لیڈی ریڈنگ اسپتال میں تیز رفتار اینٹیجین کورونا ٹیسٹ کا آغاز

خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس سے مزید 10 اموات ریکارڈ کی گئیں جبکہ لیڈی ریڈنگ اسپتال نے صوبے میں اینٹیجن ڈیٹیکشن ریپڈ ٹیسٹ (اے جی آر ڈی ٹی) کا آغاز کردیا۔
ان کورونا وائرس کے 10 مریضوں کا مفت ٹیسٹ کیا گیا جس کے 30 منٹ کے اندر نتائج سامنے آگئے جن میں سے دو افغان شہری تھے۔ اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ اسپتال میں مقامی عوام کے علاوہ افغان باشندوں کو بھی کورونا وائرس کی مفت تشخیص اور علاج کی پیش کش کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت دو افغان شہری اسپتال میں داخل ہیں۔ محمد عاصم نے کہا کہ اے جی آر ڈی ٹی نے کورونا وائرس کے مشتبہ مریضوں کی جلد جانچ کرتا ہے جس سے اسپتال مثبت کیسز کو داخل کرنے اور دیگر کو گھر بھیجنے کے قابل ہوگا۔ دریں اثنا صحت عہدیداروں کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا کے اسپتالوں میں کورونا وائرس کے 5 فیصد مریض افغان شہری ہیں جنہوں نے مفت تشخیص اور علاج سے فائدہ اٹھایا ہے۔ انہوں نے ڈان کو بتایا کہ اسپتالوں میں کورونا کے علاج یا معالجے کے بارے میں افغانوں کا کوئی الگ ڈیٹا موجود نہیں ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق صوبے میں 5 فیصد مریض افغانستان سے آئے ہیں کیوں کہ وہاں صحت کی سہولیات کا فقدان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دو سال قبل خیبر پختونخوا حکومت نے مقامی اسپتالوں میں افغان مریضوں کے علاج پر پابندی عائد کردی تھی اور کہا تھا کہ اس مقصد کےلیے کوئی الگ بجٹ نہیں ملا ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ ہدایت کے بعد اسپتالوں نے ایک نئی حکمت عملی اپنائی جس کے تحت مریضوں سے قومی شناختی کارڈ طلب کیے گئے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ افغانوں کو سہولت حاصل نہیں ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کو تقریباً ایک دہائی سے افغان مہاجرین کی صحت کی دیکھ بھال کےلیے بین الاقوامی ڈونرز خصوصاً یو این ایچ سی آر کی طرف سے کوئی مالی امداد نہیں ملی ہے جس کی وجہ سے انہیں دو سال قبل علاج پر پابندی عائد کرنی پڑی۔تاہم ایک عہدیدار نے کہا کہ کورونا وائرس کے آغاز کے بعد سے ہی اسپتالوں میں افغان مریضوں کا علاج کیا جارہا ہے اور ان سے کوئی سوال نہیں پوچھا گیا کیوں کہ یہ جانتے ہیں کہ جنگ زدہ افغانستان میں صحت کی سہولیات کا فقدان ہے۔انہوں نے کہا کہ اب تک ایک لاکھ 25 ہزار ٹیسٹ کیے جاچکے ہیں جب کہ 44 ہزار میں مثبت تجربہ کیا گیا ہے۔ عہدیدار نے یہ کہا کہ کورونا وائرس سے ہونے والی ایک ہزار 600 اموات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں ٹیسٹنگ کی سہولیات کم پیمانے پر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اب تک 3 ہزار صحت رضاکار اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں اور 65 اس سے زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔
