لوگ شرح سود اور ایکسچینج ریٹ پر بغیر پڑھے تبصرہ کرتے ہیں

گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے سی ای او سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لوگ شرح سود اور ایکسچینج ریٹ پر بغیر پڑھے تبصرہ کرتے ہیں، ہماری ویب سائٹ پر مانیٹری پالیسی اسٹیٹمنٹ ہے جسے پڑھ لینا چاہیے۔ انہوں نے ملک کی موجودہ معاشی کی صورت حال پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہماری برآمدات کا تناسب بہت کم ہے اور اس طرح کوئی بھی ملک نہیں چل سکتا۔
انہوں نے کہا کہ کچھ عرصے پہلے ہمارے معاشی اشاریوں کی صورت حال اچھی نہیں تھی، ایک سال پہلے کی صورتحال اور آج میں بہت فرق آچکا ہے، اب ایکسچینج ریٹ مستحکم اور زرمبادلہ ذخائر تسلی بخش سطح پر ہیں۔
گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ سال پہلے جو لوگ ڈیفالٹ کی باتیں کر رہے تھے اب وہ خاموش ہیں، معاشی بہتری قلیل مدتی نہیں بلکہ طویل مدتی عمل ہے، ہمیں پائیدار ترقی کے لیے اپنا مزاج بدلنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو یہ بات جاننا ہوتی ہے کہ ایکسچینج ریٹ اور پالیسی ریٹ کیا ہوگا، دراصل پالیسی ریٹ کا تعین اسٹیٹ بینک کی کمیٹی کرتی ہے جس میں کوئی حکومتی رکن نہیں ہوتا۔
دوران خطاب انہوں نے بتایا کہ ملک میں مہنگائی کو دیکھتے ہوئے پالیسی ریٹ کا تعین کیا جاتا ہے، ہمارا وعدہ ہے کہ ایکسچینج ریٹ کا تعین مارکیٹ کرے گی۔
برآمدات کی شرح سے متعلق گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ہماری برآمدات کا جی ڈی پی سے تناسب 10 فیصد سے بھی کم ہے، کئی غریب ترین ممالک کی یہ شرح پاکستان سے بہتر ہے اور کوئی بھی ملک اس شرح سے نہیں چل سکتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button