لتا منگیشکر شادیوں میں پرفارم کیوں نہیں کرتی تھیں؟

لاکھوں مداحوں کے دلوں پر راج کرنیوالی آنجہانی بھارتی گلوکارہ لتا کے نام سے کون واقف نہیں، بلبل ہند کہلائی جانے والی گلوکارہ نے اپنی جادوئی آواز سے ہمیشہ مداحوں کے دلوں پر راج کیا، گلوکارہ اپنے فیصلے میں اٹل اور کام میں اپنی مثال آپ تھیں۔ لتا منگیشکر کی بڑٰی بہن آشا بھوسلے نے انکشاف کیا ہے کہ انکی بڑی بہن نے کروڑوں ڈالرز کے عوض بھی شادیوں میں گانے سے ہمیشہ انکار کیا تھا، لتا منگیشکر 6 فروری 2022 کو 92 برس کی عمر میں چل بسی تھیں۔
لتا منگیشکر کی یاد میں ان کے خاندان اور دیگر اداروں کی جانب سے کرائے گئے پہلے ’دیناناتھ لتا منگیشکر‘ ایوارڈ کی حال ہی میں ایک تقریب منعقد کی گئی، جہاں آشا بھوسلے نے اپنی بڑی بہن سے متعلق انکشافات کیے۔ لتا کی یاد میں منعقد تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آشا بھوسلے نے بتایا کہ ان کی بڑی بہن بیماری میں بھی کام کرنے کو ترجیح دیتی تھیں اور ایک مرتبہ انہوں نے 104 بخار میں بھی گیت ریکارڈ کروائے۔آشا کے مطابق بچپن میں لتا منگیشکر کے کہنے پر والدین کے پاؤں دھو کر انہیں پانی بھی پلایا تھا، اور اسی وجہ سے دونوں بہنوں کو کامیابی ملی۔
آشا بھوسلے نے انکشاف کیا کہ بیرون ملک رہنے والے ایک بھارتی شخص نے انہیں اور لتا منگیشکر کو شادی میں پرفارمنس کی دعوت دی اور انہیں لاکھوں ڈالرز کے ٹکٹ بھجوائے۔ آشا کے مطابق اس شخص کی خواہش تھی کہ لتا اور آشا بھوسلے ان کی شادی کی تقریب میں گیت گائیں مگر ان کی پیش کش مسترد کر دی تھی، آشا کے مطابق لتا منگیشکر نے دعوت دینے والے شخص کو فون کر کے کہا کہ اگر وہ انہیں گانے کے لیے 10 کروڑ ڈالرز بھی دیں گے، تب بھی وہ شادی میں پرفارمنس نہیں کریں گی، گلوکارہ کا کہنا تھا کہ ان کی بڑی بہن نے دعوت دینے والے شخص کو دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم لوگ شادیوں میں گیت نہیں گاتے۔
خیال رہے کہ آشا بھوسلے کا شمار بھی بھارت کی معروف ترین گلوکاراؤں میں ہوتا ہے، لتا کے بعد انہیں ہی لیجنڈری گلوکارہ مانا جاتا ہے، وہ لتا کی چھوٹی بہن ہیں، ریاست مدھیا پردیش کے شہر اندور میں 28 ستمبر 1929 کو پیدا ہونے والی لتا منگیشکر اپنے 5 بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں۔ لتا نے 1942 میں اپنے والد کی وفات کے بعد 13 برس کی عمر میں گائیکی کا آغاز کیا اور بھارت میں بولی جانے والی متعدد زبانوں میں تقریباً 30 ہزار گانے گائے، لتا منگیشکر کو بھارت کے سب سے بڑے سول ایوارڈز بھارت رتنا، پدما ویبھوشن اور پدما بھوش کے علاوہ دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔
لتا منگیشکر کی زبردست شہرت کے باعث حکومت کی جانب جنوری 1963 میں ہندوستان کے یوم جمہوریہ کی تقریبات میں 1962 کی ہند-چین جنگ میں مارے گئے فوجیوں کے لیے حب الوطنی پر مبنی خراج عقیدت گانے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لتا منگیشکر کے گائے ہوئے گیت ‘اے میرے وطن کے لوگوں’ سن کر پنڈت جواہر لعل نہرو کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔
