لاہور کے معروف شاپنگ سینٹر میں آتشزدگی مشکوک قرار

لاہور کے علاقے گلبرگ میں واقع پیس شاپنگ سینٹر میں ہونے والی خوفناک آتشزدگی مشکوک قرار دی جا رہی ہے اور تفتیش کار اس کے اصل محرکات جاننے کی کوشش کر رہے ہیں، بتایا جا رہا ہے کہ آگ شارٹ سرکٹ ہونے سے نہیں لگی کیونکہ رات کے وقت شاپنگ سینٹر کا مین الیکٹریکل سوئچ آف کر دیا جاتا ہے۔
آتشزدگی کی اطلاع کے بعد ریسکیو اہلکار جلد ہی موقع پر پہنچ گئے تھے اور انھوں نے آگ بجھانے کا کام شروع کر دیا لیکن آگ کو پھیلنے سے نہ روکا جا سکا، چار منزلہ شاپنگ سینٹر کی عمارت اس طرح بنی تھی کہ اس کے اندرونی حصوں تک فائر فائٹروں کے لیے رسائی آسان نہیں تھی۔
پیر کے روز دن ڈھلنے تک فائر فائٹر عمارت کو ٹھنڈا کرنے کی کارروائیوں میں مصروف تھے جبکہ اس کے عقبی حصے سے مسلسل دھواں اُٹھ رہا تھا، عمارت میں موجود لکڑی، پلاسٹک، ربڑ اور کپڑے کے ذخیرے نے ایندھن کا کام کیا، اس کاروباری مرکز میں اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔ عمارت کی چار منزلوں میں ہر منزل پر اربوں روپے مالیت کی دکانیں اور کاروبار تھے۔
ریسکیو اہلکاروں نے بتایا کہ ان کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق عمارت کے اندر آگ لگنے کی صورت میں ہنگامی راستے بند تھے، سموک ڈیٹیکٹرز کام نہیں کر رہے تھے اور آگ بجھانے کے لیے پانی کا نظام بھی کام نہیں کر رہا تھا۔
تاہم باضابطہ طور پر پنجاب ریسکیو کے حکام کی جانب سے ایسی کوئی رپورٹ تاحال جاری نہیں کی گئی۔ پنجاب کے وزیرِاعلٰی عثمان بزدار نے ضلعی انتظامیہ کو واقعے کی مکمل چھان بین کرنے کے بعد تفصیلی رپورٹ جمع کروانے کی ہدایت کی ہے۔
آگ پر قابو پانے کے بعد عمارت کو ضلعی انتظامیہ نے بند کر دیا تھا اور اس کو اس وقت تک دوبارہ نہیں کھولا جائے گا جب تک اسے ہر اعتبار سے معائنہ کیے جانے کے بعد محفوظ قرار نہیں دے دیا جاتا، پولیس اور ریسکیو کے اہلکار اندر جا کر یہ اندازہ لگانے کی کوشش کریں گے کہ آگ کہاں سے اور کیسے شروع ہوئی۔
کمشنر لاہور کے مطابق عمارت کے ٹھنڈے کیے جانے کے بعد پولیس اور ریسکیو کے اہلکار اندر جا کر یہ اندازہ لگانے کی کوشش کریں گے کہ آگ کہاں سے اور کیسے شروع ہوئی، تحقیقات کے دوران ہی یہ بھی اندازہ لگایا جائے گا کہ عمارت میں کل کتنی دکانوں کو نقصان پہنچا اور اس کی نوعیت کیا تھی۔
ماضی میں پیس ہی میں لگنے والی آگ کے بارے میں بھی تحقیقات میں یہی کہا گیا تھا کہ آگ لگنے کی وجہ بچلی کا شارٹ سرکٹ تھا، حال ہی میں لاہور کے حفیظ سینٹر میں لگنے والی آگ کے حوالے سے بھی یہی وجہ ظاہر کی جا رہی ہے۔

Back to top button