لڑکے اور لڑکی کی ویڈیو بنانے والے کا ایک اور جھوٹ پکڑا گیا

https://youtu.be/EqRmXv0pp9I
اسلام آباد میں ایک لڑکے اور لڑکی کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور ان کی قابل اعتراض ویڈیو بنا کے وائرل کرنے کے الزام میں گرفتار پانچ ملزمان کا مذید ریمانڈ دے دیا گیا ہے اور ملزمان بھتے کی شکل میں متاثرہ لڑکے اور لڑکی سے بطور بھتہ وصول کی جانے والی گیارہ لاکھ روپے کی رقم واپس دینے پر رضامند ہو گئے ہیں۔
کیس کے تفتیشی پولیس افسر کے بقول ملزمان نے یہ رقم متاثرہ جوڑے کو ڈرا دھمکا کر حاصل کی تھی کہ اگر انھوں نے پیسے نہ دیے تو ان کی یہ ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل کر دی جائے گی۔ ملزمان نے زیادتی یہ کی کے جوڑے سے 11 لاکھ روپے بھتہ بھی وصول کرلیا اور بعد ازاں ان کی ویڈیوز بھی وائرل کردی دیں۔ 17 جولائی کے روز اس مقدمے کے مرکزی ملزم عثمان مرزا سمیت پانچ ملزمان کو سخت سکیورٹی میں جوڈیشل مجسٹریٹ وقار گوندل کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ سماعت کے آغاز میں ہی عدالت نے تفتیشی افسر سے پوچھا کہ اس مقدمے کی تفتیش میں کیا پیش رفت ہوئی ہے۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے نہ صرف متاثرہ لڑکے اور لڑکی کو ڈرانے دھمکانے اور ان کی ویڈیو بنانے کا اعتراف کیا ہے بلکہ جو رقم بلیک میلنگ اور بھتے کی شکل میں حاصل کی گئی تھی وہ واپس کرنے پر رضامندی بھی ظاہر کی ہے۔
عثمان مرزا نے عدالت کو بتایا کہ بے شک ان کا موبائل چیک کر لیں کہ اس واقعے کے بعد ان کا متاثرہ جوڑے سے رابطہ نہیں ہوا اور وہ بھتہ وصولی میں شامل نہیں تھا۔عثمان مرزا کا کہنا تھا کہ وہ ایک صاحب حیثیت آدمی ہے اور اسے اتنے کم پیسوں کی کیا ضرورت ہے۔ تاہم عدالت نے اس کی سرزنش کرتے ہوئے یاد دلوایا کہ اس نے لڑکے اور لڑکی کے ساتھ جو غیر انسانی سلوک کیا ہے اس کی اسے سخت ترین سزا ملنی چاہیے۔ جج کا کہنا تھا کہ پیسے تو آنی جانی چیز ہے لیکن جب کسی کی عزت اچھالی جائے تو وہ واپس نہیں آسکتی۔
اس موقع پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ عثمان جھوٹ بول رہا ہے کیونکہ وہ متاثرہ لڑکے کے گھر اپنا ایک بندہ بھیجتا تھا جو وہاں سے مختلف اوقات میں پیسے لے کر آتا تھا اور پھر ملزمان یہ رقم آپس میں تقسیم کر لیتے تھے۔ تفتیشی افسر نے کہا کہ پولیس کو اس شخص کی گرفتاری مطلوب ہے جس کو متاثرہ لڑکے کے گھر پیسے لینے کے لیے بھیجا جاتا تھا۔ عدالت نے ملزم عثمان مرزا سے استفسار کیا کہ متاثرہ جوڑے کی ویڈیو کون بنا رہا تھا؟ اس پر عثمان مرزا نے عدالت کو بتایا کہ جوڑے کی برہنہ ویڈیو ریحان نامی لڑکا بناتا رہا جبکہ عمر بلال دروازے پر پہرا دیتا رہا۔اس دوران ملزمان فرحان اور حافظ عطا الرحمن کے وکیل نے کہا کہ ان کے موکلوں کا ابھی تک دس دن کا جسمانی ریمانڈ حاصل کیا جا چکا ہے جس میں ابھی تک ان کا کوئی کردار سامنے نہیں آیا۔ ملزمان کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ تفتیشی افسر سے پوچھا جائے کہ اس میں فرحان کا کیا کردار ہے۔
عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ اس معاملے میں ملزم فرحان کا کیا کردار ہے جس پر تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان فرحان، عطا الرحمن اور ادارس قیوم بٹ نے متاثرہ لڑکی کے زبردستی کپڑے اتروائے۔ ملزم فرحان کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ پولیس کے پاس جو ویڈیو ہے اس میں ان کے مؤکل کا کوئی کردار نہیں۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے کے ملزمان متاثرہ جوڑے کو برہنہ کر کے ایک دوسرے سے جنسی زیادتی کروانے کی کوشش کرتے رہے۔
ملزم فرحان کے وکیل نے کہا کہ جس طرح تفتیشی افسر کہہ رہے ہیں اگر ان کے مؤکل کا کوئی کردار ہے تو یہ ویڈیو کمرہ عدالت میں چلائی جائے، پھر بے شک ان کے مؤکل کا جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ کیا انھیں تمام ملزمان کا مزید جسمانی ریمانڈ چاہیے جس پر تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ آڈیو اور ویڈیو کی فرانزک رپورٹ کی تصدیق ملزمان کی موجودگی میں ہونی ہے اس لیے تمام ملزمان کا مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔ متاثرہ جوڑے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ دس دن میں جتنے انکشافات ہوئے پولیس نے اس کا سراغ لگایا۔ انھوں نے کہا کہ تمام ملزمان تسلیم کر رہے ہیں کہ وقوعہ کے وقت وہ موقع پر موجود تھے۔انھوں نے کہا کہ اس مقدمے کی دفعات میں جوں جوں اضافہ ہوتا گیا تفتیش کی نوعیت تبدیل ہوتی گئی۔ انھوں نے کہا کہ اس مقدمے کی شفاف تحقیقات کے لیے ملزمان کا مزید جسمانی ریمانڈ دیا جائے۔ملزمان کے وکلا نے عدالت سے استدعا کی کہ ملزمان کے خاندانوں کو ان سے ملنے کی اجازت دی جائے۔ملزم عثمان مرزا نے عدالت کو بتایا کہ وہ گذزشتہ دس روز سے نہیں نہایا اور نہ ہی اسے کپڑے تبدیل کرنے کی اجازت دی جا رہی ہے۔ عدالت نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں مزید تین دن کی توسیع کرتے ہوئے پولیس کو ملزمان کو دوبارہ 20 جولائی کو پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

Back to top button