ اِن فلموں میں سکرین پلے کا بھی فقدان ہے اور ممبئی میں بننے والی فلموں کی چھاپ تو بہت ہی واضح ہے۔ ناقدین کے مطابق کراچی میں بننے والی اکثر فلموں کو کارپوریٹ سیکٹر سپانسرشپ یعنی مالی معاونت کی مد میں حمایت کرتا ہے اور یہ وہ سہولت ہے جو اُن جیسے پروڈیوسرز کو حاصل نہیں ہے لیکن ہدایت کار پرویز کلیم کے خیال میں صرف بڑا بجٹ ہی اچھی فلم کی ضمانت نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بڑی عجیب سی بات ہے کہ فلم کو بجٹ سے ناپا تولا جا رہا ہے۔ میرے خیال میں تو فلم کو خیال سے ناپا تولا جانا چاہیے۔ یہ ایک تخلیقی اور کری ایٹیو کام ہے۔ اگر آپ نے ‘مغلِ اعظم’ تخلیق کرنی ہے تو یقیناً بڑا بجٹ درکار ہوگا لیکن اگر کسی سماجی موضوع پر کوئی فلم بنانی ہے تو وہ کم بجٹ میں بھی بن سکتی ہے۔ لالی وڈ فلم سازوں کو ایک شکوہ یہ بھی ہے کہ بڑے شہروں میں قائم جدید ملٹی پلیکس سنیما گھر اُن کی بنائی ہوئی فلموں کی نمائش نہیں کرتے حالانکہ موجودہ زمانے میں فلموں کی اصل آمدنی انھی ملٹی پلیکسز سے حاصل ہوتی ہے۔ تاہم فلم ناقدین کے مطابق فلم جو بھی ہو اُس کی آخری منزل سنیما ہال ہی ہوتا ہے۔ اِن فلموں کو ملٹی پلیکس شائقین تک رسائی نہ ملنے کی وجہ یہ ہے کہ ملٹی پلیکس مالکان صرف اُن فلموں کو نمائش کے لیے منتخب کرتے ہیں جو آمدنی کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ یہ فلمیں اُس معیار کی نہیں ہوتیں کہ بہت زیادہ پیسہ کما سکیں۔ تاہم فلم ناقدین اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ آج کی نسل فلموں میں گنڈاسا اور بے جا مار دھاڑ نہیں دیکھنا چاہتی۔ نئے زمانے میں صرف نئے خیالات اور نئی تکنیک کی جگہ ہے اس لئے پاکستانی فلم انڈسٹری کی بحالی کیلئے پرانی روایات سے کنارہ کشی اختیار کرنا ہو گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button