مئی میں کرونا پاکستانیوں کے لیے بہت بھاری ثابت ہو گا

یورپ اور امریکہ میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے حوالے سے تیسرا مہینہ جان لیوا ترین ثابت ہوا ہے چنانچہ اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ مئی کا مہینہ پاکستانیوں کے لیے بھی اموات کے حوالے سے تباہ کن ثابت ہوگا اور مرنے والوں کی تعداد کئی ہزاروں میں چلی جائے گی۔
پاکستانی ڈاکٹرز پہلے ہی مئی کے مہینے کو پاکستان کےلیے خطرناک ترین قرار دے رہے ہیں، جس کی وجہ دنیا کے دیگر ممالک میں اس وباء کے باعث تیسرے مہینے میں ہونے والی بڑی تعداد میں اموات ہیں۔
کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو جانچنے کےلیے طبی ماہرین مختلف مراحل میں تقسیم کرتے ہیں، وہ سب سے پہلے یہ دیکھتے ہیں کہ کسی ملک میں کرونا کا پہلا کیس کب منظر عام پر آیا، پھر ہر ماہ میں وہاں پھیلاؤ کتنا رہا اور کتنی اموات ہوئیں، اب تک کی تحقیق کے مطابق کرونا وائرس کے کسی بھی ملک میں پہنچنے کے بعد تیسرا مہینہ سب سے خطرناک اور جان لیوا ثابت ہورہا ہے اس کے بعد کیسز کی تعداد بتدریج کم ہوتی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی ادارہ صحت اور پاکستانی طبی ماہرین اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ پاکستان کےلیے مئی کا مہینہ گزشتہ مہینوں کی نسبت زیادہ جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے، چنانچہ ماہرین عوام سے مسلسل احتیاط کرنے اور گھروں میں رہنے کی اپیل کررہے ہیں۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے پہلے کیس کی تصدیق 26 فروری کو ہوئی تھی اور اب دو ماہ بعد ملک میں یہ اس وائرس کے شکار افراد کی تعداف 13 ہزار سے تجاور کرچکی ہے جبکہ283 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ خیال رہے کہ جب پاکستان میں اس وباء کو ایک مہینہ مکمل ہوا تھا تو کیسز کی تعداد11 سو سے کچھ زیادہ جب کہ محض 9 اموات ہوئی تھیں، یعنی 30 دن میں کیسز اور اموات کی شرح میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
اسی طرح بھارت میں کرونا وائرس کا پہلا کیس ریاست کیرالہ میں 30 جنوری کو سامنے آیا تھا اور وہاں 30 مارچ کو 2 مہینے مکمل ہوئے، اس عرصے میں وہاں مصدقہ کیسز کی تعداد 1259 اور اموات 38 تھیں۔ اب تیسرے مہینے کے 26 دن میں مصدقہ کیسز کی تعداد 25 ہزار سے زائد ہوچکی ہے جب کہ 780 اموات ہوچکی ہیں، یعنی تیسرے ماہ میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔
اگر امریکا میں دیکھا جائے تو وہاں کورونا وائرس کا پہلا کیس 20 جنوری کو سامنے آیا تھا۔ 20 مارچ کو وہاں 2 مہینے مکمل ہوئے تھے اور وہاں مصدقہ کیسز کی تعداد 18 ہزار 170 جب کہ اموات 241 تک پہنچ گئی تھیں۔ اب وہاں 3 ماہ اور 5 دن کا عرصہ ہوچکا ہے اور یہ تیسرا مہینہ ہلاکت خیز ثابت ہوا کیوں کہ کیسز کی تعداد ساڑھے 9 لاکھ سے زائد ہے جب کہ 55 ہزار سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ یعنی کہ دوسرے ماہ میں محض 241 اموات ہوئی تھیں جب کہ تیسرے ماہ میں مرنے والوں کی تعداد کئی گنا اضافے کے بعد 53 ہزار سے زائد ہوگئی۔
اس وباء سے متاثرہ چند بڑے ممالک میں سے ایک اسپین میں پہلا کیس 31 جنوری کو سامنے آیا تھا۔ 31 مارچ کو جب 2 ماہ مکمل ہوئے تو مصدقہ کیسز کی تعداد 94 ہزار 417 تک پہنچ گئی تھی اور ہلاکتیں 8189 تھی۔ اب وہاں 3 ماہ ہورہے ہیں اور کیسز کی تعداد 2 لاکھ 19 ہزار سے زیادہ جب کہ ہلاکتیں 22 ہزار 524 تک پہنچ چکی ہیں۔
فرانس پہلا یورپی ملک تھا جہاں کووڈ 19 کا کیس 24 جنوری کو سامنے آیا تھا اور 2 ماہ بعد یہ تعداد 22ہزار تک پہنچ گئی تھی جب کہ ہلاکتیں 1100 تھیں۔ ایک ماہ بعد اب مصدقہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ 24 ہزار جب کہ ہلاکتیں 22 ہزار 614 ہیں۔
تیسرا مہینہ شرح میں اضافے کا باعث کیوں بنتا ہے اس کے بارے میں ابھی سائنسدانوں نے کوئی باقاعدہ تحقیق تو نہیں کی اور نہ ہی جانچ پڑتال ہوئی ہے مگر غور کیا جائے تو چند عوامل ضرور نظر آتے ہیں۔ درحقیقت چین کے سوا کسی بھی ملک میں وباء کا آغاز بیرون ملک سے آنے والے کسی فرد سے ہوا ہے۔ پہلے کیس کے بعد اس وائرس کے پھیلنے کی شرح کئی ہفتوں تک بہت کم ہوتی ہے یا یوں کہہ سکتے ہیں کہ پکڑ میں نہیں آتی۔ مقامی طور پر وائرس پھیلنے کا آغاز عموماً ایک سے ڈیڑھ مہینے کے اندر شروع ہوجاتا ہے اور یہ وہ مرحلہ ہوتا ہے جب روزانہ مصدقہ کیسز کی تعداد 2 کی جگہ 3 ہندسوں میں نظر آنے لگتی ہے۔
کسی بھی ملک میں جب کیسز بڑھتے ہیں تو روزانہ مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگتا ہے اور یہ شرح ڈیڑھ سے 2 مہینے بعد بہت تیز ہونے لگتی ہے۔ پاکستان بھی اب اس مرحلے میں داخل ہوچکا ہے کیوں کہ اب یہاں روزانہ کیسز کی شرح میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے اور اسی لیے ڈاکٹرز بھی مئی کے مہینے کو پاکستان میں اس بیماری کے حوالے سے بہت اہم قرار دے رہے ہیں۔
بدقسمتی سے کرونا وائرس کے حوالے سے پاکستان کا شمار ایشیاء کے ان ممالک میں ہے جہاں اب بھارت کے بعد تیزی سے کیسز سامنے آرہے ہیں۔ پاکستان میں مارچ کے وسط میں ملک بھر میں جزوی لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا گیا جب کہ ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی سمیت ٹرانسپورٹ و کاروباری اداروں کو بھی بند کردیا گیا، مگر اس جزوی بندش میں بھی بتدریج کمی آتی چلی گئی۔ دوسری جانب ٹیسٹنگ کی شرح میں بھی اتنے عرصے میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوا اور کم ٹیسٹوں کے باوجود اتنے کیسز کی تصدیق سے عندیہ ملتا ہے کہ کئی گنا مریض ایسے ہوں گے جن میں اس کی تشخیص نہیں ہوئی۔ رمضان کے مہینے میں سماجی دوری کی کوششوں کو متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے جس سے بھی کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے، چنانچہ عوام کی انتہائی احتیاط ہی اس جان۔لیوا وبائی مرض سے بچاسکتی ہے۔
