لکھاری اداکار کا محتاج ہوتا ہے

معروف ا داکار محمود اسلم نے ڈرامہ نگارخلیل الرحمان قمر پر تنقید کرتے ہوئے فلم ’’ کاف کنگنا‘‘ کی کاسٹ کا حصہ نہ ہونے بارے میں اہم انکشاف کر دیا۔
ا داکار محمود اسلم نے اپنے حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ خلیل الرحمان قمر نے انہیں فلم میں ان کے کردار کے بارے بتایااس کے بعد انہوں نے اور صباء قمر نے فلم کا 90 فیصد کام کروایا ، عکس بندی کے دوران خلیل الرحمان قمراور صباء قمر کی لڑائی ہوئی اور پھر کام رک گیا پھر دوبارہ کام شروع کیا گیا پھر وہی مسئلہ ہو گیا اور اس کے بعد جب خلیل الرحمان نے دوبارہ کام پر بلایا تواس وقت انہیں فلم’’رانگ نمبر ٹو‘‘ کی عکس بندی کے لیے حیدر آباد جانا تھا کیوں کہ فورا کوئی بھی اداکار تاریخ نہیں دے سکتا ان کی کسی دوسرے کے ساتھ بھی کمٹمنٹس ہوتی ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ‘اس وقت خلیل الرحمٰن نے مجھ سے سوال کیا کہ یار میں نے صبا حمید کی جگہ کسی اور کو کاسٹ کررہا ہوں، مجھے تم سے کوئی گلہ نہیں تم نے میرا بہت ساتھ دیا ہے، لیکن اگر تم اجازت دو تو میں تمہاری جگہ بھی کسی اور کو کاسٹ کرلوں؟ اب میں اس پر کیا جواب دیتا؟ میں نے کہا آپ کی مرضی آپ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں’۔
محمود اسلم کے مطابق ‘اداکار بادشاہ ہوتا ہے، اس کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا، دنیا میں ہر کسی کی جگہ کوئی لے سکتا ہے، لیکن اداکار کی جگہ کوئی نہیں لے سکتا، لکھاری، ہدایت کار سب کی جگہ کوئی دوسرا آجاتا ہے، مثال کے طور پر سلطان راہی کا انتقال ہوا، کوئی دوسرا سلطان راہی نہیں تھا، ان کی فلمیں بند ہوگئیں، کوئی دوسرا ان کی جگہ نہیں لے سکا’۔
انہوں نے کاف کنگنا کی ناکامی پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ ‘دوسری بات یہ ہے کہ لکھاری ہدایت کار اور اداکار کا محتاج ہوتا ہے، لکھاری کے مردہ الفاظ میں ایک اداکار زندگی ڈالتا ہے، اگر سب برابر ہوتے تو کاف کنگنا سپر ہٹ نہ ہوجاتی؟’
نوجوان نسل کے اداکاروں پر اپنی رائے دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ‘کل کے اور آج کے اداکاروں میں بہت فرق ہے، آج کا اداکار پڑھا لکھا زیادہ ہے لیکن محنتی کم ہے، توجہ کم دیتے ہیں، ہم لوگوں نے توجہ زیادہ دی اور سب سے بڑی بات یہ کہ آج احترام بھی کم ہوگیا ہے، نوجوان اداکار اپنے ٹیلنٹ اور دوسرے کے ٹیلنٹ کا احترام نہیں کرتے’۔
