لکس اسٹائل ایوارڈز کی ساکھ خاک میں کیوں مل گئی؟

شوبز سے وابستہ شخصیات نے اقربا پروری کی بنیاد پر ’لکس اسٹائل ایوارڈز ‘ میں چند مخصوص اداکاروں کو نامزد کرنے پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے پیاروں کو نوازنے کے فیصلے سے لکس سٹائل ایوارڈز کی ساکھ خاک میں مل گئی۔
یاد رہے کہ حال ہی میں ’لکس اسٹائل ایوارڈز‘ 2021 کی نامزدگیوں کا اعلان کیا گیا تھا، جس میں میوزک، فیشن و ٹیلی وژن کی کیٹیگریز میں متعدد ڈراموں، ماڈلز، اداکاروں و گلوکاروں کو شارٹ لسٹ کیا گیا تھا۔
تاہم ان میں کچھ مشہور ڈراموں کو کسی کیٹیگری کے لیے نامزد نہیں کیا گیا جبکہ کچھ ڈراموں کے اداکاروں کو بھی ایوارڈز کے لیے شارٹ لسٹ نہیں کیا گیا تھا۔ ان نامزدگیوں پر تنقید کرتے ہوئے
اداکارہ یاسرہ رضوی نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر کھل کر۔لکھا اور طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ ‘کیا لکس بنیادی طور پر ایک بیوٹی سوپ برانڈ ہے اور دیگر کاروباروں کی طرح ان کی توجہ زیادہ سے زیادہ مصنوعات فروخت کرنے اور منافع بنانے پر مرکوز ہے؟’ یاسرہ کا مزید کہنا تھا کہ دیگر کاروباروں کی طرح وہ اپنے مقصد کے لیے فن کا استعمال کرسکتے ہیں لیکن شاید آرٹ کی خدمت کرنا ان کا مقصد نہیں ہے۔
ایک سوشل میڈیا صارف نے اداکار علی عباس کے لکس اسٹائل ایوارڈز میں نامزد نہ ہونے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ‘آپ کو نامزد کیوں نہیں کیا گیا۔ یہ ناانصافی ہے’۔ اس کے جواب میں اداکار نے کہا کہ ‘اس کا جواب تو لکس اسٹائل ایوارڈز کے پاس ہی ہوگا وہ بھی اگر جانتے ہوں کہ میں ایک اداکار ہوں’۔
علاوہ ازیں اداکارہ کبریٰ خان نے ‘الف ‘ میں خود کو نامزد نہ کیے جانے پر مداحوں کے سوالات پر ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ ‘عزت دینے والے صرف اور صرف اللہ ہیں، میں جانتی ہوں کہ آپ میں سے اکثر بہت پریشان ہیں کہ حسنِ جہاں کو لکس اسٹائل ایوارڈ کے لیے نامزد نہیں کیا گیا’۔ کبریٰ خان نے کہا کہ ‘جو لڑائی، محبت اور سپورٹ میں نے گزشتہ 24 گھنٹوں میں دیکھا ہے وہ میرے لیے کسی ٹرافی سے کہیں زیادہ ہے، اگر یہ جیت نہیں ہے تو میں نہیں جانتی کہ کیا ہے’۔ انہوں نے خود کو ایسا فاتح قرار دیا جسے کسی اسٹیج یا تقریب کی ضرورت نہیں ہے۔
تاہم معروف گلوکارہ حدیقہ کیانی، جنہوں نے ‘رقیب سے’ سے اداکاری کے میدان میں قدم رکھا تھا، اپنے ڈرامے کو ایوارڈ کے لیے نامزد نہ کیے جانے پر تنقید نہیں کی البتہ امید ظاہر کی کہ وہ اگلے سال نامزد ہوسکیں گی۔ حدیقہ کیانی نے کہا کہ ‘ مجھے سکینہ اور رقیب سے کے لیے محبت اور سپورٹ کے بہت سے پیغامات موصول ہوئے ہیں لیکن ایک چیز کی وضاحت کرنے کی ضرورت ہے’۔ انہوں نے کہا کہ ‘رقیب سے اس سال لکس اسٹائل ایوارڈز کے لیے کوالیفائی نہیں کرسکا لیکن ہوسکتا ہے وہ ایوارڈز کی پالیسی کے مطابق اگلے سال نامزدگی کے لیے کوالیفائی کرسکے’۔ حدیقہ کیانی نے لکس اسٹائل ایوارڈز 2021 کے لیے نامزد کی جانے والی شوبز شخصیات کو مبارکباد بھی دی۔
مذکورہ شخصیات سے قبل ایوارڈز کے لیے عوام میں پسند کیے جانے والے اپنے مقبول ڈرامے ’سراب‘ کو ایک بھی نامزدگی نہ ملنے پر سونیا حسین نے انسٹاگرام اسٹوریز میں برہمی کا اظہار کیا تھا۔ سونیا حسین نے اپنی اسٹوری میں مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ وہ اس بات سے افسردہ ہیں کہ ’سراب‘ جیسے ڈرامے کو ایوارڈ کے لیے ایک بھی نامزدگی نہیں ملی۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ شوبز شخصیات نے لکس اسٹائل ایوارڈز کی نامزدگیوں پر تنقید کی ہو، ماضی میں بھی اس کی نامزدگیوں پر اداکار آواز اٹھاتے رہے ہیں۔
