لیگی رہنماؤں کو مریم نواز کی گاڑی پر فائرنگ کا خدشہ

سینئر صحافی ارشد وحید چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ مریم نواز کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی ہے۔انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ بلٹ پروف گاڑی کا شیشہ پتھر لگنے سے نہیں ٹوٹ سکتا ۔اس لئے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کا خدشہ ہے کہ مریم نوازکی گاڑی پہ فائرنگ کی گئی ہے جس سے بلٹ پروف شیشہ ٹوٹا اور مریم نواز کو اس کے بعد وہاں سے محفوظ جگہ کی طرف اسی لئے لیجایا گیا تھا کہ کہیں انہیں کوئی نقصان نہ پہنچ جائے۔
بلٹ پروف گاڑی کا شیشہ پتھر لگنے سے نہیں ٹوٹ سکتا اس لئے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں کا خدشہ ہے کہ @MaryamNSharif کی گاڑی پہ فائرنگ کی گئی ہے جس سے بلٹ پروف شیشہ ٹوٹا اور مریم نواز کو اس کے بعد وہاں سے محفوظ جگہ کی طرف اسی لئے لیجایا گیا تھا کہ کہیں انہیں کوئی نقصان نہ پہنچ جائے
— Arshad Waheed Ch (@arshad_Geo) August 11, 2020
اسی حوالے سے مریم نواز نے بھی اپنے خدشے کا اظہار کیا ہے۔
سب کا یہی کہنا ہے کہ پتھر سے بلٹ پروف کا شیشہ نہیں ٹوٹ سکتا۔ یہ واضح طور پر مجھے سخت نقصان پہنچانے کی کوشش تھی۔ https://t.co/7E2GHJuAfy
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) August 11, 2020
آج ہونے والی ہنگامہ آرائی میں مریم نواز کی گاڑی پر بھی پتھراؤ کیا گیا۔
اس حوالے سے مریم نواز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ میری گاڑی پر حملہ کیا گیا ہے۔اگر میری گاڑی بلٹ پروف نہ ہوتی تو پھر کیا ہوتا؟۔
مریم نواز شریف نے مزید کہا کہ پولیس نے میری گاڑی پر پتھراؤ کر کے شیشہ توڑ دیا ہے۔یہ ایک بلٹ پروف گاڑی ہے جس کا شیشہ ٹوٹ گیا ہے۔نیب کے آفس کے باہر پولیس شیلنگ کر رہی ہے۔جو کارکنان کو منتشر کرنے کی ایک کوشش ہے۔مریم نواز نے کہا کہ اگر آپ مسلم لیگ ن، نواز شریف اور مریم نواز سے اتنا ڈرتے ہیں تو پھر مریم نواز کو بلاتے کیوں ہیں۔جب اتنا خوف ہے تو بلاتے کیوں ہو اور اگر بلاتے ہو تو حوصلہ رکھو۔
خیال رہے کہ نیب نے مریم نواز کو جاتی امراء اراضی کی خریدوفروخت کی تمام تفصیلات کے ساتھ آج 11اگست کو طلب کررکھا تھا۔مریم نواز کے ساتھ ن لیگی کارکنان کا ایک بڑا قافلہ تھا جس کی پولیس سے ہنگامہ آرائی ہوئی۔
