خیبر پختونخواہ میں 20 برسوں کے دوران 76 ہزار سے زائد لوگ مارے گئے

پچھلی دو دہائیوں کے دوران خیبر پختون خواہ میں دہشت گردی کے واقعات میں 76 ہزار سے زیادہ لوگ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔ خیبر پختون خواہ اسمبلی میں پیش کردہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پچھلی دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں خیبر پختون خواہ میں ایک ہزار 375 قبائلی عمائدین اور 3 ہزار علما سمیت 76 ہزار 584 افراد کی اموات ہوئیں یہ لوگ بم دھماکوں اور ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے۔
اس عرصے میں کم از کم 6 ہزار 700 افراد ’لاپتا‘ بھی ہوئے جن کا ابھی تک کوئی پتہ نہیں لگ سکا۔ تاہم زیادہ افسوس ناک بات یہ ہے کہ حالیہ برسوں میں دہشت گردی کے واقعات میں سب سے زیادہ ہلاکتیں فوجی جوانوں کی ہوئی ہیں جو اس وقت تحریک طالبان پاکستان کے نشانے پر ہیں۔
ایسے میں خیبر پختونخوا کے عوام میں بڑھتی ہوئی مایوسی واضح ہے۔ اس وقت صوبے کے عوام ایک اور فوجی اپریشن شروع ہونے کی افواہوں سے پریشان ہیں کیوں کہ جب بھی ایسا اپریشن شروع ہوتا ہے تو لاکھوں لوگوں کو ہجرت کرنا پڑتی ہے اور اپنے گھر چھوڑنے پڑتے ہیں۔
یاد رہے کہ خیبر پختون خواہ میں پچھلے دس برس سے عمران خان کی تحریک انصاف حکمران ہے جو تحریک طالبان پاکستان کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے عمران کے پچھلے دور میں آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل فیض حمید کے اصرار پر حکومت نے پاکستان چھوڑ کر افغانستان چلے جانے والے ہزاروں عسکریت پسندوں کو اپنے خاندانوں سمیت واپس آنے کی اجازت دی تھی۔
عمران خان کو سیاسی محاذ پر ایک اور بڑی شکست کا سامنا
لیکن افسوس کہ ریاست مخالف دہشت گردی کے زیادہ تر واقعات میں وہی طالبان عناصر ملوث ہیں جنہیں پچھلے عمران دور میں واپس لا کر بسایا گیا تھا۔ سب سے زیادہ تشویش ناک امر ریاست اور سکیورٹی فورسز پر عوام کا بڑھتا ہوا عدم اعتماد ہے جس کا اظہار حال ہی میں ضلع خیبر میں منعقد ہونے والے پشتون جرگے میں منظور ہونے والی قراردادوں میں کیا گیا۔
اس جرگے میں عسکریت پسندی کا مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ پشتون تحفظ موومنٹ کی قیادت نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ ان سابقہ قبائلی اضلاع سے فوری طور پر سکیورٹی فورسز کا انخلا کیا جائے جو کہ ماضی میں دہشت گردوں کا مرکز رہے ہیں۔
سینیئر صحافی اور تجزیہ کار زاہد حسین کا کہنا ہے کہ یقینی طور پر یہ مطالبہ حکومت اور فوجی اسٹیبلشمینٹ کے لیے خطرناک اور پریشان کن ہے چونکہ ان علاقوں میں سکیورٹی فورسز کو تحریک طالبان کے دہشت گرد عناصر کا خاتمہ کرنے کےلیے تعینات کیا گیا تھا۔
ایسے میں اگر پختون جرگہ فوجی دستوں کے انخلا کا مطالبہ کرتا ہے تو یہ عوام کا سکیورٹی فورسز پر عدم اعتماد ہے جس کی وجوہات جاننے کی ضرورت ہے۔
زاہد حسین کا کہنا ہے کہ اس وقت خیبر پختون خواہ کے عوام میں وسیع پیمانے پر یہ سوچ پائی جاتی ہے کہ ریاست پاکستان میں طالبان کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کا عزم موجود نہیں۔ ان کا کہنا یے کہ عمران دور حکومت میں افغان طالبان حکومت کے دباؤ پر تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کرنے اور ہزاروں عسکریت پسندوں کو وطن واپس جانے کی اجازت دینے کے تباہ کن فیصلے سے بھی فوج پر عوامی عدم اعتماد میں اضافہ ہوا۔
اس ناقص پالیسی کی وجہ سے ٹی ٹی پی کی کارروائیوں میں خئی گنا اضافہ ہوا۔ تحریک طالبان کے دہشت گردوں نے اس مرتبہ اپنی حکمت عملی تبدیل کی اور عوامی مقامات کو نشانہ بنانے کے بجائے وہ سکیورٹی فورسز اور پولیس پر حملے کررہے ہیں۔
گزشتہ سالوں میں ان دہشت گردانہ حملوں میں سیکڑوں سکیورٹی اہلکار اپنی جانیں گنواچکے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود عوامی عدم اعتماد اتنا زیادہ ہے کہ اسے ختم کرنا مشکل نظر آتا ہے۔
سیاسی تجزیہ کار اب بھی یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے واقعی ’گُڈ طالبان‘ قرار دیے جانے والے انتہا پسندوں کے تحفظ کی اپنی پرانی پالیسی ترک کر دی ہے۔
اس بات کو بھی زیادہ وقت نہیں گزرا جب ضلع بنوں میں خیبر پختون خواہ پولیس نے سکیورٹی فورسز کی ناکامی کے خلاف ہڑتال کی تھی۔ اس حوالے سے بھی سوالیہ نشان موجود ہے کہ کیا ریاست کے پاس عسکریت پسندی کے نئے چیلنج سے نمٹنے کے لیے واضح اور جامع حکمت عملی موجود ہے۔
اس کے علاوہ ’انٹیلی جنس کی بنیاد پر طالبان کے خلاف کیے گے آپریشنز‘ میں سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی بڑی تعداد میں شہادت بھی باعث تشویش ہے۔ ایسے میں یہ تاثر تقویت پکڑ رہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف مؤثر مہم چلانے کے دعووں کے برعکس خیبر پختون خواہ میں عسکریت پسندی دوبارہ سے جڑیں پکڑ رہی ہے۔ ایسے میں سکیورٹی فورسز پر عوامی اعتماد بحال کیے بغیر دہشت گردی کے ناسور کا مقابلہ کسی صورت نہیں کیا جاسکتا۔
