’لیجنڈ آف مولا جٹ‘ کا نوری نت دبلا پتلا کیوں نظر آئے گا


13 اکتوبر کو ریلیز ہونے والی پنجابی فلم ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ میں ولن کا کردار ادا کرنے والا نوری نت کئی دہائیوں پہلے ریلیز ہونے والی اوریجنل فلم مولا جٹ کے نوری نت کے مقابلے میں کافی دبلا پتلا ہے جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس کردار کو حمزہ علی عباسی نے ادا کیا ہے۔ یاد رہے کہ اوریجنل فلم میں ہیرو یعنی مولا جٹ کا کردار سلطان راہی نے ادا کیا تھا جبکہ دی لیجنڈ آف مولا جٹ میں یہ کردار فواد خان نے ادا کیا ہے۔

ہمیشہ سے ہیرو کا کردار کرنے والے حمزہ علی عباسی پہلی مرتبہ کسی فلم میں ولن کا کردار کر رہے ہیں، ان کی پچھلی فلم ’پرواز ہے جنون‘ نے باکس آفس پر کامیابی کے جھنڈے گاڑ دیے تھے۔ ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ میں اپنے کردار نوری نت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئےحمزہ علی عباسی نے بتایا کہ ’نوری نت کا کردار ہی بہت زبردست ہے، اسے کرنا ایک اعزاز کی بات ہے اور پھر ولن کے کردار ہمیشہ ہی سے بہت زیادہ چیلنج والے ہوتے ہیں، جن میں اداکاری دکھانے کا موقع زیادہ ہوتا ہے، اس لیے ولن کا کردار کرنے کا سوچا تھا۔‘ حمزہ علی عباسی نے بتایا کے کپ نوری نت کا کردار ادا کرنے کے لیے انہوں نے وزن بڑھایا تھا مگر اسی زمانے میں ’پرواز ہے جنون‘ کی شوٹنگ بھی ہو رہی تھی، اس لیے انہیں پھر سے وزن کم کرنا پڑا۔ اس لیے فلم میں نوری نت کچھ دبلا پتلا نظر آئے گا۔

2018 کے بعد پہلی مرتبہ کسی فلم میں نظر آنے والے حمزہ عباسی نے وضاحت کی کہ پوسٹر میں ان کے پاس دو کلہاڑیاں ہیں، گنڈاسہ مولا جٹ کا ہتھیار ہے، اصلی ہتھیار بھاری تھے، وہ بھی استعمال کیے، لیکن ایکشن سین میں وہ ہتھیار استعمال ہوئے جو ذرا ہلکے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ شوٹنگ کے دوران دیگر اداکاروں کو پنجابی زبا کی ٹریننگ بھی دے رہے تھے۔ بقول حمزہ پنجابی میری پہلی زبان ہے، میں گھر میں والدہ کے ساتھ پنجابی ہی بولتا ہوں، اس لیے مجھے مکالمے ادا کرنے میں کوئی دشواری نہیں تھی۔

یاد رہے کہ مولا جٹ پنجابی زبان میں ہے اور اسے صرف ایک ہی زبان میں ڈب کیا جارہا ہے، اور وہ ہے چینی۔ اس بارے میں حمزہ علی عباسی نے بتایا کہ وہ انتظار کر رہے ہیں کہ فلم چینی زبان میں کیسی لگے گی کیونکہ وہ ’فرینڈز‘ کو پنجابی زبان میں باقاعدگی سے دیکھتے تھے۔حمزہ عباسی کے مطابق اس فلم میں نوری نت کا کردار کثیرالجہت ہے، انہوں نے پچھلی مولا جٹ دیکھی ہے، اس میں مصطفیٰ قریشی کے نوری نت پر ہی اس کردار کی بنیاد رکھی گئی ہے، لیکن اسے وہاں سے آگے بڑھایا گیا ہے۔

جب پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے مولا جٹ یعنی ہیرو کا کردار کرنے کے بارے میں بھی سوچا تھا تو حمزہ نے بتایا کہ ’نوری نت کا کردار اس فلم میں ایسے ہے جیسے بیٹ مین کے ساتھ جوکر کا کردار۔ اس لیے جب بلال نے مجھے کہا کہ یہ کردار تم کرلو تو میں نے فوراً حامی بھر لی۔ جہاں تک فواد خان کی بات ہے، اس نے یہ کردار اتنا بہترین طریقے سے ادا کیا ہے کہ اسے کوئی اور کرہی نہیں سکتا تھا، چاہے وہ جسمانی طور پر ہو، مکالمے ہوں یا اداکاری‘۔ حمزہ عباسی نے کہا کہ ’دی لیجنڈ آف مولا جٹ‘ پاکستان میں بین الاثقافتی ہم آہنگی کا نمونہ ہے کہ ایک پنجابی فلم پشتون پروڈیوسر نے بنائی ہے، اس میں ماہرہ خان نے اداکاری کی ہے جسے پنجابی کا ایک لفظ بھی نہیں آتا تھا، حمیمہ ملک کو بھی پنجابی نہیں آتی تھی اسلیے یہ کمال ہے۔

حمزہ کا مزید کہنا تھا کہ وہ ہمایوں سعید کے ساتھ بھی کام کریں گے، وہ انکے بھائیوں کی طرح ہیں۔ تاہم حمزہ کے مطابق وہ اللہ کی متعین کردہ حدود میں رہ کر کام کریں گے، کیونکہ آرٹ حرام نہیں ہے، اس کا غلط استعمال حرام ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں مخصوص دائرے میں رہ کر کام کروں گا، اگر میں اس سے پہلے کبھی دائرے سے باہر نکلا بھی تھا تو اب تو ممکن نہیں کیونکہ مجھے آخرت میں اپنے اللہ کو جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اب میرے لیے جوانی پھر نہیں آنی جیسی فلمیں کرنا مشکل ہیں کیونکہ آخرت کی جواب دہی مجھے کافی زیادہ پریشان کرتی ہے۔

Back to top button