لندن برج حملے میں کب، کیا اور کیسے ہوا؟

مرکزی لندن میں واقع لندن برج پر چاقو کے وار کرکے کئی افراد کو زخمی کرنے کے بعد پولیس کی گولی سے ہلاک ہو نے والے حملہ آور کی شناخت عثمان خان کے نام سے ہوئی ہے جو کہ دہشت گردی کے جرم میں جیل کاٹ چکا تھا۔
لندن برج پر ہونے والے اس حملے میں اب تک دو افراد ہلاک اور تین زخمی ہو چکے ہیں۔ پولیس کے مطابق حملہ آور کا نشانہ بننے والے دو عام شہری بھی ہلاک ہوگئے ہیں۔ 28 سالہ حملہ آور عثمان حملے کے وقت جیل سے باہر رہ رہے تھے۔انہیں ایک پولیس افسر نے اس وقت گولی ماری جب ایک عام شہری نے انہیں قابو کیا ہوا تھا۔
میٹ پولیس کمشنر کریسیڈا ڈک نے پریس کانفرنس سے خطاب میں بتایا کہ جمعے کو حملے کا آغاز فش مونگرز ہال سے ہوا۔ یہ برج کے شمالی سرے پر واقع ہے۔ یہاں قیدیوں کی بحالی کے سلسلے میں کیمبرج یونیورسٹی کی کانفرنس جاری تھی۔
اخباری رپوت کے مطابق مشتبہ شخص اس کانفرنس میں شرکت کر رہا تھا۔ عثمان کو جیل سے ایک ماہ قبل اس شرط پر رہائی ملی تھی کہ وہ الیکٹرانک ٹیگ کو پہنے رکھیں گے تاکہ ان کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔ اس تقریب میں درجنوں افراد یونیورسٹی کے طلبا اور سابق قیدی موجود تھے۔
کریسیڈا ڈک کہتی ہیں کہ پولیس نے ابتدائی کال موصول ہونے کے پانچ منٹٹ کے اندر مشتبہ حملہ آور کا مقابلہ کیا جس کے بارے میں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ اس کے پاس نقلی دھماکہ خیز مواد ہے۔
اس واقعے کے چند گھنٹے کے بعد ہالینڈ کے شہر ہیگ میں بھی مقامی پولیس کے مطابق ایک مصروف ڈیپارٹمنٹ سٹور میں ایک شخص نے چاقو سے حملہ کر کے کم سے کم تین افراد کو زخمی کر دیا۔پولیس کے مطابق حملہ آور 40 سے 50 سال کی عمر کا شخص تھا جس کی تلاش جاری ہے۔
یاد رہے کہ لندن برج 3 جون 2017 کو بھی ایک حملے کا نشانہ بنا تھا جس میں آٹھ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔ برطانیہ کی انسداد دہشتگردی پولیس کے سربراہ نیل باسو کا کہنا ہے کہ پولیس حملے کے محرکات جاننے کی کوشش کر رہی اور اب تک کسی امکان کو مسترد نہیں کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کو پولیس کو دن کے دو بجے سے کچھ ہی دیر پہلے لندن برج پر چاقو زنی کی اطلاع ملی۔ سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ کئی افراد ایک شخص کو زمین پر گرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ سوٹ اور جیکٹ میں ملبوس ایک شخص کو بڑے چاقو سے لیس حملہ آور سے دور بھاگتے دیکھا جاسکتا ہے۔ پھر لوگ منتشر ہو جاتے ہیں اور حملہ آور زمین پر پڑا ہوا نظر آتا ہے جیسے اسے پولیس نے گولی مار دی ہو۔ پولیس کے مطابق اردگرد کے علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے اور پولیس اہلکار تلاشی میں مصروف ہیں تاکہ کسی ممکنہ خطرے کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔ پولیس کے مطابق گھیرا زیادہ عرصے تک جاری رہ سکتا ہے۔ مسٹر باسو کا کہنا ہے کہ پولیس کے اضافی اہلکار شہر میں گشت کریں گے۔
وزیراعظم بورس جانسن نے کہا کہ ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کےلیے موجود سروسز اور وہ شہری جنہوں نے اس صورت حال میں مداخلت کی ہمارے ملک کی بہترین ترجمانی کرتے ہیں۔ یہ ملک اس قسم کے حملوں سے کبھی بھی نہ ڈرے گا یا بٹے گا یا خوفزدہ ہوگا اور ہماری اقدار برطانوی اقدار غالب رہیں گی۔
لندن کے میئر صادق خان نے ان شہریوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے خطرے میں جا کر دلیری کا مظاہرہ کیا اور جنہیں خبر نہیں تھی کہ آگے انہیں کس کا سامنا کرنا ہے۔
پولیس کے دفتر کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ان کی جانب سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ لندن برج سٹیشن اور ٹیوب سروس کو دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ حملے کے بعد متعلقہ حکام نے اسے بند کیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ اس دوران ٹرین سروس کے اوقات میں تعطل، منسوحی یا تبدیلی ہوسکتی ہے۔
ایک عینی شاہدین اماندہ ہنٹر جو کہ اس وقت لندن برج پر ایک بس میں سوار تھیں نے بتایا کہ ایک دم وہ رکی اور وہاں کچھ ہنگامہ تھا۔ میں نے کھڑکی سے باہر دیکھا اور مجھے بس یہ نظر آیا کہ تین پولیس افسر ایک مرد کی طرف جا رہے تھے۔
وہ کہتی ہیں کہ ایسا لگتا تھا کہ اس کے ہاتھ میں کچھ ہے۔ میں 100 فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتی لیکن پھر ایک پولیس افسر نے اسے گولی مار دی۔
بس ڈرائیور مصطفیٰ صالح جن کی عمر 62 برس ہے۔ بروگ ہائی سٹریٹ سے لندن برج کی جانب سفر کررہے تھے۔ انہوں نے دیکھا کہ ایمرجنسی سروس کی گاڑیوں اور پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ایک پولیس افسر میری جانب آیا اور کہا اپنے انجن کو بند کرو، باہر نکلو اور بھاگو میں نے اوپر دیکھا میں وہاں لوگوں کا ہجوم دیکھ سکتا تھا وہ میری جانب بڑھ رہے تھے۔
ایک خاتون رو رہی تھی۔ میں بوگروگ اسٹریٹ ہائی اسٹریٹ کی جانب واپس دوڑا۔ یہ واقعی ہی بہت خوفزدہ کرنے والا تھا اور ہم جانتے نہیں تھے کہ ہو کیا رہا ہے۔
خیال رہے کہ تین جون 2017 کو بھی لندن برج پر ایک اور حملہ ہوا تھا اس میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے اور بہت سے زخمی بھی ہوئے تھے۔
